غیر اخلاقی فلمیں کون لوگ دیکھتے ہیں؟

غیر اخلاقی فلمیں

آج میں جس موضوع پر بات کرنا چاہتی ہوں یا یوں کہ لیں کہ جس حساس موضوع نے مجھے اندر سے جکڑا ہوا ہے وہ ہے غیر اخلاقی فلمیں ۔
آج سے تقریبًا بیس سال پہلے کی بات ہے کہ غیر اخلاقی فلموں کے بارے میں بات کرنا تو کیا سوچنا بھی گناہ تصور کیا جاتا تھا مگر رفتہ رفتہ ہم لبرل ہو گئے اور یہ ایک عام سی بات ہو گئی ۔
قارئین ! آج کی دنیا کا مقابلہ ہم ماضی سے نہیں کر سکتے کیونکہ سائنس اور ٹیکنالوجی نے آج کی دنیا کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے ۔ یا یوں کہ لیں ہم نے ترقی کر لی ہے مگر کیا ہم نے یہ ترقی اخلاقیات کو کھو کر کی ہے تو میرا جواب یقینًا ” ہاں ” میں ہو گا ۔
اسکی بنیادی وجہ سوشل میڈیا پر پھیلا ہوا بے ہنگم طور پر پھیلا ہوا سوشل میڈیا کا دباو ہے ۔ جسکی بدولت ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہم گھر بیٹھے ہی پہنچ جاتے ہیں ۔ مگر ہم وہاں تک نہیں پہنچ پا رہے جہاں پر ہمیں ہونا چاہیئے۔

loading...

میری مراد اخلاقیات کا فقدان ہے اور اسکی بڑی وجہ غیر اخلاقی مووی کا عام ہونا ہے ۔ آج کا مرد اور عورت دونوں ہی اپنے ہونے کا مقصد کھو چکے ہیں اور آج کے والدین نے بچوں کو بڑے اداروں میں ڈال کر یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اب بریالزماں ہو گئے ہیں ۔ حالانکہ تب ہی تو تربیت کا وقت شروع ہوتا ہے ۔
مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں %1.6 لوگ غیر اخلاقی مووی دیکھنے کی لت میں مبتلا ہیں ۔ کیونکہ یہ بہت سستا اور آسان طریقہ ہے پیسہ کمانے کا ۔ کوئی بھی سوشل میڈیا کی سائیٹ پر اپنا چینل کھول سکتا ہے ۔ اور اس پر ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کر سکتا ہے ۔ اور لوگ خاص طور پر نوجوان نسل ویڈیوز اپ لوڈ کر کے پیسہ کماتے ہیں ۔مگر شائد وہ یہ بھول چکے ہیں کہ وہ یہودی یا عیسائی نہیں بلکہ مسلمان ہیں ۔ اور مسلمان ہونے کے ناطے انہیں اپنی سرگرمیوں کو ترک کر دینا چاہیئے ۔
غیر اخلاقی موویز بنانا اخلاق کو بگاڑنے کا موجب بن رہی ہے ۔ اور سائنس دانوں کے مطابق ایسے لوگ بہت سی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں ۔ جو درج زیل ہیں.
1 اولاد کا نا ہونا
2 دماغ کا کینسر
3 طلاق کی وجہ
4 ڈپریشن
5 دل کی بیماریاں مثلاً ہارٹ اٹیک وغیرہ
آج کل کی نوجوان نسل کا نکاح اور شادی جیسے پاکیزہ رشتے سے اعتبار بھی اٹھ چکا ہے ۔ ابھی ہماری ایک عزیزہ نے بتایا کہ انکا بیٹا شادی نہیں کرنا چاہتا وجہ جان کر میں دنگ رہ گئی کہ آج کل سیکنڈ ہینڈ لڑکیاں ہی ملتی ہیں ۔ بس یہی رہ گئی ہے ہمارے نوجوانوں کی سوچ ۔ مگر کوئی خود کو بدلنے کو تیار نہیں ۔ میری عمران خان صاحب سے یہ گزارش ہے کہ جتنی بھی غیر اخلاقی فلمیں یا غیر اخلاقی ویب سائٹس ہیں ان پر ہمیشہ کے لیئے پابندی لگا دی جائےتاکہ اور کچھ نہیں تو ہمارے آج کہ اور آنے والی نسلیں تو سنور جائیں ۔
باقی رہے نام بس اللہ کا۔

عائشہ شہزاد
شکریہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں