پاکستانی قیدی کو بھارت میں پتھر مار کرہلاک کر دیا

پاکستانی قیدی

بھارت میں قید ایک پاکستانی کو جیل میں پتھر مار کر قتل کردیا گیا، شاکر اللہ پر اس کی بیرک میں موجود دیگر قیدیوں نے پتھروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا۔

قیدی کو قتل کیے جانے کے وقت جیل حکام کہاں تھے؟ قیدیوں کی پاس پتھر کہاں سے آئے؟ قیدی کے مارے جانے پرکئی سوالوں نےجنم لے لیا۔

پلوامہ حملے میں 45 سے زائد بھارتی فوجیوں کی ہلا کت کے بعد بھارت میں ہر سطح پر پاکستان کے خلاف نفرت انگیز اور شدت پسندانہ رد عمل دیا جا رہا ہے۔

شیند کی جا سکتی ہے کہ بھارتی صوبے راجستھان میں جے پور کی سینٹرل جیل میں قید شاکر اللہ نامی پاکستانی قیدی کی ہلاکت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

بلیو اکانومی:‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌”پاکستان”‌ ‌عالمی نقشے پر ایک معاشی اورجغرافیائی اکائی کی حیثیت سے ابھر رہا ہے

بھارتی پولیس ذرائع کے مطابق 4 قیدیوں پر اپنے ساتھی قیدی کے قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ قتل ہونے والے قیدی کا نام شاکر اللہ عرف حنیف محمد ہے اور ان کا تعلق پاکستان سے ہے۔

راجستھان پولیس کے ایڈیشنل کمشنر لکشمن گور کے مطابق شاکر اللہ کی ہلاکت جیل میں ٹی وی کی آواز اونچی ہونے پر جھگڑے کے دوران ہوئی۔ قیدی کی ہلاکت میں 4 ساتھی قیدیوں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

شاکر اللہ کو 2011 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں 2017 میں سزا سنائی گئی تھی۔ ایڈیشنل کمشنر نے بتایا کہ شاکر اللہ پاکستان کے شہر سیالکوٹ کا رہائشی تھا۔

قیدی کی ہلا کت کی خبر ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ حکام جیل پہنچ گئے۔

واضع رہے کہ پاکستانی قیدی کی ہلاکت کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پلوامہ حملے کے بعد بھارت میں انتہا پسندی اور اشتعال انگیزی پر مبنی رد عمل دیا جا رہا ہے۔

(Visited 19 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں