باندیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا تھا ؟

باندیوں

ایک بیگم یا شہزادی نے ایک حسین بچی کو اپنایا اور اس کو ناز و نعم میں پال پوس کر جوان کیا۔ اس بیگم کی ایما پر ہی وہ حسین لونڈی اس کے شوہر کے ساتھ بھی شیر و شکر ہو گئی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ بیگم کو اس حسین لونڈی سے شکوہ پیدا ہو گیا جو کہ ایک فطری امر تھا کیونکہ بیگم کا شوہر اس کے حسن کی وجہ سے اس کی طرف زیادہ مائل ہوتا جا رہا تھا، چنانچہ مالکن نے اس باندی کو سبق سکھانے کا انوکھا طریقہ اختیار کیا۔‘

یہ کہانی ایک انگریزخاتون مسز میر حسن نے اپنی کتاب Observations of the Muslmauns of India میں لکھی ہے۔ انہوں نے لکھنو کے ایک اعلیٰ خاندان کے فرد سے لندن میں شادی کی تھی۔ وہ 1830 میں یہ اپنے خاوند کے ساتھ لکھنو آئیں اور یہاں طویل عرصے قیام کے بعد واپس انگلستان چلی گئیں۔

ان کے مشاہدات پر مبنی اس کا پہلا ایڈیشن 1832 میں شائع ہوا تھا۔ لکھنو میں قیام کے دوران انہوں نے وہاں کی مسلمان اشرافیہ کی تاریخ، عقائد اور رسم و رواج پر تفصیل سے لکھا ہے۔ کیونکہ ان کے قارئین کا تعلق انگلستان سے تھا اس لیے ان کے لیے یہ معلومات اہم رہی ہوں گی۔

وہ حسین باندی کے بارے میں مزید لکھتی ہیں اور اس کی مالکن نے چاندی کی ایک ہتھکڑی بنوائی اور باندی کو اس ہتھکڑی سے ہر روز کئی گھنٹے اپنے بستر کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور یہ ہتھکڑی ہر روز سبھی دوسری باندیوں کے سامنے اسے لگی رہتی تاکہ دوسری باندیاں اس کو دیکھ کر سبق بھی حاصل کریں اور اس حسین باندی کو مسلسل اذیت بھی پہنچتی رہے۔‘

مسز حسن آگے چل کر لکھتی ہیں کہ انہوں نے جو معاشرہ دیکھا اس میں امرا کے ہاں باندیاں اور غلام عام تھے۔ بلکہ ’باندیاں یا لونڈیاں ایک طرح سے ان کے مالکوں کی مالی اور معاشرتی حیثیت کی آئینہ دار بھی ہوا کرتی تھیں۔ باندیوں کی تعداد سے اندازہ ہو جاتا کہ ان کی مالکنیں کس مالی حیثیت کی مالک ہیں۔

’غلاموں اور لونڈیوں کی شادیاں بھی احسن طریقے سے کروائی جاتیں۔ ان غلاموں یا لونڈیوں کے مالکوں کی یہ ذمہ داری سمجھی جاتی تھی کہ وہ ان کے مناسب اچھے رشتے بھی کروائیں۔ اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا اور ان کی تمام تر ذمہ داری مالکوں پر ہوتی بلکہ اس امر کو اچھے مسلمان ہونے کا ثبوت سمجھا جاتا۔

بہت سے امرا اپنی وصیت میں غلاموں کو آزاد کرنے کا تحریر کرواتے لیکن لونڈی غلام اس بات سے پریشان ہو جاتے اور سوال کرتے کہ اب وہ کہاں جائیں گے اور ایسا اچھا مالک انہیں پھر کہاں ملے گا؟

’یہاں غلاموں اور باندیوں کا جتنا خیال رکھا جاتا وہ بہت خوش رہتے لیکن پھر بھی ایک انسان کا دوسرے انسان کا غلام ہونا بذات خود قابلِ قبول بات نہ ہے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ وہ دن دور نہیں کہ جب دورِ غلامی ختم ہو جائے گا۔ تاہم مجھے یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ ہندوستان کے لوگوں کا غلاموں سے سلوک دوسری بہت سی قوموں سے بہتر ہے۔ وہ انسانی حقوق کا جس قدر ہو سکے خیال کرتے ہیں۔ تاہم غلامی کا وجود بذات خود میرے لیے قابلِ قبول نہیں ہے۔

’غلامی بہرحال ایک غیرفطری صورتحال کا نام ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کو یوں غلام بنانے کا کوئی استحقاق نہیں رکھتا۔ فارسی کے مشہور شاعر فردوسی کا مقولہ ہے کہ غلام ہمیشہ ہی غلام رہتا ہے۔ فردوسی کا شاہ نامہ لکھنا اور بادشاہ (محمود غزنوی) کا اس کو حسب وعدہ انعام نہ دینا بھی مسلمانوں کی تاریخ اور لٹریچر کا مشہور واقعہ ہے۔ میں اپنے شوہر سے مشہور فارسی شعرا سعدی حافظ وغیرہ کی شاعری کے ترجمے کروا کر سنتی اور ان کی شاعری اور ان کے اقوال مجھے بہت متاثر کرتے۔ یہ احوال اودھ کے بادشاہ اور اس کے حرم کا ہے۔‘

اس زمانے میں شادی بیاہ کی رسمیں کس طرح نبھائی جاتی تھیں؟

ہندوستان میں قیام کے دوران مسز میر حسن کا قیام اشرافیہ کے خاندان اور ان کی عورتوں کے ساتھ رہا۔ ان کا زیادہ وقت زنان خانے میں گزرا اور انہوں نے عورتوں کی سرگرمیاں، ان کے مشاغل، ان کی عادات اور رسم و رواج کا گہرا مطالعہ کیا۔

یہاں ہم ان کی کتاب سے چند اقتباسات سے شادی بیاہ کی رسومات اور زنانہ میں عورتوں کے شب و روز اور مشاغل کا ذکر کریں گے۔ مثلاً شادی بیاہ کے بارے میں وہ لکھتی ہیں:

’جب شادی طے ہو جاتی ہے تب دولہے اور دلہن کے عزیز و اقارب شادی کی تاریخ طے کرنے کے لیے باہمی ملاقات و مشاورت کے لیے ایک دن مقرر کرتے ہیں۔ گفت و شنید اور مشاورت کے بعد تقریب شادی کے لیے دن و تاریخ مقرر کی جاتی ہے۔ شادی کا مبارک دن مقرر کرنے کے لیے چاند کی تاریخوں میں سے کوئی دن چُنا جاتا ہے۔

’نیا چاند یا ماہ تمام کی تاریخوں کو اہمیت دی جاتی، عقرب کو منحوس سمجھا جاتا اور وہ تواریخ اس مبارک کام کے لیے اچھی نہ سمجھی جاتیں۔ ماہِ محرم میں شادی کو معیوب سمجھا جاتا اسی طرح رمضان کے مہینے کو بھی شادی کی تقریب کے لیے بہت موزوں نہ خیال کیا جاتا۔

آپ کی موت کب ہوگی؟

’شادی عام طور پر زبانی نکاح سے ہی ہونا قرار پائی جاتی اور کوئی تحریری معاہدہ شادی تحریر نہ کیا جاتا۔ شوہر شاذ و نادر ہی اپنی ہونے والی بیگم کی ملکیتی جائیداد کے بارے میں جانتا ہے۔ بلکہ میاں بیوی جن میں محبت ہوتی ہے وہ مادی ملکیت و جائیداد کا کبھی تذکرہ بھی نہیں کرتے کیونکہ عمومی حالات میں وہ جائیداد و ملکیت دونوں کی باہمی تصور ہوتی ہے۔ ہاں ناچاقی کی صورت میں ایسا بھی دیکھا کہ دلہن اپنے زیورات چھپانے کے لیے انہیں زمین میں دفن کر دیتی ہے۔ ہندوستان میں خواتین کے دفینے اکثر مل جاتے ہیں۔

’بیگمات کا ذاتی جائیداد کا علیحدہ مالک ہونا ہندوستان کی عورتوں کو دوسری خواتین سے ممتاز کرتا ہے۔ تاہم شوہر کو مالی مشکلات میں پھنسا ہوا دیکھ کر بیگمات ان کی مالی مدد کرنا اپنا فرض سمجھتی ہیں۔ اچھے شوہر اپنی بیگم کی دولت پر نظر نہیں رکھتے بلکہ مشکل وقت میں بھی شوہر بیگمات کی دولت کے استعمال کو معیوب سمجھتے ہیں۔

’شادی کی رسومات تین روز چلتی ہیں۔ پہلے دن کو سرچک کہتے ہیں۔ دوسرے کو مہندی اور تیسرے روز بارات آتی ہے۔ اس کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے اور دلہن کی اپنے نئے گھر کو رخصتی ہو جاتی ہے۔ شادی کا معاہدہ تحریر کیا جاتا ہے نہ ہی کہیں اس کو رجسٹر کرایا جاتا ہے۔ کوئی بھی شخص جو قرآن پڑھ سکتا ہے وہ خطبۂ نکاح پڑھوا دیتا ہے۔ تاہم عام طور پر پیشہ ور مولوی صاحب کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو نکاح پڑھوا دیتے ہیں۔ نکاح ایک باہمی اقرار نامہ ہی ہوتا ہے۔

’شادی کی تقریب میں فریقین اپنے قریبی رشتہ داروں، دوستوں اور عزیزوں کو دعوت دیتے ہیں۔ دلہن کی والدہ بیٹی کی رخصی کے سارے انتظامات مکمل کرتی ہے۔ ہر رسم میں دکھاوے کا عنصر نظر آتا ہے اور والدین اپنی بیٹی کو زیادہ سے زیادہ جہیز دیتے ہیں۔ اسی طرح سمدھن رشتہ داروں کے لیے بہت سے جوڑے لے کر آتی ہے۔ جہیز میں فرنیچر کے علاوہ بھی چاندی کا پاندان، لگن، چلمچی وغیرہ ضرور دیے جاتے ہیں۔

’سرچک والے دن زنانہ کی خواتین سے بھر جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر ایک اور اہم معاملہ ہوتا ہے روٹھے ہوئے عزیز رشتہ داروں کو منانا۔ تمام رشتہ داروں کو منا کر اور پرانی چھوٹی موٹی رنجشیں بھلا کر شادی میں شرکت کرنے کو مستحسن اور بابرکت سمجھا جاتا ہے۔ سرچک والا دن لڑکی کے لیے پہلی دفعہ ’دلہن‘ کا خطاب لے کر آتا ہے۔ اس دن سے پہلے اسے دلہن کے نام سے نہیں پکارا جاتا۔ اسی روز سے لڑکے کو بھی ’دولہا‘ پکارا جاتا ہے۔

’دلہن کو اسی روز سے ایک بند کمرے میں پہنچا دیا جاتا ہے اور سوائے قریبی دوستوں کے کوئی اس کو نہیں دیکھ سکتا۔ دراصل اس رسم کو مایوں اور ابٹن لگانے کی رسم کہا جاتا ہے۔ ابٹن لگانے کا مقصد لڑکی کو گورا کرنا ہوتا ہے۔ دولہے کی طرف سے مہندی والے دن مہندی کے جوڑے دلہن کے لیے اور اس کے قریبی رشتہ داروں کے لیے لائے جاتے ہیں۔

’مہندی کے جلوس میں دولہے کے رشتہ دار گھوڑوں پر سوار ہو کر آتے ہیں۔ مہندی کی تقریب کے دوران دولہے کے لیے جوڑا دیا جاتا ہے اور بیکری کی مٹھائیاں پیش کی جاتی ہیں۔ مہندی کی تقریب میں نوجوانوں کی شرکت ہوتی ہے۔ آتش بازی کا مظاہرہ ہوتا ہے اور دعوتِ عام ہوتی ہے۔ دوسری طرف دلہن کی سہیلیاں پالکیوں میں دولہے کے گھر پہنچتی ہیں۔ دلہن کی طرف سے دولہے اور قریبی رشتہ داروں کے لیے جوڑے لائے جاتے ہیں۔ مٹھائی تقسیم کی جاتی ہے پھر دولہے کو خواتین میں بلایا جاتا ہے۔

’دولہن کی دوست اور رشتہ دار خواتین اس سے ہنسی مذاق کرتی ہیں لیکن یہ سب کچھ ایک چلمن کے پار سے ہوتا ہے کیونکہ پردہ بہرحال قائم رکھا جاتا ہے۔ اس وقت بلند موسیقی اور شادی کے گیتوں سے بہت رونق ہو جاتی ہے۔ اس وقت دولہے کو مہندی لگائی جاتی ہے مگر مہندی لگانے والے ہاتھوں کو چھپائے رکھا جاتا ہے۔ مہندی باریک کپڑوں کی پٹیوں سے سے لگائی جاتی۔ پھر دولہے کے بچپن کی جو اَنَّا ہوتی ہے وہ یہ مہندی کی پٹیاں اتارتی ہے۔

’اس تقریب میں گیت گائے جاتے ہیں اور اونچی آواز میں موسیقی سنائی جاتی ہے۔ جب دولہا چلا جاتا ہے تو دلہن کی سہیلیوں میں مٹھائی تقسیم کی جاتی ہے۔ اگلے روز بارات کا دن ہوتا ہے۔ دلہن کی والدہ کے لیے بارات کی خوشیاں اپنی جگہ لیکن اس کی پیاری بیٹی کی جدائی کا لمحہ بھی آن پہنچتا ہے جو اکثر ماﺅں پر ایک کڑا وقت ہوتا ہے۔ جس بیٹی کو اتنے لاڈ پیار سے ماں نے پروان چڑھایا ہوتا ہے اس سے یوں اچانک جدا ہو جانا ماں کو اُداس بھی کر ڈالتا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔

’پھر نکاح کی کارروائی شروع کی جاتی ہے جس میں مولوی صاحب لڑکی سے اس کی رضامندی لیتے ہیں۔ دلہن کے ’ہاں‘ کرنے پر مولوی صاحب قرآنی آیات کی تلاوت فرماتے ہیں اور دولہا دلہن رشتۂ ازدواج میں منسلک ہو جاتے ہیں۔ جب دولہا دلہن کو اکٹھے ایک تخت پر بٹھا دیا جاتا ہے تو آرسی کی رسم ہوتی ہے۔ دولہا اپنی دلہن کو شیشے (آرسی) میں پہلی دفعہ دیکھتا ہے، نہ کہ براہِ راست اپنی نگاہ اس کے چہرے پر ڈالتا ہے۔ اس طرح دولہا دلہن ایک دوسرے کو پہلی دفعہ دیکھ لیتے ہیں۔

’مسلمانوں میں ہندوﺅں کی شادی کی رسم مقبول ہو چکی ہیں اور ان کو مسلمانوں کی شادیوں کا ایک اہم حصہ بنا دیا گیا ہے۔ حالانکہ ان کا اسلامی عقائد سے تو کوئی تعلق نہیں ہے۔ دولہا اپنی دلہن کو اُٹھا کر ڈولی میں بٹھاتا ہے اور اس طرح دلہن کی رخصتی کی رسم پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے۔‘

پہلی بیگم بہرحال اول ہی رہتی ہے

دوسری جگہ مسز حسن علی میر نے ہمیں زنانہ اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا ہے کہ بادشاہ بیگم کا لقب بادشاہ کی پہلی بیگم کو دیا جاتا ہے۔ بادشاہ چاہے اور کتنی خواتین سے شادی رچائے لیکن بادشاہ بیگم اس کی پہلی بیگم ہی رہتی ہے۔ بادشاہ بیگم کی سواری کے آگے ڈنکہ بجتا چلا جاتا۔ اسی طرح شاہی چھاتا اوراستادہ اور مور پنکھ صرف ان کی سواری سے منسوب تھے۔ دو بٹالین پیادہ مع بینڈ دستہ نیزہ بازان، 36 سفید پوشاک مع ریاستی جھنڈا ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ اس کے پیچھے ایک فوجی بینڈ اور ڈنکہ جو اعلان کرتا جاتا کہ کون ذی شان سواری جا رہی ہے۔

چنڈول نامی بڑی پالکی 20 سواروں کے ساتھ چلتی اور سوار ہر آدھ گھنٹے بعد بدلتے تھے۔ اس کے پیچھے ایک خواتین دستہ ہوتا جس کا کام محض اتنا تھا کہ جب بادشاہ بیگم محل کے زنانے میں پہنچتی تھیں تو یہ عورت دستہ ان کو مزید اندر لے جاتا کیونکہ مردوں کو اندر جانے کی اجازت نہ ہوتی۔ جب بادشاہ بیگم شاہی ہودہ سے اترتیں تو چیف خواجہ سرا ان کے آگے چلتا اور ان کو اندرونِ زنانہ چھوڑ کر آتا ہے۔

مسز حسن لکھتی ہیں کہ ’بادشاہ بیگم کے جلو میں 50 بگھیاں میں نے خود گِنیں۔ ہر بگھی میں چھ خواتین ڈیوٹی پر موجود رہتی تھیں۔ بادشاہ بیگم کو سُلانے کے لیے چھ قصہ خواں عورتیں بصورتِ لوری موجود رہتیں۔ اعلیٰ مناصب کی خواتین نوکرانیوں اور دائیوں سے مالش کرواتی تھیں اور مالش کرواتے ہی سو جاتیں۔ اسی طرح پنکھا بھی ہمہ وقت جلتا تاکہ گرمی سے بچاﺅ رکھا جائے۔ کپڑے کا بنا ہوا پنکھا چھت کے ساتھ لگا ہوتا جس کو نوکرانیاں مستقل طور پر ہلاتی رہتی تھیں۔ بیگمات کے لیے تقریباً 50 خواتین ہر لمحہ موجود رہتیں۔ اکثر بیگمات میرے ساتھ صرف دو نوکرانیوں کودیکھ کر مذاق اڑاتی تھیں کہ میں اتنے کم نوکروں سے کیسے گزارا کرتی ہوں۔

’بہت سی خواتین قصہ خوانی کے لیے بھی شہزادیوں یا ملکہ کو قصے سناتیں اور سلاتی تھیں۔ اعلیٰ طبقہ کے مرد بھی مرد غلاموں کو اپنے ساتھ لوری سنانے کے لیے رکھا کرتے۔ زنانہ میں خواتین بہت سے کھیلوں میں بھی مصروف رہتی تھیں جیسے لڈو یا دوسری ہندسوں والی کھیلیں۔ مذہبی لوگ ایسی تمام کھیلوں کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ پنکھا سال کے آٹھ ماہ میں دن رات چلتا تھا۔ پنکھا چلانے یا جھلنے کے لیے بہت سے غلام موجود رہتے۔ نصب شدہ کپڑے کے بنے ہوئے پنکھے اس زمانے میں صرف مردان خانے میں ہوا کرتے۔ جبکہ عورتوں کے لیے انفرادی دستی پنکھے ہوتے تھے۔

’یورپیوں کے گھروں میں بھی چھت سے نصب شدہ پنکھے لگے ہوتے تھے جو رسیوں کے ذریعے چھت سے بندھے ہوتے اور غلام یا نوکر ہر وقت ان کو رسی کے ذریعے دوسرے کمرے سے چلاتے رہتے۔ خواتین نوکروں یا باندیوں کے ساتھ قدرے بہتر سلوک کیا جاتا۔ ان کی ڈیوٹیاں بھی باری پر لگائی جاتیں تاکہ وقفے کے دوران وہ کچھ آرام بھی کر سکیں۔

یہ کتاب انگلستان کے لوگوں کے لیے لکھی گئی تھی جنہیں ہندوستان سے دلچسپی تھی مگر اس میں ہمارے لیے آج بھی بہت سی ایسی باتیں ہیں جنہیں خود ہمارا معاشرہ بھول چکا ہے۔

(Visited 797 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں