“تم نے اپنے دین کو بیچ دیا ہے..اور میں نے اسے خرید لیا ہے.”

تم نے اپنے دین کو

برقعے میں لپٹی چہرے پر نقاب لیے ایک مسلمان عورت فرانس کی ایک سپر مارکیٹ میں خریداری کر رہی تھی، ٹرالی میں مطلوبہ سامان ڈالنے کے بعد وہ کیش کاؤنٹر کی طرف ادائیگی کیلئے بڑهی. ایک چست لباس پہنے ہوئے سیلز گرل جو اپنےنقش ونگار سے عرب لگ رہی تھی. اس نے حجاب میں لپٹی اس عورت کو ایک حقارت کی نظر سے دیکھا اور بڑبڑاتے ہوئے اس کا حساب بنانے لگی. حجابی عورت خاموش کهڑی تهی، لیکن اس کی خاموشی سیلز گرل کیلئے مزید جنجھلاہٹ کا باعث بنی. بولی. پہلے کیا کم مسائل ہیں فرانس میں ہم مسلمانوں کیلئے، روز ایک نئی مصیبت کهڑی ہوتی ہے، تمہارا یہ نقاب ہی تو ان مسائل کی جڑ ہے.۔۔۔۔۔۔۔

شادی کی پہلی رات کے لیے 10 نصیحتیں !

ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم یہاں تجارت یا سیاحت کیلئے آتے ہیں، دین کی اشاعت اور اسلاف کی تاریخ بیان کرنے نہیں.۔۔۔۔۔۔
اگر تم اتنی ہی دیندار ہو تو واپس جاؤ،،،، اپنے وطن اور جیسے چاہو رہو. ہماری جان چهوڑو.
پردہ دار خاتون نے اپنا پرس کاؤنٹر پر رکھا اور اپنے چہرے سے نقاب ہٹادیا. نیلی آنکھیں، سنہرے بال..یورپی نقوش.کہنے لگی، میں خاندانی فرانسیسی ہوں، یہ فرانس تمہارا نہیں، میرا وطن ہے، پر میرا دین اسلام ہے. بات اور کچھ نہیں ہے، بات صرف یہ ہے کہ۔۔۔۔۔!!!!!
“تم نے اپنے دین کو بیچ دیا ہے..اور میں نے اسے خرید لیا ہے.”

(Visited 94 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں