گھوگا

مائی نانکی

میں جب ہسپتال میں داخل ہوا تو چھٹے روز میری حالت بہت غیر ہو گئی۔ کئی روز تک بے ہوش رہا۔ ڈاکٹر جواب دے چکے تھے لیکن خدا نے اپنا کرم کیا اور میری طبیعت سنبھلنے لگی۔ اس دوران کی مجھے اکثر باتیں یاد نہیں۔

دن میں کئی آدمی ملنے کے لیے آتے۔ لیکن مجھے قطعاً معلوم نہیں، کون آتا تھا، کون جاتا تھا، میرے بسترِ مرگ پر جیسا کہ مجھے اب معلوم ہوا، دوستوں اور عزیزوں کا جمگھٹا لگا رہتا، بعض روتے، بعض آہیں بھرتے، میری زندگی کے بیتے ہوئے واقعات دہراتے اور افسوس کا اظہار کرتے۔ جب میری طبیعت کسی قدر سنبھلی اور مجھے ذرا ہوش آیا تو میں نے آہستہ آہستہ اپنے گردوپیش کا مطالعہ کرنا شروع کیا۔ میں جنرل وارڈ میں تھا۔ دروازے کے اندر داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ کا پہلا بیڈ میرا تھا۔ دیوار کے ساتھ لوہے کی الماری تھی۔

جس میں خاص خاص دوائیں اور آلاتِ جراحی تھے، دیگر سامان بھی تھا۔ مثلاً گرم پانی اور برف کی ربڑ کی تھیلیاں، تھرما میٹر، بستر کی چادریں، کمبل اور رُوئی وغیرہ۔ اس کے علاوہ اور بے شمار چیزیں تھیں، جن کا مصرف میری سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ کئی نرسیں تھیں، صبح سات بجے سے دو بجے دوپہر تک۔ دو بجے سے شام کے سات بجے تک، چار چار نرسوں کی ٹولی، اس وارڈ میں کام کرتی۔ رات کو صرف ایک نرس ڈیوٹی پر ہوتی تھی۔ رات کو مجھے نیند نہیں آتی تھی۔

یوں تو اکثر آنکھیں بند کیے لیٹا رہتا۔ لیکن کبھی کبھی نیم مُندی آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھ لیتا کہ کیا ہورہا ہے۔ ان دنوں جو نرس رات کی ڈیوٹی پر ہوتی تھی، وہ اس قدر مختصر تھی کہ اسے کوئی بھی اپنے بٹوے میں ڈال سکتا تھا۔ گہرا سانولا رنگ، ہر عضو ایک خلاصہ، ہر خدوخال تمہید کی فوری تمت، انتہا درجے کی غیر نسوانی لڑکی تھی، معلوم نہیں، قدرت نے اس کے ساتھ اس قسم کا غیر شاعرانہ سلوک کیوں کیا تھا کہ وہ شعر تھی نہ رباعی، نہ قطعہ۔ البتہ استاد امام دین کی تُک بندی معلوم ہوتی تھی۔ ہر نرس کا کوئی نہ کوئی چاہنے والا موجود تھا، مگر اس غریب کا کوئی بھی نہیں تھا۔ میں نرسنگ کے پیشے کو باوجود اس کی موجودہ گراوٹوں کے احترام کی نظر سے دیکھتا ہوں۔ اس لیے مجھے اس نرس سے جس کا نام مس جیکب تھا، بڑی ہمدردی تھی۔ اس سے کوئی مریض دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ ایک شام کو جب وہ آئی اورمیرے بستر کے پاس سے گزری تو میں نے اپنی نحیف آواز میں اس سے کہا:

’’السلام علیکم مس جیکب۔ ‘‘

اُس نے میری آواز سن لی۔ فوراً رُک کر اس نے جواب دیا

’’سلاما الیکم۔ ‘‘

بس اس کے بعد میرا یہ دستور ہو گیا کہ جب وہ شام کو ڈیوٹی پر آتی تو وارڈ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے اس کو میری السلام علیکم سُنائی دیتی۔ مجھے نیند آنا شروع ہو گئی تھی، لیکن صبح ساڑھے پانچ بجے جاگ جاتا۔

’’مِس جیکب رات بھر کی جاگی ہوئی، مریضوں کے ٹمپریچر لینے میں مصروف ہوتی۔ جب میرے بستر کے پاس آتی تو میں پھر اسے سلام کرتا۔ السلام علیکم کایہ سلسلہ بڑا دلچسپ ہو گیا، وہ اس لحاظ سے چڑ گئی کہ پہل میں کیوں کرتا ہوں۔ چنانچہ اس نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ وہ مجھ سے مسابقت لے جائے، مگر اسے ناکامی ہوئی، لیکن ایک روز صبح سویرے جب کہ زیادہ دیر تک جاگنے کے باعث میری آنکھ لگ گئی تھی۔ جب وہ میرا ٹمپریچر لینے کے لیے آئی، تو اس نے اپنی مہین پتلی آواز کو زور داربنا کر کہا

’’سلاما الیکم۔ ‘‘

میں چونک پڑا۔ آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ مِس جیکب کا مختصر وجود میرے سامنے کھڑا مسکرا رہا ہے۔ میں نے بڑی فراخ دلی سے اپنی شکست تسلیم کی اور اس کے مطابق مناسب و موزوں مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر پیدا کرکے جواب دیا۔

’’وعلیکم السلام مس جیکب۔ آج تو آپ نے کمال کردیا۔ ‘‘

وہ بے حد خوش ہوئی، چنانچہ اس خوشی میں اس نے میرا دو مرتبہ ٹمپریچر لیا کہ پہلی دفعہ اس نے تھرما میٹر اچھی طرح جھٹکا نہیں تھا۔ ایک رات جبکہ مجھے بالکل نیند آرہی تھی اور میں بار بار اپنی گھڑی دیکھ رہا تھا کہ دن ہونے میں کتنی دیر ہے۔ بارہ بجے کے قریب میں نے اپنی دُھندلی آنکھوں سے دیکھا کہ وارڈ کے وسط میں جو میز پڑا ہے، اس کے ساتھ کرسی پر مس جیکب اپنے تمام اختصار کے ساتھ بیٹھی ہے۔ اور ایک مریض جو موٹا تھا، اس سے ہم کلام ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ چونکہ خاموشی تھی، اس لیے میں اس کی گفتگو سُن سکتا تھا، وہ نرس سے بڑے یتیمانہ قسم کے عشق کا اظہار کرنے کی سعی کررہا تھا۔ پہلے وہ کچھ دیر چپڑاسیوں کے مانند جن کا صاحب اپنی مسند پر موجود ہو، کھڑا رہا۔ پھر وہ اس سے مخاطب ہوا۔ :

’’نرس صاحبہ۔ کیا اس وقت آپ مجھے اسپرین کی گولی دے سکتی ہیں؟‘‘

مس جیکب غالباً رپورٹ لکھنے میں مصروف تھی۔ اس نے اس موٹے مریض کی طرف دیکھا۔ قلم میز پر رکھ کراُٹھی اور اس الماری میں سے جو میرے بستر کے قریب تھی، اسپرین کو ایک گولی نکال کر اس کے حوالے کردی۔ رات کے دو بج گئے۔ میں جاگ رہا تھا لیکن میری آنکھیں بند تھیں۔ آہٹ ہوئی تو میں نے کروٹ بدل کر دیکھا کہ وہی موٹا مریض الماری کھول کر اسپرین کی گولیاں نکال رہا ہے، بالکل اس طرح جیسے کوئی چوری کررہا ہے۔ میں نے کوئی مداخلت نہ کی۔ میں نے دوسرے دن نرس نعیمہ حق سے جو ہر صبح میرا بدن چھوٹے چھوٹے تولیوں سے کنکنے پانی میں صابن کہ ساتھ صاف کیا کرتی تھی، اور پرلے درجے کی شریر تھی، پوچھا کہ

’’انیس نمبر کے بیڈ کا مریض کون ہے؟‘‘

اس کا سانولا چہرہ سوال بن گیا۔

’’آپ اُس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘

میں نے اس سے کہا:

’’تم جانتی ہو، میں افسانہ نگار ہوں، مجھے ہر شخص سے دلچسپی ہے، خواہ وہ مریض ہی کیوں نہ ہو؟‘‘

’’اس میں کیا بات ہے؟‘‘

’’جو تم میں ہے۔ تم شریر ہو، وہ چور ہے۔ ‘‘

’’نعیمہ حق کو میری یہ بات ناگوار معلوم ہوئی۔

’’شرارت اور چوری کو آپ ایک ہی بات سمجھتے ہیں۔ ‘‘

وہ میرے بالوں بھرے سینے پر تولیہ پھیر رہی تھی۔ میں نے اپنے کمزور ہاتھ سے اس کے گال پر ہولے سے چپت لگائی اور کہا:

’’میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ تم میرے سوال کا جواب دو کہ انیس نمبر کے بیڈ کا جو مریض ہے اس کا کیا نام ہے؟‘‘

نعیمہ نے جواب دیا

’’گھوگا۔ ‘‘

’’یہ کیا نام ہے؟‘‘

’’بس ہے۔ ہم نے رکھ دیا ہے۔ ‘‘

میں اس سے کچھ اور پوچھنے ہی والا تھا کہ نعیمہ نے اُبالی ہوئی سرنج پکڑی اور اس میں ایک سی سی وٹامن بی کمپلیکس ڈال کر سُوئی میرے سوکھے ہوئے بازو میں کھبو دی، مجھے سخت درد ہوا، اس لیے میں گھوگا کو بھول گیا۔ مگر اتنے میں عذرا آگئی۔ یہ نرس نعیمہ سے چار سی سی آگے تھی۔ ان دونوں میں جو گفتگو ہوئی، اس سے مجھے معلوم ہوا کہ انیس نمبر کے بیڈ کے مریض کا نام ان دونوں نے مل کر تجویز کیا ہے۔ عذرا نے پہلے میری خیریت پوچھی، پھر کہا:

’’خیریت تو ہے آپ گھوگے کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ ‘‘

میں نے درد کے باعث ذرا تلخ لہجے میں کہا:

’’گھوگا جائے جہنم میں۔ اور تم بھی اس کے ساتھ۔ ‘‘

عذرا مسکرائی۔

’’میں تو اس کے ساتھ جہنم کی آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہوں۔ ‘‘

نعیمہ نے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘

عذرا نے جواب دیا۔

’’وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، میں اس سے محبت کرتی ہوں۔ ‘‘

نعیمہ نے عذرا کے چٹکی لی، اور بڑے زور سے کہا:

’’وہ تو مجھ سے محبت کرتا ہے۔ چلو آؤ۔ ابھی فیصلہ کرلیں۔ گھوگا سے پوچھ لو، ابھی کل ہی مجھ سے کہہ رہا تھا کہ وہ اپنے دو مکان میرے نام لکھ دے گا۔ ‘‘

عذرا نے مکھی مار چھڑی نعیمہ کے سر پر ماری۔

’’وہ دو مکان کیا، دو اینٹیں بھی تمہارے نام نہیں لکھے گا۔ وہ گھوگا ہے۔ بہت بڑا گھوگا۔ تم اس کو ابھی تک نہیں پہچانی ہو۔ ‘‘

اس کے بعد مجھے چند روز میں اس موٹے مریض کے متعلق عجیب و غریب باتیں معلوم ہوئیں۔ جس کو نعیمہ اور عذرا نے گھوگے کا نام دے رکھا تھا۔ اس کا نام غلام محمد تھا۔ ماسٹر غلام محمد۔ بی اے، بی ٹی۔ کسی مڈل سکول کا ہیڈ ماسٹر، اس کو دمے کا مرض تھا، بڑی شدید قسم کا دمہ تھا۔ جب اسے دورہ پڑتا تو سارا وارڈ اس کے دھونکنی ایسے چلتے ہوئے سانسوں کے زیرو بم سے گھنٹوں گونجتا رہتا۔ لیکن اس حا لت میں بھی وہ نظر بازی سے نہ ٹلتا۔ اس کی عمر چالیس سے کچھ اوپر ہو گئی، مگر کنوارا تھا۔ میری اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے مجھے بتایا کہ اس نے شادی اس لیے نہیں کی کہ وہ دمے کا مریض ہے۔ کسی لڑکی کی زندگی کیوں خراب کرئے۔ اس کی دو بہنیں تھیں جو عمر میں اس سے کچھ چھوٹی تھیں۔ یہ بھی کنواری تھیں۔ ان کے متعلق مجھے صرف اتناہی معلوم ہوا کہ بڑی ہیلتھ وزیٹر ہے اور چھوٹی استانی۔ یہ دونوں بلاناغہ آتیں اور گھوگے کے پاس اپنے برقعوں سمیت ایک آدھ گھنٹہ بیٹھ کر چلی جاتیں۔ وہ اس کے ناشتے اور دو وقت کے کھانے کے لیے پراٹھے اور سالن وغیرہ لایا کرتی تھیں۔ اس کو ایسے ٹیکے لگ رہے تھے جن سے اشتہا بڑھ جاتی ہے۔ لیکن اس بات کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے کہ مریض زیادہ نہ کھائے تاکہ اس کا وزن نہ بڑھے مگر گھوگا بلاخور تھا۔ گھر سے جو آتا چٹ کر جاتا۔ پھر اس کے ساتھ والے بیڈ پر ایک بنگالی نوجوان تھا جو عرصے سے ٹائی فائیڈ میں گرفتار تھا۔ اُس کو بھوک نہیں لگتی تھی۔ گھوگا اس کا کھانا بھی اپنے پیٹ میں ڈال لیتا۔ مگر نعیمہ نے مجھے بتایا کہ ہسپتال سے جو اُسے مفت کھانا ملتا ہے، اس کے علاوہ وہ اِدھر اُدھر سے اور اکٹھا کرتا ہے اور اپنی بہنوں کے حوالے کردیتا ہے۔ ایک رات جبکہ مجھے نیند آنے ہی والی تھی، میں نے دیکھا کہ گھوگا دبے پاؤں چلا آرہا ہے۔ رات کی نرس کسی دوسرے وارڈ کی نرس سے باتیں کرنے میں مشغول تھی۔ گھوگے نے الماری کھولی اور اس میں کئی چیزیں نکال کر اپنی جیب میں ڈال لیں۔ مجھے اس کی یہ حرکت بہت بُری معلوم ہوئی۔ لیکن میں اس سے کچھ نہ کہہ سکا اس لیے کہ مجھے کوئی فیصلہ کرنے میں دیر ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہر روز الماری میں سے چیزیں چُراتا اور میں اسے ٹوک نہ سکتا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ جب اسے دوائیں برابر ملتی ہیں تو وہ اور دوائیاں جو اس کے مرض دمے کا علاج نہیں تھیں، کیوں اس طریقے سے حاصل کرتا ہے؟ نعیمہ حق سے میں نے پوچھا تو اس نے مخصوص انداز میں گردن کو ایک خفیف سی جنبش دے کر اور اپنے سانولے ہونٹوں پر ان سے زیادہ گہرے رنگ کی مسکراہٹ پیدا کرکے کہا:

’’جناب اتنے بڑے رائٹر بنے پھرتے ہیں، آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ جتنی دوائیاں اور انجکشن چُراتا ہے، اپنی بہن کو جو کہ ہیلتھ وزیٹر ہے، دے دیتا ہے۔ اس کو روزانہ بیڈ کے لیے ایک روپیہ دینا پڑتا ہے۔ بہت بڑا گھوگا ہے، اس لیے وہ اس خرچ کی کسر یوں پوری کرلیتا ہے۔ بلکہ اس کو کچھ پروفٹ ہی ہوتا ہے۔ ‘‘

نعیمہ کا یہ کہنا درست تھا۔ اس لیے کہ میری بیوی کے بیان سے اس کی تصدیق ہو گئی۔ اس کو گھوگے سے سخت نفرت تھی۔ ہسپتال سے جو کچھ ملتا تو وہ اپنی بہن کے سپرد کردیتا، کھانا بھی۔ ایک اور نرس رفیقہ تھی۔ وہ اس مریض کا نام بھی نہیں لینا چاہتی تھی۔ شکل صورت کی معمولی مگر جوان تھی۔ ہر وقت اپنے سفید فراک کو پیٹی کے نیچے کھینچتی اور پھر اپنے سینے کے اُبھاروں کو پسندیدہ نگاہوں سے دیکھتی مگر کردار کے لحاظ سے وہ دوسری نرسوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مضبوط تھی، اس کو گھوگے سے اس لیے نفرت تھی کہ وہ اس سے بے معنی باتیں کرتا تھا۔ دراصل وہ ہر نرس سے بے معنی یا با معنی باتیں کرنے کا عادی تھا۔ میں نے کئی بار دیکھا کہ پہلے اس نے کسی نرس سے رسمی بات چیت کی۔ اس کے بعد بستر پر سے اٹھ کر اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ کچھ اس بھونڈے طور پر کہ وہ غریب اکتا گئی، اور اس نے جو دوا مانگی، الماری میں سے نکال کر اس کو دے دی کہ چھٹکارا ملے۔ قریب قریب ہر نرس اس سے متنفّر تھی۔ مجھے خود وہ بہت ناپسند تھا، میرے بستر کی طرف رخ کرتا تو میں چادر اوڑھ لیتا کہ اس کو یہ معلوم ہو کہ میں سو رہا ہوں۔ اس کا بات چیت کا انداز مجھے کَھلتا تھا، یہی وجہ ہے کہ میں نے اسے کبھی برداشت نہ کیا۔ مجھ سے دو تین مرتبہ اس نے چند روپے بطور قرض لیے اور واپس نہ دیے۔ مجھے اس کا کوئی خیال نہ تھا۔ لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ یہ پندرہ روپے اس نے مجھ سے اس لیے حاصل کیے تھے کہ اس کو دس ایک خاص دوا کے لیے خرچ کرنا پڑے تھے جو ہسپتال میں نہیں تو میری طبیعت بہت مکدّر ہوئی اور میں نے دل ہی دل میں اس کو سینکڑوں گالیاں دیں۔ پھر تمام ڈ اکٹروں پر اس کے ذلیل کردار کی وضاحت کردی۔ وہ پہلے میری بتائی ہوئی باتیں نہ مانے۔ انہوں نے کبھی ایسا مریض دیکھا تھا نہ سنا۔ مگر نرسوں سے پوچھ گچھ کے بعد ان کو حقیقت معلوم ہو گئی اور انہوں نے گھوگے کورخصت کردینے کا فیصلہ کرلیا۔ مجھے اس کا علم تھا۔ چنانچہ میں نے محض اپنا دل ٹھنڈا کرنے کی خاطر اس کو اپنے پاس بُلایا اور کہا:

’’سنا ہے آپ کل پرسوں جانے والے ہیں۔ ‘‘

گھوگے نے اپنے نیم گنجے سر پر ہاتھ پھیرا اور تعجب کا اظہار کیا

’’بڑے ڈاکٹر صاحب نے تو مجھ سے کہا تھا کہ چُھٹی لے لو۔ اور میں ایک مہینے کی لے چکا ہوں۔ ‘‘

میرا دل ڈوبنے سا لگا۔ ایک مہینہ اور۔ تیس دن مزید۔ چوریوں کے۔ نرسوں کے پیچھے چلنے اور ہاتھ مَل مَل کے دوائیں مانگنے کے۔ بڑے ڈاکٹر صاحب بہت نرم دل تھے۔ میں نے سوچا یقیناً گھوگے نے اپنے مخصوص، لسوڑے کی لیس ایسے انداز میں ان کی منت خوشامد کی ہو گی اور انہوں نے اپنا پیچھا چھڑانے کے لیے اس کو ایک ماہ اور ہسپتال میں رہنے کی اجازت دے دی ہو گی۔ مگر اُسی دن گھوگا انتہائی افسردگی کے عالم میں میرے پاس آیا اور کہنے لگا

’’میں کل جارہا ہوں‘‘

مجھے بڑی خوشی ہوئی:

’’مگر ماسٹر صاحب آپ نے تو ایک مہینے کی چھٹی لی ہے، ابھی ابھی۔ ‘‘

اُس نے آہ بھر کر جواب دیا :

’’ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ تمہارا کافی علاج ہو چکا ہے۔ اب تم گھرمیں آرام کرو۔ ‘‘

میں نے کہا :

’’یہ بہتر ہے‘‘

لیکن گھوگے کا چہرہ بتا رہا تھا کہ گھرمیں اسے چرانے کے لیے دوائیں نہیں ملیں گی۔ نرسیں بھی نہ ہوں گی، جھک مارے گا وہاں۔ میں صبح چار ساڑھے چار بجے کے قریب سویا۔ دس بجے آنکھ کُھلی۔ نعیمہ حق میرے پاس کھڑی تھی، دراصل اسی نے مجھے جگایا تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ مجھے کوئی خبر سنانا چاہتی ہے۔ مجھے زیادہ دیر تک انتظار نہ کرنا پڑا۔ مکھی مار چھڑی سے میرے بستر پر چند غیر مری مکھیاں مارنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا:

’’گھوگا گیا‘‘

میں نے کہا۔

’’ہاں سنا تھا کہ وہ جارہا ہے۔ ‘‘

نعیمہ کے سانولے ہونٹوں پر سکڑتی ہوئی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

’’اور وہ بھی گئی۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کون‘‘

نعیمہ نے جواب دیا۔

’’وہ۔ مس جیکب۔ جس کے متعلق آپ کہا کرتے تھے کہ اتنی مختصر ہے کہ بٹوے میں سما سکتی ہے۔ لیکن گھوگے کے پاس تو کوئی بٹوہ نہیں تھا۔ ‘‘

مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ مس جیکب کو گھوگے میں کیا نظر آیا یا گھوگے کومس جیکب میں کیا خوبی دکھائی دی۔ لیکن تیسرے روز جیکب نائٹ ڈیوٹی پر تھی۔ جب وہ صبح میرے بستر کے قریب آئی تومیں نے زور سے اسلام علیکم کہا۔ اس نے چونک کر دھیمی آواز میں اس سلام کا جواب دیا اور میرا ٹمپریچر لیے بغیر چلی گئی۔ سات بجے جب دوسری نرسیں آئیں تو نعیمہ نے میرا بدن پونچھنے کے لیے گرم پانی تیار کرتے ہوئے اپنے سانولے ہونٹوں پر کنکنی مسکراہٹ پیدا کرتے ہوئے کہا۔

’’گھوگے کے پاس بٹوہ نہیں تھا، اس لیے آپ کی مس جیکب واپس تشریف لے آئی ہیں۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیا ہوا؟‘‘

نعیمہ نے گرم گرم پانی میں تر کیا ہوا تولیہ میرے بازو پر رکھ دیا،

’’کچھ خاص تو نہیں ہوا۔ صرف مِس جیکب کے کانوں کی دو سونے کی بالیاں گم ہو گئی ہیں۔ شاید گھوگے کی بہن کے کان بُچے ہوں گے۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں