‘ڈیزل’ کی پھبتی نے جلتی پر تیل کا کام کر دیا

وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے فضل الرحمن سے مذاکرات کی پیشکش کے 24 گھنٹے بعد ہی یہ کہنا کہ ‘یہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے ‘ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت مذاکراتی عمل میں کتنی سنجیدہ تھی۔ آزادی مارچ پر فریقین میں ڈیڈ لاک ختم ہونے کی بجائے کیوں بڑھنے لگا ؟ مولانا کی موجودہ پوزیشن بھی انکی سیاسی فہم وفراست سے مطابقت نہیں رکھتی۔

ادھر جے یوآئی کا استعفے کا مطالبہ بھی بتاتا ہے کہ وہ بھی حکومت سے کسی بھی سطح پر مذاکرات کی خواہاں نہیں، لہٰذا یہ وہی ڈیڈ لاک کی کیفیت ہے جو اس مذاکراتی پیشکش سے پہلے موجود تھی۔ دیکھنا یہ پڑے گا کہ مذاکراتی پیشکش کس بنیاد پر دی گئی اور پھر وزیراعظم کی جانب سے ڈیزل کے ذکر کی پھبتی کیونکر کسی گئی ؟ کیا حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ یونہی برقرار رہے گا ؟ اسلام آباد کیلئے احتجاجی مارچ کیا رخ اختیار کریگا ؟ اس کے اثرات اور نتائج کیا ہوں گے ؟ کسی قسم کی غیر معمولی اور ہنگامی صورتحال سسٹم کیلئے خطرناک تو نہیں ہوگی ؟ اور بنیادی سوال یہ کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو حکومت اور اپوزیشن کو ایک دوسرے کے قریب نہیں پھٹکنے دے رہے اور جمہوری سسٹم کو خطرے کے نشان تک لے جانا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے تو پہلے حکومتی صفوں میں بیٹھے افراد اور وزرا کو دیکھنا ہوگا۔

حکومت میں غیر منتخب عناصر جو اس وقت فیصلہ کن حیثیت حاصل کیے ہوئے ہیں وہ ہر معاملے میں غیر سیاسی اپروچ یا ڈائریکٹ حل چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر مسئلے کا حل بلیک اینڈ وائٹ ہے۔ اور یہ کسی بھی مسئلے کو گرے ایریا میں رکھ کر نہ تو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی حل تلاش کر سکتے ہیں۔ اکثریت ان غیر منتخب عناصر میں ان لوگوں کی ہے جن کا بلواسطہ تعلق طاقتور حلقوں سے ہے جو ہمیشہ ملکی سیاست کو طاقت کی ڈگر پر چلانا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال میں مزید ستم اب ہوا جب حکومت کے سربراہ نے نا مناسب اندازِ مخاطب میں اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل (فضل الرحمن) کے بغیر چل رہی ہے۔ اس اپروچ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے عام افراد تو کجا حکومت کا سربراہ بھی دھرنا یا آزادی مارچ حکمت سے روکنے کی بجائے اسلام آباد میں تماشا دیکھنا چاہتا ہے۔

بظاہر لگ یہی رہا ہے کہ اس حکومت کو کسی ثالث، رابطہ کار یا سہولت کار کی کوئی ضرورت نہیں جو مولانا فضل الرحمن کے بپھرے ہوئے پُر شور جذبات کو خاموش کرا سکے۔ حکومت کے اس لب و لہجہ کو حکمت عملی کی بجائے سیاسی خود کشی پر مصر ہونا کہا جا سکتا ہے ۔ دوسری جانب فضل الرحمن کے لب و لہجہ میں بڑھتی ہوئی تلخی بھی بلا جواز ہے۔ مولانا ہمیشہ مذاکرات اور مسائل کا حل پارلیمان کے ذریعے کرنے کا درس دیتے رہے ہیں اب کی بار وہ ا سلام آباد میں مہم جوئی کی تمنا دل میں پالے ہوئے ہیں۔ آزادی مارچ پر مولانا کی موجودہ پوزیشن قطعا ان کی سیاسی فہم اور فراست سے تال میل نہیں کھاتی۔

(Visited 27 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں