بھارت کے لاہوری گیٹ سے پاکستان کے دہلی گیٹ تک

Photo: File

عمارتوں میں دروازے اور کھڑکیاں لگانے کا رواج کوئی نیا نہیں۔ یہ رواج تو ہزاروں سال پہلے سے قائم ہے جس کے تحت اگر تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو ماہرین آثار قدیمہ 5 ہزار سال قبل لگائے جانے والے ایک لکڑی کے دروازے کو دریافت کرچکے ہیں، جو کہ آج بھی موجود ہے۔ جبکہ اس حوالے سے 5 ہزار سال پرانے شہر موہن جو دڑو کی دریافت میں ماہرین آثار قدیمہ کو ملنے والے کھنڈرات نما مکانات سے اس بات کا پتا چلا ہے کہ اس وقت بھی دروازے اور کھڑکیاں مکانوں کی نہ صرف زینت ہوا کرتی تھیں بلکہ ٹو ان ون کے طور پر پردے اور حفاظت کا کام انجام دیتی تھیں۔ اسی طرح حضرت صالحؑ کی قوم یعنی قوم ثمود، جو کہ اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی تھی، اس قوم کو پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت محلات بنانے پر ایک خاص مہارت حاصل تھی۔ وہاں کے محلات اور گھروں سے بھی دروازوں کے آثار ملے تھے۔

اسی طرح جب برصغیر میں مغل بادشاہوں کی حکمرانی قائم تھی تو انہوں نے بھی شہر میں داخل ہونے اور راستوں کی رہنمائی کےلیے بڑے بڑے دروازے بنائے تھے، ان میں سے اس وقت بھارت میں جو راستہ لاہور کی جانب جاتا تھا شاہی گزرگاہ کے طور پر لاہوری گیٹ بنایا گیا، جبکہ لاہور سے بھارت کے لاہوری گیٹ تک رہنمائی کےلیے دہلی گیٹ قائم کیا، جو کہ آج بھی دونوں ممالک میں پوری آن بان شان کے ساتھ موجود ہیں۔

کیونکہ اس وقت پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم نہیں ہوئی تھی، لہٰذا دونوں ہی دروازے برصغیر کے اندر تھے اور ایک شہر سے دوسرے شہر کی رہنمائی کرتے تھے۔ مغل بادشاہوں نے صرف یہی دو دروازے نہیں بلکہ برصغیر میں لاتعداد دروازے بنائے، جن میں سے اس وقت بھارت کے شہر دہلی میں 7 دروازے جبکہ لاہور کے اندر 13 دروازوں میں سے اکثر و بیشتر اب بھی موجود ہیں، جو کہ اس وقت کے اعلیٰ فن تعمیر کی مثال پیش کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں اگر دہلی کو لیا جائے تو وہاں ماضی میں انڈیا گیٹ بنایا گیا، جس کی نہ صرف مرمت کا کام انگریزوں نے انجام دیا بلکہ اس گیٹ پر جنگ عظیم اول، دوئم اور افغان جنگ میں ہلاک ہونے والے 82 ہزار سپاہیوں کے نام بھی کندہ کروائے۔ ہلاک ہونے والے ان سپاہیوں میں 13 ہزار امریکی فوجی بھی شامل تھے۔ اسی گیٹ پر 1971 میں جنگ کے دوران شہید ہونے والوں کےلیے خصوصی آگ کا الاؤ روشن کیا گیا، جو کہ ہمیشہ روشن رہتا ہے۔ جبکہ دہلی میں ہی کشمیر کی طرف جانے والے راستے کی رہنمائی کےلیے کشمیری گیٹ تعمیر کیا گیا تھا، جسے 1857 میں ہونے والی جنگ میں شدید نقصان پہنچا تھا۔ دہلی میں ہی خونی دروازہ جسے لال دروازہ، کابلی دروازہ بھی کہا جاتا ہے، کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اسی مقام پر انگریزوں نے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دو بیٹوں اور ایک پوتے کو قتل کیا تھا۔ جبکہ اس گیٹ کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ اورنگریزیب نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ کر اسی جگہ پر لٹکائی تھی۔

Photo: File

ان ہی دروازوں کی طرح دہلی میں اجمیری گیٹ بھی موجود ہے، جس کے بارے میں بھی یہ مشہور ہے کہ راستہ راجھستان اور اجمیر شریف کی طرف جاتا ہے اور 1857 کی جنگ آزادی کا آغاز اسی مقام سے ہوا تھا۔ دہلی میں ترکمان گیٹ اور لاہوری گیٹ بھی موجود ہے۔ لاہور گیٹ کے بارے میں لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ یہ راستہ لاہور کے شاہی قلعے کی طرف نکلتا ہے اور اسے 1648 میں تعمیر کیا گیا تھا۔

جہاں تک پاکستان کے حصے میں آنے والے 13 دروازوں کا تعلق ہے، تو ان میں بھاٹی گیٹ، کشمیری گیٹ، لوہاری گیٹ، روشنائی گیٹ، شیراں والی، موچی گیٹ، ٹیکسالی گیٹ، اکبری گیٹ، دہلی گیٹ، موری گیٹ و دیگر شامل ہیں۔ جن میں سے لگ بھگ 7 دروازوں کے نام و نشان مٹ چکے ہیں، مگر 6 دروازے اب بھی موجود ہیں، جس میں سے دہلی کو جانے والے راستے پر بنائے جانے والے دہلی گیٹ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اور وہ اب بھی درست حالت میں موجود ہے۔ لوگ دور دراز سے نہ صرف دہلی کی طرف جا نے والے اس راستے کو دیکھنے کےلیے آتے ہیں بلکہ اس کے اطراف قائم بازاروں، جہاں قیام پاکستان سے پہلے کی دکا نیں موجود ہیں، سے خریداری بھی کرتے ہیں۔

لاہور میں بنائے گئے ان دروازوں کے حوالے سے ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ پہلے پورا شہر ان داخلی دروازوں کے اندر موجود تھا، مگر جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوتا گیا شہر لاہور ان دروازوں سے باہر نکل کر دور دراز تک پھیل گیا۔

دہلی گیٹ کے دونوں اطراف پرانے طرز تعمیر کی عمارتیں قائم ہیں، جہاں باقاعدہ طور پر ایک اسکول بھی ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ہی شاہی حمام بھی موجود ہے، جس کے بارے میں علاقے کے بزرگ اور ماہرین کہتے ہیں کہ دہلی گیٹ ایک شاہی گزرگاہ تھی۔ ماضی میں جب مغل بادشاہوں کی فوج یا شاہی مہمان دہلی گیٹ میں داخل ہوتے تھے تو وہ لاہور میں داخل ہونے سے قبل مغل بادشاہوں کے بنائے گئے اس شاہی حمام میں غسل کرتے تھے اور پھر پوشاک کی تبدیلی کے بعد شہر میں داخل ہوکر مہمان خانوں کا رخ کرتے تھے۔ گو اب دہلی جانے والے اس گیٹ پر مغل بادشاہوں کا نہ تو کوئی اہلکار کھڑا ہے اور نہ ہی ان بادشاہوں کی طرف سے لوگوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی عائد ہوتی ہے لیکن اس دروازے کو دیکھنے کےلیے ملک بھر سے آنے والے لوگ آج بھی ان بادشاہوں کے جاہ و جلال کو یاد کرتے نظر آتے ہیں۔

Photo: File

ضرورت اس امر کی ہے کہ لاہور شہر، جہاں آج کچھ دروازے مغل بادشاہوں کی یادگار کے طور پر اب بھی موجود ہیں، ان کی دیکھ بھال کی جانب مکمل توجہ دی جائے تاکہ وہ تاریخ کے اوراق پر یادوں کی صورت میں اسی طرح جگمگاتے رہیں۔

(Visited 1,133 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں