ایک اور معاشی پیکیج اور خوشنما دعوے

معاشی پیکیج

وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 6سے 8ارب ڈالر قرضہ پروگرام پر پالیسی سطح پر معاہد ہ طے پاگیا ہے اور ایکسچینج ریٹ، مالیاتی خسارہ، بجلی کا نظام، سرکاری اداروں کی بحالی اور بجٹ سے متعلق معاملات طے پاگئے ہیں ، آئی ایم ایف کا مشن وفد رواں ماہ اپریل کے آخری ہفتے میں پاکستان کا دورہ کریگا جس میں تکنیکی سطح کی تفصیلات طے کی جائیگی اور حتمی معاہدہ ہو گا، آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد عالمی بنک سے 7سے 8ارب ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بنک بھی سے 6ارب ڈالر ملیں گے، جس سے زرمبادلہ ذخائر بڑھیں گے، کیپیٹل مارکیٹ کی حالت بہتر اور معاشی استحکام نظر آئیگا، آئی ایم ایف کو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر اعتراض ہے نہ دفاعی بجٹ میں کمی سے متعلق کوئی شرط،بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز نہیں۔

عالمی مالیاتی ادارے سے چھ سے آٹھ ارب ڈالر کا یہ قرض جو بظاہر یقینی نظر آتا ہے ہمارا 22واںقرض ہوگا۔ اس سے پہلے 1958 سے 2013 تک ہم اس عالمی ادارے سے 21بار قرض لے چکے ہیں۔اورجو کام بائیسویں باردہرایا جا رہا ہو عام حالات میں اس میں کیا خبر یت ہو سکتی ہے لیکن قومی معیشت کی کسمپرسی اس درماندہ قوم کے لیے اس قرض کو بھی ایک بڑی خبر بنا دیتی ہے۔

قومی معیشت کے عالی دماغ جس کے لیے مہینوں قوم سے پہیلیاں بجھواتے اور قرض مانگنے کی گھسی پٹی رسم بھی اس طرح رنگ آمیزی کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ عوام کا تجسس ماند نہیں پڑنے دیتے۔

قرض مانگنا تو ایک آرٹ ہے ہی مگر اسے عوامی دلچسپی کی خبر بنا دینا بھی کوئی معمولی بات نہیں۔وزیرخزانہ کے اس گن پر فکر کرنا چاہیے کہ ان کے پیش رو وزرائے خزانہ میں سے شاید کوئی یوں مہینوں تک عوام کو آئی ایم ایف کے قرض معاہدے کی بحث کے گرد نہ گھما سکا۔

عالمی مالیاتی فنڈ سے اب تک جتنی بار بھی قرض لیے گئے ہر مرتبہ رقم مختلف تھی، واپسی کی شرائط بھی مختلف ۔ فنڈ سے سب سے بڑی رقم تاحال 2008 میں حاصل کی گئی جو 7.2ارب ڈالر تھی جبکہ تازہ قرض کا حجم 6اور 8ارب ڈالر کے درمیان ہونا متوقع ہے۔

آزادی کے بعد پہلے 11سال ہم نے مالیاتی فنڈ کی مدد کے بغیر گزارے۔ اس کے بعد صرف دو مرتبہ زیادہ سے زیادہ سات برس کی مدتیں ایسی آئیں کہ فنڈ کی مدد کے بغیر ہمارا گزارا ممکن ہوسکا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 22قرضوں میں سے 13 بشمول 2019 کے متوقع قرض کے پاکستان نے آئی ایم ایف سے بیل آﺅٹ کی خاطر لیے۔=

اس قرض کا مقصد دیوالیہ ہونے سے بچنا ہوتا ہے یعنی اپنے پرانے قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگی جاری رکھنے کی خاطر۔ سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ تقاضا کیا جارہا ہے کہ حکومت مالیاتی فنڈ کے ساتھ جو شرائط طے کر رہی ہے انہیں پارلیمنٹ میں غور کے لیے پیش کیا جائے، تاکہ پوری قوم ان شرائط پر یکسو ہو سکے جو فنڈ کے ساتھ طے ہونے والی ہیں۔

جمہوری حکومت میں شرائط اور معاہدے خفیہ نہیں ہونے چاہئیں یہ بات اصولی طور پر درست ہے اور اس میں دو آرا نہیں۔ حکومت سے یہ تقاضا بھی زور دے کر کرنا چاہیے کہ وہ صراحت کے ساتھ عوام کے سامنے یہ بات لائے کہ آئی ایم ایف سے آئندہ قرض کی شرائط اور اس کا استعمال پہلے کی نسبت کس طرح مختلف ہوگا۔ اس لیے کہ حکومت کئی مرتبہ دعویٰ کرچکی ہے کہ 2019 میں لیا جانے والا قرض مالیاتی فنڈ سے پاکستان کے لیے آخری قرض ہوگا۔

اگرچہ دعویٰ بہت اچھا ہے لیکن اس دعوے کے آگے اورپیچھے کوئی حکمتِ عملی بھی تو ہونی چاہیے۔ ہوا میں محل تعمیر نہیں ہونے چاہئیں۔ حکومت نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ ایسا کیونکر ہو گا۔ پچھلے 60سال سے توان قرضوں کا سلسلہ باقاعدگی سے چل رہا ہے آئندہ کچھ تو نیا ہونا چاہیے تب ہی یہ سلسلہ ختم ہوگا۔

کھانے سے لطف اندوز ہونے کے لیے کس جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے؟

یہی جاننے کے لیے ہم سب بے چین ہیں۔ قرض لینا اور وہ بھی دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے کوئی عزت کی بات نہیں اور نہ ہی باعزت قوموں کا شیوہ ہے۔ ہاں اگر قرض ایسے استعمال کیا جائے کہ ملکی معیشت گرداب سے نکل آئے اور آئندہ قرض مانگنے کی شرمندگی سے نجات مل جائے تو قرض لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

اسدعمرنے یہ توبتایاکہ آئی ایم ایف اوردوسرے ادارے پاکستان کو22ارب ڈالرقرضے دیں گے لیکن ان قرضوں کی شرائط کھل کرنہیں بتائیں،صرف یہ کہا کہ کچھ چیزیں مہنگی ہوں گی لیکن عام آدمی متاثرنہیں ہوگا۔سوال یہ ہے کہ جب چیزیں مہنگی ہوں گی تو عام آدمی ان کے اثرات سے کیسے بچے گا۔پہلے ہی اشیائے خوردنی اورادویات کے نرخ آسمان سے باتیں کررہے ہیںاورغریب اورمتوسط طبقے کی قوت خریددم توڑرہی ہے۔

اصلاحات کے نام پرٹیکسوں میں اضافہ اور دوسرے اقدامات کئے جائیں گے تواس کا اثر توبالآخر عام صارفین پرہی پڑناہے۔ اسٹیٹ بنک کے مطابق ملک کے سرکاری قرضوںمیں بھی اضافے کاسلسلہ جاری ہے جن کاحجم رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں10فیصد اضافے کے ساتھ ساڑھے27کھرب روپے تک پہنچ گیاہے، ملکی وبیرونی قرضوں کا بہاﺅتقریبادوگناہوگیا ہے، جس کی بڑی وجہ روپے کی قدر میں ہونے والی مسلسل کمی ہے۔

رئیل اسٹیٹ ویلیو ایشن نے پراپرٹی بزنس کوبھاری نقصان پہنچایاہے۔ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے اور اسٹاک ایکسچینج گررہی ہے۔ایسے میں معاشی استحکام کی منزل ابھی توقع سے زیادہ دور دکھائی دیتی ہے۔بدقسمتی سے روپے کی قدر میں کمی اور بھارت کے ساتھ تصادم کی نئی لہر کی وجہ سے دفاع کے لئے فراہم ہونے والے اضافی وسائل بھی کم پڑنے لگے ہیں۔ حکومت کوئی ایسی حکمت عملی بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی کہ اخراجات میں اضافہ کے ساتھ آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکے۔

آمدنی میں اضافہ کے نام پر گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران نئے قرض لینے اور کسی طرح ملکی بجٹ میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ اب بھی وزیر خزانہ کا سارا زور اس بات پر ہے کہ کسی طرح آئی ایم ایف سے معاشی پیکیج طے پا جائے تاکہ جون میں پیش ہونے والے بجٹ میں خوشگوار اعداد و شمار دکھائے جا سکیں۔عالمی اداروں کے علاوہ حکومت دوست ملکوں سے بھی قرضے لے رہی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بیرونی قرضے ملکی معیشت کےلئے ناگزیر ہیں مگر فی الحال عوام مہنگائی کے جس طوفان کامقابلہ کررہے ہیں اس کی شدت میں کمی لانے کےلئے حکومت کوسنجیدہ اورموثراقدامات کرنا ہوں گے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں