خلافت عثمانیہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ … قسط نمبر 3

ارسلان

اب جب جنگ شروع ہوئی تو یہ افواہ پھیل گئی کہ شہنشاہ ارسلان مارا گیا ہے۔ اس افواہ نے لشکر کی کمر توڑ دی۔ فوج کچھ دیر منظم ہو کر لڑی اور پھر دھیمی پڑ گئی۔ مگر پھر بھی رومی فوج صرف 24 گھنٹے میں جنگ ہار چکی تھی۔

خلافت عثمانیہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ … قسط نمبر 2

جنگ کے خاتمے پر ایک عام سلجوقی سپاہی ارسلان کے سامنےآیا اس نے زخموں اور دھول مٹی سے اٹا ایک شخص ارسلان کے سامنے لا کر ڈھیر کر دیا۔
اس نے پوچھا: یہ کون ہے؟
بتایا گیا کہ یہ رومی شہنشاہ روماروسٹ ہے۔
الف ارسلان کو یقین نہ آیا کہ رومی شہنشاہ اس کے قدموں میں پڑا ہے۔ اس نے روماروسٹ کی گردن پر پاوں رکھ کر پوچھا:
“بتاو اگر میں ایسے تمھارے سامنے لایا جاتا تو تم کیا کرتے؟”
روماروسٹ نے کہا کہ میں تمھیں قتل کر دیتا اور قستنطینیہ کے بازاروں میں گھماتا۔
الف ارسلان نے جواب دیا اور تمہیں اندازہ بھی نہیں کہ میرا انجام کتنا بھیانک ہو گا ۔ ۔ ۔ (ہم نہیں جانتے! سلجوقی سلطان ارسلان کے منہ سے یہ الفاظ کیوں نکلے اور حقیقت بن گئے.. کیسے؟ یہ جاننے کیلئے آگئے پڑھیں.. )

ارسلان نے رومی بادشاہ سے کہا: ” میں تمہیں معاف کر دوں گا۔”
اس کے بعد الف ارسلان نے اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔ اسے اعلی لباس دیا کھانا دیا اور ایک معاہدہ طے کیا۔ جس کے تحت اناتولیہ کے بہت سے علاقے سلجوقیوں کے کنٹرول میں آگئے۔ رومی شہنشاہ نے 15 لاکھ سونے کے سکے سالانہ خراج اور اپنی بیٹی کی شادی سلطان کے بیٹے سے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد شہنشاہ کو آزاد کر دیا گیا۔ لیکن ہوا وہی جو الف ارسلان نے کہا تھا کہ میرا انجام اس سے بھی بھیانک ہو گا۔ شہنشاہ ابھی اپنے مرکز قستنطینیہ پہنچا بھی نا تھا کہ اسے پکڑ لیا گیا۔ اور ارسلان اپنے ہی ملک میں اپنے سلطنت سے ہاتھ دھو بیٹھا اور آخری انجام کو پہنچا. کیونکہ اس کے خلاف قستنطینیہ میں بغاوت ہو چکی تھی اور نیا شہنشاہ اقتدار سنبھال چکا تھا۔ انہوں نے رومانوسٹ کو گرفتار کر لیا اس کی آنکھیں نکال کر اسے قید خانے میں ڈال دیا۔ جہاں وہ بہت تکلیف دہ موت مرا۔
اس دن کے بعد سے کبھی اناتولیہ کا وہ علاقہ رومیوں کے قبضے میں نہ آیا. حالانکہ انہوں نے اسے پانے کی بہت کوششیں کیں مگر کوئی فائدہ مند ثابت نہ ہوئی۔ یہ جگہ تاریخ میں امر ہو گئی۔ (The End of Rome Empire)

اللہ کی راضا کچھ اور ہی تھی. رہی سلجوقی سلطنت بھی نہ!!!
سلجوقی ترکوں کی زیادہ تباہی کا سبب رومی نہیں بلکہ چنگیز خان تھا۔ جو کہ ایران اور سینٹرل ایشیاء کا حکمران تھا۔ اسے کپڑوں کا بہت شوق تھا ۔ اور بہترین کپڑا اسلامی ممالک میں بنتا تھا۔ اس نے مسلمانوں کے سلطان خوارزم شاہ کے پاس کچھ تاجروں کو بھیجا ۔ اسکا مقصد یہ تھا کہ وہ تاجر وہاں جا کر چنگیز خان کے لیئے بہترین کپڑا لے کر آتے ۔ لیکن چنگیز خان نے اس کے بھیجے تاجروں کو جاسوس سمجھ کر مار دیا ۔

چنگیز خان
Genghaius Khan چنگیز خان PC: Wikipedia

اس پر چنگیز خان غصے سے آگ بگولہ ہو گیا ۔ پھر اس نے معاملے کی تحقیق کے لیئے ایک قاصد کو خوارزم شاہ کے پاس بھیجا تو اس نے اسے بھی قتل کروا دیا ۔ اب چنگیز خان آندھی طوفان بن کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا ۔ اس نے چین کی سرحد سے بغداد تک مسلم ریاستوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی یہاں تک کہ وہ اناتولیہ تک پہنچ گیا ۔ چنگیز خان کے جانشینوں نے سلجوقیوں کی سلطنت بھی تہس نہس کر دی۔
(The End of Seljuk Sultanate)

(جاری ہے …)

(Visited 1,869 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں