حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ ﷲ

مجدد الف ثانی

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ ﷲ کا صحیح نام ” شیخ احمد سرہندی ” ہے جبکہ کنیت ” ابوالبرکات ” ہے ۔ شیخ احمد سرہندی 15 جون 1564 کو سرہند کے علاقے میں پیدا ہوئے۔

آپ کے والد محترم کا نام شیخ عبدالاحد ممتاز عالم دین صوفی تھا ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی ۔ اور پھر خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی اس کے بعد شیخ صاحب دعوت دین میں مصروف ہو گئے۔

آپ کا سلسلہ نسب حضرت عمر فاروقؓ سے ملتا ہے ۔ مجدد الف ثانی نے اپنی تمام عمر احیائے دین میں صرف کی ۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہر ہزار سال کے بعد ایک پایہ مجدد ( سو سالوں بعد ) مبعوث فرماتے ہیں ۔ اور اس معاملے میں علما کا اتفاق ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے بعد دوسرے ہزار سال کے مجدد ” شیخ احمد سرہندی ” ہیں ۔

شیخ احمد سرہندی نے ڈٹ کر ہندو جارحیت کا مقابلہ کیا ۔ ہندو راجے اکبر کے مرد شمشیرزن تصور کیئے جاتے تھے اور ہندو رانیاں محلات کے اندر اکبر کے دل و دماغ پر سوار ہوا کرتی تھیں اسی وجہ سے ہندو مت تحریک کو دربار اکبری کی اہمیت حاصل تھی ۔ حضرت مجدد الف ثانی لکھتے ہیں کہ عہد اکبری میں ہندو بہت ذیادہ دلیر اور بے خوف و خطر ہو گئے تھے کہ متھرا کے ایک برہمن نے وہاں مسجد کی جگہ مندر بنا لیا ۔اور اتنا ہی نہیں بلکہ آپؐ کی شان میں گستاخی بھی کی ۔

اسے جب سزائے موت دی گئی تو دربار میں ہنگامہ مچ گیا ۔ تھانسز میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا وہاں بھی ہندووں نے مسجد کی جگہ مندر بنا لیا ۔ حضرت مجدد الف ثانی نے ان برے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیئے لوگوں میں احساس پیدا کیا ۔

ہندووں کا نظریہ تھا کہ تمام ادیان کی اصل ایک ہے رام اور رحیم ایک ہی ہستی کے دو نام ہیں ۔ حضرت مجدد الف ثانی نے اس غلط نظرے کا جواب اس طرح سے دیا آپ نے فرمایا کہ رام اور کرشن اسی طرح کی دو شخصیتیں ہیں جن کی ہندو پوجا کرتے ہیں ۔ رام سیتا کے شوہر تھے ۔ جب وہ اپنی بیوی کی حفاظت نہیں کر سکے تو وہ بیچارے دوسروں کی کیا مدد کریں گے ۔

رام کی پیدائش سے پہلے بھی رحمان تھا ۔ رحیم ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔ اس لیئے نا رحیم ، رام ہے اور نا ہی تمام ادیان کی اصل ایک ہے
اس کے علاوہ شیخ احمد حکومت میں بادشاہت کو اہمیت دیتے تھے ۔ وہ شیخ فرید کے نام ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ ” بادشاہ کی حیثیت جسم میں دل کی مانند ہوتی ہے اگر دل صحیح کام کرتا ہے تو پورا جسم صحیح کام کرتا ہے اور اگر دل کسی عارضے ( بیماری ) میں مبتلا ہے تو تمام جسم مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر بادشاہ پارسا ہے تق رعایا پر بھی اسکی نیکی اثر انداز ہو گی ”
اسی لیئے تو کہا جاتا ہے کہ

اقبال کی شاعری میں تصورِ مردِ مومن

” جیسا راجا ویسی پرجا “اسی وجہ سے حضرت مجدد الف ثانی نے جہانگیر پر خاص توجہ دی ۔ جہانگیر انکی تعلیمات سے بہت متاثر ہوا اور پھر اس نے شراب کی روک تھام ، مساجد کی تعمیر اور اسلام کے فروغ پر توجہ دی ۔ اور پھر حضرت مجدد الف ثانی نے اسے ” بادشاہ اسلام ” قرار دے دیا ۔

حضرت مجدد الف ثانی کو روحانیت سے خاص لگاو تھا ۔ انہوں نے ہمیشہ شریعت کی پابندی کی اور ایسے تصوف کی شدید مخالفت کی جو کہ شریعت کا تابع نا ہو ۔ قرآن و سنت پر عمل اور ارکان اسلام پر پابندی کرتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ کامیاب تھے ۔
حضرت مجدد الف ثانی بدعات کے شدید مخالف تھے ۔ وہ اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ
” لوگوں کا کہنا ہے کہ بدعات کی دو قسمیں ہیں
1) بدعت حسنہ
2) بدعت سیئہ
نیک اعمال کو بدعت حسنہ کہتے ہیں جو عہد رسالت اور خلفائے راشدین کے زمانے کے بعد پیدا ہوا اور اس سے کوئی سنت نہیں اٹھتی اور بدعت سیئہ وہ ہے جو رافع سنت ہے ۔ اس فقیر کو ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حسن و نورانیت نظر نہیں آتی اور اس لیئے سوائے ظلمت اور کدورت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا “

زونیرہ شبیر

(Visited 20 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں