تبدیلی کے برج الٹے یا الٹائے گئے؟

برج

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں سکیورٹی صورتحال اوردیگرامورپر مشاورت کی گئی ۔دریں اثناوفاقی کابینہ کے بڑے بڑے برج الٹا دیئے گئے۔اسد عمر مستعفی،حفیظ شیخ مشیر خزانہ،اعجاز شاہ وزیر داخلہ مقرر،فواد چودھری ، غلام سرورخان،علی امین گنڈا پوراور محمد میاں سومروکی وزارتیں تبدیل ،فردوس عاشق اعوان ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا،ندیم بابر معاون خصوصی مقرر،عامر کیانی سے استعفی لے لیا گیا۔

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنے لیڈر اور وزیراعظم عمران کی خواہش پر وزارتِ خزانہ کا منصب چھوڑ دیا ، البتہ وزیراعظم کی یہ دوسری خواہش پوری نہیں کی کہ وہ توانائی کی وزارت لے لیں۔وزارت چھوڑنے کے بعد ان کا اگلا فیصلہ کیا ہوتا ہے،اِس کا پتہ تو بعد میں چلے گا تاہم ان کا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کی امید ہیں۔

حیرت ہے کہ ان سے اِس امید کا ساتھ بیچ منجدھار چھڑوا لیا گیا،تاہم انہیں یہ بھی توقع ہے کہ وہ نیا پاکستان بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی سے پہلے ہی دو باتیں یقینی تھیں ایک یہ کہ عمران خان وزیراعظم ہوں گے اور دوسری یہ کہ اسد عمر وزیر خزانہ کا منصب سنبھالیں گے۔

توقع کے عین مطابق یہی ہوا، وزیراعظم سمیت پوری تحریک انصاف کے بہی خواہوں اور دعوﺅں کے سحر میں مسحور عوام کو یقین تھا کہ اسد عمر کوئی معاشی جادو گر ہیں،جن کے جنتر منتر اور جھاڑ پھونک سے معیشت یک دم انگڑائی لے کر اٹھے گی اور ترقی کی جانب بھگٹٹ دوڑنا شروع کر دے گی۔

عہدہ سنبھالنے کے چند دن کے اندر ہی ان کی گرج برس دیکھنے والی تھی۔ وہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کو پیٹ بھر کر رگیدتے تھے، سابق حکومت کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید ،بلکہ ہدفِ ملامت بناتے تھے۔ سابق حکمرانوں کی پالیسیوں اور ذات میں ایسے ایسے کیڑے نکالتے تھے جو شاید ان میں اتنی تعداد میں موجود ہی نہ تھے۔

اسمبلی کے اندر ان کی جوشیلی تقریر پر ڈیسک اور تالیاں بجائی جاتی تھیں، اسمبلی سے باہر بھی انہیں جہاں کہیں موقع ملتا وہ رنگ جمانے کی کوشش کرتے۔ سابق حکومت کے وزیر خزانہ کو گرفتار کر کے واپس لانے کی نوید سناتے،لوٹی ہوئی دولت باہر سے لانے کے اعلانات کرتے اور لٹیروں کو حوالہ زنداں کرنے کی خوشخبریاں دیتے۔

loading...

معیشت کی بری حالت کا ذمے دار سابقین کو ٹھہراتے، پرانے بے تحاشا قرضوں کا رونا روتے اور دبے دبے الفاظ میں یہ بھی کہتے کہ ہمیں بھی آئی ایم ایف سے شاید قرضہ لینا پڑے،لیکن اِس سے پہلے کہ آئی ایم ایف کوئی حتمی فیصلہ کرتا وہ معیشت کے کوچے ہی سے رخصت ہو گئے، اب یہ پیکیج کوئی دوسرا لے گا جو آئی ایم ایف کی اچھی کتابوں میں درج ہو گا۔

حکومت نے سابق حکمرانوں کی مذمت کے نئے ریکارڈ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ نئے قرضوں کا ریکارڈ بنانا شروع کر دیا اور ماہرین کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت روزانہ جتنے قرضے لے رہی ہے یہ اعزاز پہلے کسی حکومت کو حاصل نہیں ہوا، دوسری بات یہ ہوئی کہ روپے کی قدر میں حیران کن کمی کر دی گئی اور جو روپیہ معتوب حکمرانوں کے دور میں مناسب سطح پر کھڑا تھا اس کے بارے میں پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں انڈیلا گیا کہ سابق وزیر خزانہ نے مصنوعی طریقے سے روپے کو اوور ویلیو بنا رکھا تھا، چنانچہ روپے کی حقیقی قدرو قیمت سے عوام کو عملا آگاہ کر کے بتایا گیا کہ تمہاری کرنسی کی اصل اوقات یہ ہے، اس کا نتیجہ ہوا کہ غیر ملکی قرضوں کا بوجھ اربوں ڈالر بڑھ گیا۔

مزید ریکارڈ قرضے بھی روزانہ کی بنیاد پر لئے جا رہے ہیں،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ روپیہ تاریخی گراوٹ کا شکار ہے اور مزید گرنے کے امکانات ہیں۔اسد عمر سے جس انداز سے وزارت واپس لی گئی ہے اِس سے تو لگتا ہے کہ اس کی ذمہ داری اسد عمر پر بھی تھی، ورنہ ان سے یوں وزارت تو واپس نہ لی جاتی، سوال یہ ہے کہ حکومت کے بار بار کے اعلانات کے مطابق اگر معیشت بہتری کی جانب چل پڑی تھی اور ظاہر ہے اسے چلانے میں اسد عمر ہی کا کردار ہو گا تو پھر انہیں وزارت سے ہٹانے میں کیا منطق ہے؟

فیصلہ بذاتِ خود بتاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ایسا تھا، جس کی وجہ سے اسد عمر کو وزارت سے ہٹانا ضروری ہو گیا تھا اور شاید اب اس کی پردہ داری بھی ضروری ہے کہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کا تذکرہ بھی آتا ہے۔چند ماہ سے حکومت کی ناکامی تو دیوار پر لکھی ہوئی نظر آ رہی تھی، اگر کوئی دیوار کے اس نوشتے کو پڑھنے کی صلاحیت سے عاری تھا یا پڑھ کر بھی تجاہلِ عارفانہ سے کام لے رہا تھا، تو پھر اس کی اپنی اہلیت پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ ناقابل قبول شرائط پوری کرنے کے بعد پاکستان ،اس کی معیشت اور مہنگائی کے مارے عوام کا مزید حشر کیا ہوتا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں