مردوں سے زیادہ ناشتہ خواتین کے لیئے ضروری

ناشتہ
Loading...

ضحیٰ مرجان

جس طرح ایک گاڑی کو اسٹارٹ کرنے کے لئے اس میں پیٹرول کا ہونا ضروری ہے۔ کچھ اسی طرح کسی بھی انسان کے جسم میں دن بھر کام کرنے کے لئے ناشتے کی صورت میں توانائی کا حصول ضروری ہے۔

باوجود اس کے کہ ناشتہ ہمارے پورے دن کی اہم ترین غذا ہے، ہمارے ہاں بالخصوص شہری علاقوں میں تین میں سے دو افراد تو ایسے ضرور ہوں گے کہ جو بہت کم ناشتہ کرتے ہیں یا دوپہر کا کھانا اور ناشتہ ملا کر کرتے ہیں یعنی بے وقت ناشتہ کرتے ہیں۔

نیشنل میڈیکل سینٹر سے وابستہ ماہر اغذیہ ڈاکٹر صائمہ رشید کے مطابق ناشتہ نہ کرنے والے افراد دوپہر کے کھانے سے پہلے ہی تھکن اور سستی کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ کام کاج میں عدم دلچسپی، نو عمر بچوں میں سرکشی، نافرمانی، خواتین میں چڑچڑاپن جیسی مختلف منفی عادات ناشتہ نہ کرنے کے باعث بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔

دور حاضر میں ترقی یافتہ دنیا کی بیشتر خواتین میں ایک عجیب رجحان پیدا ہو گیا ہے، جس کی تقلید میں ہمارے ملک کی خواتین بھی پیش پیش ہیں۔ یہ رجحان اپنے وزن کو کم کرنے یا خود کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق اسمارٹ بنانے کے لئے ڈائٹنگ جیسے طرز عمل کو اختیار کرنا ہے، جس کا اہم اصول ناشتہ نہ کرنے کو سمجھ لیا گیا ہے۔

اکثر خواتین ناشتہ ناں کرنے کی عادت سی بنا لیتی ہیں۔ جبکہ جدید تحقیق نے وزن کم کرنے یا اسمارٹ بننے کے نظریے کو انتہائی لغو اور بے بنیاد بلکہ صحت کے لئے خطرناک قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ رشید کے مطابق ناشتہ نہ کرنے کی عادت خواتین میں انتہائی حد تک جسم کی نشوونما کرنے والے مختلف وٹامنز، پروٹین اور معدنی نمکیات کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ جس سے ان کے چہرے پر بعض اوقات کیل مہاسوں اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بھی نمایاں ہوجاتے ہیں اور چہرے کی شادابی اور شگفتگی ماند پڑ جاتی ہے۔

Loading...

مزید پڑھیں:قازقستان کا بدقسمت شہر، جس پر نیند کے آسیب نے حملہ کر دیا تھا

ناشتہ کیا ہونا چاہیے؟

مناسب ناشتہ ایسا ہو کہ جس سے مستفید ہو کر دن کے ان اہم ترین گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ ذہنی و جسمانی کارکردگی دکھائی جا سکے۔ اور صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں۔

ڈاکٹر صائمہ رشید کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کو ناشتے میں تقریباً 200 سے 500 کیلوریز پہنچنا ضروری ہے۔ انسان جو کھانا کھاتا ہے وہ انسانی جسم کے لئے فیول کی مانند ہے۔ جیسے کسی بھی گاڑی کو چلانے کے لئے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح انسانی جسم کو فیول نیوٹرنٹ (نشاستہ، لحمیات،چکنائی) کی ضرورت ہے۔ ناشتے میں اناج، دودھ، چائے، کافی، یا اگر ممکن ہو تو کوئی پھل وغیرہ شامل کیا جائے۔ ان سب لوازمات کے ساتھ ناشتہ زود ہضم بھی ہونا چاہیے۔ بظاہر یہ ناشتہ بہت معمولی اور کم قیمت لگتا ہے لیکن غذائیت کے اعتبار سے اسے تمام اشیاء پر برتری حاصل ہے۔

ناشتے میں دلیہ اور دودھ کی بھی کافی اہمیت ہے۔ دلیے میں بیک وقت کئی اہم اجزاء موجود ہوتے ہیں۔ جن میں سب سے نمایاں وٹامن بی کمپلیکس ہے۔ دلیا کو ماہرین غذاء نے بہترین ناشتہ قرار دیا ہے۔ دلیے میں دودھ شامل کرنے سے جسم اور دماغ کو پروٹین کی درکار مقدار ملتی ہے اور طبیعت تازہ توانا ہو جاتی ہے۔

دودھ سے دن بھر کے لئے درکار کیلشیم اور وٹامنز کی ایک چوتھائی مقدار مل جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے دودھ کی جگہ دہی کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ جس میں جسم میں پہنچ کر قوت مدافعت کو کمزور کرنے والے فری ریڈیکلز کو ختم کرنے کی بھرپور صلاحیت پائی جاتی ہے۔

ڈاکٹر صائمہ رشید کا کہنا ہے کہ ناشتے کو break fast اسی لئے ہی کہا جاتا ہے چونکہ یہ fast یعنی روزے کو break (توڑتا) ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو غذائیت سے بھرپور ناشتہ دینے ضروری ہے چونکہ یہ دورانیہ ان کے پروان چڑھنے کا ہے جبکہ خواتین کو بھی اسمارٹ ہونے کے جنون کو ایک طرف رکھ کر اپنی ڈائٹ کا خیال رکھنا چاہیے انہوں نے کہا کہ اگر اسمارٹ ہونا ہی ہے تو کھانا ناں کھانے کے بجائے مطلوبہ کیلوریز، فیٹس وغیرہ کی مقدار ایسی غذاؤں سے حاصل کریں جس سے آپ کی موٹاپا بھی ناں ہو اور غذائی ضروریات بھی پوری ہوں۔ ایک مشہور مقولہ ہے کہ ناشتہ بادشاہ کی طرح یعنی (پورے اہتمام کے ساتھ) کرنا چاہیے۔ دوپہر کا کھانا ایک عام انسان کی طرح جبکہ رات کا کھانا فقیر کے جیسا کرنا چاہئے یعنی صرف پیٹ بھرنے کے لئے اور جو اس طرح کھانے کا اہتمام کرے گا اس کو صحت مند زندگی گزارنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

(Visited 149 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں