قلبی سکون نعمتِ خداوندی

نعمتِ خداوندی

زندگی بہت بڑی نعمت ہے مگر دوسری طرف زندگی تھکا دینے والے عمل کا نام بھی ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی انسان کی خواہشیں، رشتے، انسان کو بے بس اور کمزور بنادیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان جیسے ہی ہوش و حواس کے دور میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے اردگرد کا جائزہ لیتا ہے۔ اگر ماحول اس کی فطری خواہشوں کے برخلاف نکلے تو وہ زند گی بھر کےلیے اپنی پسند کی زندگی حاصل کرنے کی ایسی جدوجہد کا آغاز کردیتا ہے جس کی منزل کا اسے خود بھی علم نہیں ہوتا۔

یہ جدوجہد اسے عمر بھر کےلیے اتنا مصروف کردیتی ہے کہ وہ اپنا سب کچھ گنوا کر اکثر اپنی خواہشات پوری کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور بعض اوقات اسے ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ اس سارے عمل میں انسان دنیاوی چیزوں، عارضی مقام حاصل کرنے کےلیے اتنا بھاگتا ہے کہ اس کے پاس اتنا بھی وقت نہیں رہتا وہ یہ جان سکے کہ وہ سب تو پارہا ہے مگر اپنا ’’قلبی سکون‘‘ کہیں کھو رہا ہے۔

انسان کی زندگی کا سارا دارومدار ’’دل‘‘ پر ہوتا ہے۔ دل اگر بہتر طریقے سے کام کرتا رہے تو انسان کی سانسوں کی لڑی دنیا کے ساتھ جڑی رہتی ہے اور اگر یہ دل نام کی چیز ہی آپ کے ساتھ چلنے سے انکار کردے تو انسان کی زندگی کا خواہشوں، رشتوں، خوابوں سمیت خاتمہ ہوجاتا ہے۔ دل انسان کا سب سے لاڈلا اور سب سے حساس جسمانی عضو ہے۔ اگر یہ بے چین ہوجائے تو اس کے سکون کےلیے انسان صحرا کی خاک تک چھاننے کےلیے تیار ہوجاتا ہے۔ کیونکہ بے چین دل انسان کو بے بسی کی اس پاتال میں گرا دیتا ہے جس سے نکلنا انسان کے اپنے بس میں نہیں رہتا۔ سیدھی سی بات ہے کہ اگر دل بے سکون ہو تو وہی بے سکونی انسان کی زند گی میں بھی طاری ہوجاتی ہے۔

ہم زندگی کی بھاگ دوڑ اور چیزوں کے حصول میں نہ جانے کیا کیا جتن کرتے ہیں۔ نہ جانے کتنے ارمانوں کا خون کرتے ہیں، کتنے حق داروں کا حق مارتے ہیں اور جب ہمیں سب حاصل ہوجاتا ہے تب وہ لمحہ آگاہی کا ہوتا ہے۔ جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں اور بے سکونی ہماری زندگی اور دل میں ڈیرے ڈال چکی ہے۔ اس لمحہ آگاہی کے بعد پھر وقت پلٹا کھاتا ہے اور آپ کے پاس سب ہوتا ہے مگر دل کا سکون نہیں۔ پھر اس سکون کو پانے کےلیے انسان بہت سارے راستوں پر چلتا ہے۔ کبھی محافل میں دوسروں کے ساتھ وقت گزراتا ہے تو کبھی تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کو عارضی طور پر سکون تو میسر آجاتا ہے مگر بعد میں اس کی وہی کیفیت ہوجاتی ہے جس کیفیت سے وہ چھٹکارا پانے کے جتن کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر قلبی سکون کہیں کھو جائے تو اس کےلیے غیر لو گوں کی طرف نہ بھاگو اور نہ ہی ایسے راستوں پر چلو جو عارضی ہوں، بلکہ اپنے حقیقی خالق کی طر ف آؤ۔ اُس خالق کی طرف جس نے انسان کے ایک ایک اعضا کو خود محبت اور پیار سے بنایا۔ جس نے ہمارے دل کا ایک ایک تار خود بنایا ہے۔ وہ واقف ہے کہ خرابی کہاں ہے۔

اللہ پاک نے جب دل بنایا تو اس میں جذبات کو شامل کردیا اور انہی جذبات کی وجہ سے ہی تو ہم اپنی زندگی بہتر طریقے سے جی پاتے ہیں۔ مگر جب اس نے اس دل میں سب شامل کیا تو اس کا سکون کہیں چھپا کر رکھ دیا تاکہ انسان کو اس سکون کی تلاش ہو۔

انسان کی بہت ہی قیمتی چیز جب درست طر یقے سے کام نہیں کرتی تو انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کو کسی ایسے ’’ایکسپرٹ‘‘ کو دکھائے جو بہتر طریقے سے اس کی خرابی کو جان سکتا ہو۔ اسی طرح جب آپ کے دل کا سکون کہیں کھوجائے تو آپ اس کے بنانے والے کے پاس جائیں جو کہ الجبار ہے، جو ہر ٹوٹی ہوئی چیز کو جوڑ سکتا ہے۔ یقین کیجئے کہ اس کے پاس ایسی طاقت ہے کہ جو آپ کو جوڑ دے گی اور ایسا سکون دے گی کہ آپ کو زندگی کا اصل لطف آجائے گا۔ جیسے قرآن کریم بھی ہمیں یہی بتاتا ہے کہ ’’انسانی قلب کا سکون اللہ کی یاد میں ہے‘‘۔ پروردگار کے ذکر سے اضطراب کو قرار ملتا ہے، بے سکونی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ خود اللہ پاک بھی فرماتے ہیں کہ ’’بھلا وہ کون ہے جب کوئی بے قرار پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے اور جو تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خدا ہے؟ نہیں۔ بلکہ تم بہت کم نصحیت قبول کرتے ہو (النمل)۔

قلبی سکون کو حاصل کرنے کےلیے سب سے پہلے تو آپ کو اپنی زندگی اس سمت میں گزارنی ہوگی جو راستہ رب تعالیٰ نے انسان کےلیے منتخب کیا ہے۔ کیونکہ دنیا کی کامیابیاں، دولت، مقام، رشتے ناتے، صرف اور صرف انسان کو عارضی سکون میسر کرتے ہیں۔ اور یہ سکون صرف اور صرف چند لمحو ں تک محیط ہوتا ہے۔ اس افراتفری کے دور میں اپنے دل کی دنیا آباد کی جائے اور روحانیت و ایمانیت کی شمع فروزاں کی جائے تو اس سے انسان اپنی اصل منزل پانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ دوسرا یہ کہ انسان کو اللہ پاک کی لکھی تقدیر کے سامنے اپنی بے بسی کو دل سے قبول کر لینا چاہیے۔

جب انسان اُن تمام کاموں کا اور فیصلوں کا بوجھ خود سے اتار دیتا ہے جس پر اس کا کوئی بس نہیں چلتا تو ایسے میں انسان اپنے خالق کی برتری کو قبول کرلیتا ہے۔ جس سے اس کو دل کا سکون ہمیشہ ہمیشہ کے میسر آجاتا ہے۔

(Visited 1,100 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں