خدارا! موجودہ صورتحال میں ایک قوم بن کر سوچیں!

حکومت اور اپوزیشن

موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کی حکومت معیشت کو گزشتہ برسوں میں پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لئے جو اقدامات کر رہی ہے وہ سب قوم کے سامنے ہیں. وزیراعظم عمران خان کا ٹی وی اور دیگر فورموں کے توسط سے قوم کو بار بار پیغام اسی سلسلے کی کڑی ہے.

یہ حقیقت بھی مدِنظر رکھنی چاہئے کہ حکومت اپنے تئیں ملک کی معاشی بنیادیں درست کرنے کی بھرپور سعی کر رہی ہے۔ اس نے معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کا فیصلہ کرکے اقتصادی صورتحال کو مستحکم کرنے کا جو عزم کیا ہے.

اس پرہمیں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ حکومت معیشت کی بہتری کے لیے سنجیدہ ہے۔دوست ممالک سے قرض اور سرمایہ کاری کا معاہدہ ملکی معیشت کی بحالی کے لیے تھا۔ملک کو اس وقت معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایک طرف سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے.

جہاں ایک طرف الزامات کی بارش ہے تو دوسری جانب اپوزیشن ارکان اسپیکر کی جانب سے پابندی کے باوجود مختلف انداز سے سلیکٹڈ وزیراعظم کا لفظ استعمال کرتے نظر آرہے ہیں. ایک بڑی تعداد میں مخالفت کے باوجود اپوزیشن کی تمام ترامیم ضروری غور و خوض کے بغیر مسترد کر دی گئیں اور محض عددی اکثریت کے بل پر بجٹ منظور کرا لیا گیا۔

مریم نواز اور مولانا فضل الرحمان ملکر جمہوریت کا جھنڈا تھام کر میثاق معیشت پر دراڑیں ڈالنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔جولائی کا مہینہ کیا پیغام لاتا ہے یہ خود پی ٹی آئی والوں کو بھی نہیں معلوم فی الحال ان کا پورا زور بجٹ اور ایمنسٹی اسکیم کو کامیاب کرانے پر ہے۔اسمبلی میں دونوں طرف سے دھواں دار تقریریں جاری ہیں۔سیاسی جماعتیں اپنے اپنے حلقوں میں احتجاج کی اس تحریک کا آغاز کرتی ہیں تو اس سے حکومت کی رہی سہی ساکھ بھی خاک میں مل جائے گی اور عوام کو اپنے غصے کے اظہار کا ایک پلیٹ فارم میسر آئے گا۔

حالیہ کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا وہ موقف بنا ہے جس میں انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ موجودہ حکومت کو گرانے کے لئے وہ جس تحریک کی بات کر رہے ہیں اس کی بنیاد مذہب پر رکھی جائے۔ عوام مذہبی جذبات کی رو میں بہہ کر عمران خان صاحب کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے اور یوں ہم حکومت کو چلتا کریں گے۔

اگر سیاسی نقتہ نظر سے دیکھے تو سیاسی منظر نامے کا سب سے طاقتور کھلاڑی آج بھی نواز شریف ہی ہے جس کی لاٹھی اب مریم نواز نے سمبھالی ہے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ معیشت کو جو بیماری لگ گئی ہے اس کا علاج نئے انتخابات ہیں۔

پیپلز پارٹی سے لڑانے کی کوشش بھی کریں گے تو ہم نہیں لڑیں گے، ہمسایوں سے عزت اور برابری کی بنیادوں پر تعلقات قائم ہونا چاہئیں تو دوسری طرف بلاول بھی آصف علی زرداری کے نقشِ قدم سے کچھ آگے بڑھ کر جمہوریت پر زور دیتے نظر آرہے ہیں یہ سب جانتے ہیں کہ آصف علی زرداری پر کرپشن کے الزامات اس روز سے ہیں جب سے انہوں نے بے نظیر بھٹو سے شادی کی لیکن اس کے باوجود آج بھی ایک مضبوط سیاستدان ہیں۔

مسکراہٹ اور جوابات تو ایسے دے مارتے ہیں صحافیوں کو جیسے جیل آنا جانا تو کوئی عام بات ہے بلاول اس وقت سیاسی داﺅ پیچ میں بھی آگے آگے ہیں البتہ جو والد کی گرفتاری پر ہلکی مسکراہٹ چہرے پر عیاں ہوتی ہے اسکو کچھ لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔موجودہ سیاسی منظر نامہ جو بھی ہے اس وقت یہاں پِس صرف عوام رہی ہے جو آج عوام کا رونا اپنا رونا بتارہے ہیں انکی سیاست اور انسانیت اس وقت کہاں تھی؟ جب منی لانڈرنگ کی جارہی تھی جب اثاثے بیرون ملک بنائے جارہے تھے اور جب سوئس بینک میں پاکستانیوں کا پیسہ اپنے نام پر جمع کروایا گیا؟

بائیس کروڑ پاکستانیوں کے سامنے حالات کا عملی نقشہ یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں محض الزام تراشی کی سیاست میں الجھی ہوئی ہیں۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف وفاقی وزیر توانائی گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافوں کا اعلان اس اقدام کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو قرار دیتے ہوئے کررہے ہیں اور دوسری طرف وزیراعظم اور حزبِ اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کے ایک دوسرے کے خلاف الزامی بیانات بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ اخبارات کی زینت بنے ہوئے ہیں اپوزیشن حکومت کو کسی صورت برداشت کرنے پر تیار نہیں ہے۔

کیا پاکستان کبھی قرضوں کے دلدل سے نکل پائے گا؟

وزیرِاعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سابق حکمران خود ہی ڈالرمہنگا کرنے کے ذمے دار ہیں جو ڈالر باہر لے جاتے رہے، روپے کی قدرگرنے کی ذمے دار حکمران اشرافیہ ہے جو ملک سے منی لانڈرنگ کرتی رہی۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ معاشی خسارے کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے، جنہوں نے عوام کا پیسا چوری کیا وہ اسمبلی میں آکر تقریریں کیسے کرسکتے ہیں۔جنرل باجوہ نے اس بنیادی نکتے کو بھی بخوبی واضح کیا کہ آج کے دور میں ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں جس کے لیے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات اور امن ضروری ہے تاکہ مشترکہ معاشی سرگرمی اور باہمی تجارت کی راہیں کشادہ ہو سکیں معاشی استحکام کے بغیر کسی قسم کی خود مختاری ممکن نہیں مشکل حالات میں کوئی فرد تنہا کامیاب نہیں ہو سکتا، سنگین چیلنجوں کا مقابلہ قومی اتحاد ہی سے کیا جا سکتا ہے اور آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب ایک قوم بن کر سوچیں۔

رشوت، بدعنوانی جو کہ پورے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے حکومت کو اس طرف مناسب توجہ دینی چاہئے ذمیندار ،جاگیر دار ،نواب ، چودھری منہ زورہو کرقوم کو پھر سے بے وقوف بنانے آجائیں گے قوم کا بہترین نظام لانے کا خواب ختم ہوجائے گا اس وقت ہر سیاست دان اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش میں ہے اور عمران خان کو ہر صورت میں نیچا دکھانے کی آخری کوشش میں لگا ہوا ہے یہ وہی سیاست دان ہیں جن کی کرپشن کی داستانیں منظرِعام پر آنے کے بعد عوام نے ان سے منہ پھیر لیا اور اپنا رکھ پی ٹی آئی کی جانب کرلیا آج یہ کرپٹ سیاستدان پاکستان کی معشیت کو گرتا دیکھ کر الٹا تیر موجودہ حکومت کی جانب کردیا اس وقت عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کو کرائیسس سے نکالنے کی حکومت سر جوڑ کوشش کررہی ہے اس کے لیے کچھ وقت ضرور لگے گا پر یقیناً آنے والے وقتوں میں حالات بدتر سے بہتر ہوجائیںگے۔

موجودہ صورتحال
تحریر: مہک سہیل ،کراچی
بشکریہ پریس لائن انٹرنیشنل

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں