پرسکون نیند نہ آنا ایک بیماری

بیماری
Loading...

اس میں کوئی شک نہیں کہ پر سکون نیند ہی انسان کی صحت کو بہتر بنانے سمیت اسے ہر کام بر وقت کرنے میں مدد بھی فراہم کرتی ہے۔

پر سکون اور مکمل نیند جہاں انسان کو ذہنی طور پر توانا رکھتی ہے، وہیں اس سے انسان کئی بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔

اگرچہ ماہرین صحت پہلے بھی یہ کہ چکے ہیں کہ نیند کی کمی انسان کو بلڈ پریشر سمیت ذیابیطس جیسے امراض میں مبتلا کر سکتی ہے۔

وہیں اب ایک مختصر ہونے والی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پرسکون نیند نہ کرنے والے ادھیڑ عمر یا زائد المعر امراد خطرناک مرض کا شکار بن جاتے ہیں۔

ہیلتھ جرنل ’سائنس ٹرانسلیشن میڈیسن’ (ایس ٹی ایم) میں شائع ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی طویل عرصے تک ایک مختصر تحقیق سے پتہ چلا کہ پرسکون نیند کی کمی ادھیڑ اور زائد العمر افراد کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے۔

واشنٹگن یونیورسٹی آف میڈیسن کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ پرسکون نیند نہ کرنے والے زائد العمر افراد کے الزائمر میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نیند میں خلل، نیند کا نہ آنا یا پھر پرسکون نیند نہ کرنے سے 60 سال اور اس سے زائد عمر والے افراد فوری طور پر متاثر ہوتے ہیں اور انہیں ابتدائی طور پر ذہنی مسائل اور بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Loading...

 پائرولو کوئنالن کوئنون (Pyrroloquinoline quinone) مزید پڑھیں: صحت کے لیے جادوئی اثرات رکھتا ہے

رپورٹ کے مطابق پرسکون نیند نہ کرنے والے زائد العمر افراد نیند کی خرابی کی مسلسل شکایت کے بعد یاد داشت کھونے لگتے ہیں اور پھر انہیں الزائمر لاحق ہوجاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تحقیق کے دوران ماہرینکی جانب سے 160 افراد کا کئی ماہ تک جائرہ بھی لیا گیا۔

رضاکاروں کی نیند کے جائزے سے معلوم ہوا کہ جو افراد پر سکون نیند نہیں کرتے یا ان کی نیند پوری نہیں ہوتی، وہ جلد ذہنی بیماریوں کا شکار بن جاتے ہیں جو بعد ازاں الزائمر میں بدل جاتی ہے۔

رپورٹ میں نوجوانوں میں نیند کی کمی یا ان کی جانب سے پر سکون نیند نہ کرنے کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔

ساتھ ہی بتایا گیا کہ پر سکون نیند نہ کرنے کے بعد ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہونے والے لاکھوں امریکی افراد ہر سال الزائمر کا شکار بن جاتے ہیں۔

(Visited 67 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں