یونیورسٹیاں یا ٹکسال؟

یونیورسٹیاں

تعلیم انسان کی نہ صرف سب سے بڑی ضرورت ہے بلکہ اس دور میں تو یہ مجبوری بن چکی ہے۔ اور اسی مجبوری سے فائدھ اٹھانے کےلیے ایسے لوگ میدان میں اترے ہیں کہ بڑے بڑے سلسلے بن گئے ہیں۔ تعلیم ایک باقاعدہ کاروبار بن چکا ہے، بلکہ سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار۔ اسکول اور کالج تو تھے ہی، جو یہ کہتے تھے کہ آٹا بھی ہمارے اسکول یا کالج سے خرید کر کھائیں گے تو آپ کے بچے زیادہ پڑھیں گے۔ اب یونیورسٹیاں بھی اس میدان میں شد و مد سے کود پڑی ہیں۔ ڈگریاں بانٹی جارہی ہیں، بالکل ایسے ہی جیسے اندھے ریوڑیاں بانٹتے ہیں۔ لاکھوں روپے لے کر ڈگری دی جارہی ہے اور ان یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل علم سے تو فارغ ہی ہیں، ساتھ میں سکہ رائج الوقت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔

بہت سے ایسے ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز سے ملنے اور ان کے علم کی گہرائی جانچنے کا موقع ملا جنہوں نے جان سے زیادہ مال لگا کر اعلیٰ تعلیم کی سند وصول کی ہوئی تھی۔ چند دن پہلے کالجز میں سی ٹی آئی بھرتی کرنا تھے۔ بہت سے بے روزگار ایم فل حضرات نے درخواست دے رکھی تھی۔ ان کی سی جی پی دیکھ کر رشک آنے لگا کہ کاش ہمارے زمانے میں بھی پرائیوٹ یونیورسٹیاں ہوتیں۔ مگر افسوس جب ان سے کہا گیا کہ اپنی سی وی یہاں بیٹھ کر تیار کریں اور ساتھ نوکری کےلیے اپنے دست مبارک سے درخواست تحریر فرمائیں تو ان کے ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے۔ بہت سارے گھبرا گئے اور کچھ تو موقع سے ہی فرار ہوگئے۔ نوے فیصد سے زیادہ نجی یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے تھے۔

اگر ایسے ہی حالات رہے تو پھر لوگ میٹرک کرنے کے بجائے ایم فل ہی کرلیا کریں گے، کیونکہ ایم فل کرنا آسان ہوچکا ہے اور میٹرک مشکل۔ اگر آپ مالدار ہیں تو کسی بھی پرائیوٹ یونیورسٹی کی خدمت میں ایک بوری روپوں کی پیش کرکے جہالت کی ڈگری لے سکتے ہیں۔

loading...

مجھ سے اختلاف کرنے والے ثبوت پیش کریں کہ ہمارے ملک کی کس یونیورسٹی میں کی گئی ریسرچ کی بنیاد پر ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں میں تحقیق ہورہی ہے؟ ہمارے ہاں ماشااللہ تھیسس یعنی مقالہ بھی ایسے لکھا جاتا ہے کہ پانچ چھ تھیسس اکٹھے کرکے ان کا خلاصہ تیار کرکے اسے اپنے الفاظ میں چھاپ دیتے ہیں۔ سپروائزر رہنمائی کرنے کے بجائے ڈکٹیٹر بن کر بیٹھا ہوتا ہے۔ درست سمت میں رہنمائی کرنے کے بجائے اس کا کام ہی صرف یہ بن چکا ہے کہ اس کا شاگرد جو بھی پروپوزل تیار کرکے پیش کرے، وہ اسے رد کرے اور ایک خاص تعداد اور مدت کے بعد سارے رد شدہ مسودے ہی پاس کرکے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کردے۔

ہمارے ہاں یونیورسٹیاں کم اور ٹکسال زیادہ ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ انہیں بند کردیں، میری درخواست ہے کہ ان میں تحقیق کا شعبہ بھی قائم ہو۔ پیسے اینٹھ کر ڈگری دینے کا رواج ختم ہو اور بھاری بھرکم فیسوں میں بھی کچھ کمی کی جائے۔ بیرون ملک یونیورسٹیاں ہی تحقیق اور ترقی کا ہراول دستہ ہیں، مگر ہمارے ہاں یہ نقل کرنے اور تھیسس چوری کرنے کے کارخانے ہیں۔ سائنس ہو یا آرٹس، ہر شعبہ میں یہی صورت حال ہے۔ اگر پیسہ کمانا ہی مقصود ہے تو پھر ایسی یونیورسٹیاں سیل لگا کر ڈگریاں فروخت کرلیا کریں، تاکہ جو اسکالر وہاں پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کی دیہاڑیاں تو ضائع نہ ہوں۔ انہوں نے بعد میں بھی مزدوری ہی کرنی ہے تو پہلے ہی کرتے رہیں۔

زندگی ڈیجیٹل ہوتی جارہی ہے۔ جو علوم جدیدہ سے بے بہرہ ہوگا وہ یوں سمجھیے کہ بے کار ہے۔ سب ہی روپیہ کمانے میں لگے ہیں۔ یہی صورت حال رہی اور امید واثق ہے کہ رہے گی، کیونکہ جہاں پیسہ اتنی آسانی سے آتا ہے وہ ادارے بند نہیں ہوتے۔ وہ بہت سے وزرا اور افسران بالا کے چولہے جلانے کا باعث بھی تو ہوتے ہیں۔ بس تعلیم اور علم کا ہی اللہ حافظ ہوگا۔ ہماری قوم کو کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔

(Visited 101 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں