لعنت ہے ایسی دوا پر

مائی نانکی

’’آپ کو آج اتنی کھانسی کیوں آرہی ہے؟‘‘

’’موسم کی تبدیلی کی وجہ سے گلا خراب ہو گیا ہے‘‘

’’یہ سب بہانے ہیں۔ مجھے معلوم ہے اس کھانسی کی اصل وجہ کیا ہے‘‘

’’تو بتا دو‘‘

’’مجھے کیا ضرورت پڑی ہے، جبکہ آپ اس کا علاج خود کرسکتے ہیں مجھ سے آپ نے کبھی اپنی ذاتی معاملوں کے متعلق مشورہ لیا ہے؟‘‘

’’کب نہیں لیا۔ ابھی کل ہی میں نے تم سے پوچھ کر، بلکہ تمہیں دُکان پر لے جا کر اپنے لیے

’’لوفرشو‘‘

خریدا تھا۔ اور تم نے اپنی مرضی کے مطابق ایک سینڈل لی تھی۔ حالانکہ وہ مجھے سخت ناپسند تھی۔ ‘‘

’’آپ کو تو میری پسند کی ہر چیز ناپسند ہوتی ہے‘‘

’’تم غلط کہتی ہو۔ پچھلے دنوں تم نمائش سے اپنے لیے بلاؤز کا کپڑا لائی تھیں تو میں نے بہت پسند کیا تھا۔ اور تمہارے ذوق اور انتخاب کی تعریف کی تھی‘‘

’’زندگی میں ایک دفعہ تعریف کردی تو بڑا احسان کیا‘‘

’’اس میں احسان کی کیا بات ہے۔ معلوم نہیں آج تمہارا مزاج کیوں بگڑ گیا ہے‘‘

’’مجھے کھانسی کی شکایت ہے۔ ساری رات کھانستی رہی ہوں‘‘

’’میں رات بھر جاگتا رہا ہوں۔ صرف تمہارے خراٹوں کی آواز کے سوا میں نے تمہارے حلق سے اور کسی قسم کی آواز نہیں سنی‘‘

’’آپ ایک عرصہ سے بہرے ہو چکے ہیں۔ آپ کے کانوں کے پاس کوئی لاکھ چِلّائے، واویلا کرے، مگر آپ کو کبھی سنائی نہیں دے گا‘‘

’’یہ کیا گفتگو ہے؟۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر تم کہنا کیا چاہتی ہو‘‘

’’میں کچھ کہنا نہیں چاہتی۔ اور کہنا بھی چاہوں، تو آپ کان دھر کر سنیں گے کب‘‘

’’کیوں نہیں سنوں گا۔ مگرتم کچھ کہوتو۔ اب میں تمہارے دل کی بات کیسے بُوجھوں‘‘

’’دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ مگر یہاں یہ راہ سرے ہی سے غائب ہے‘‘

’’کیسی غائب ہو گئی یہ راہ، میرا مطلب ہے، تمہارا میرا کوئی رشتہ نہیں رہا‘‘

’’بس سمجھ لیجیے، کچھ ایسی ہی بات ہے‘‘

’’یہ کتنی بڑی ٹریجڈی ہے، کہ مجھے جس بات کا وہم و گمان بھی نہیں، تم آج اس کا مجھ پر انکشاف کررہی ہو۔ داناؤں نے ٹھیک کہا ہے کہ عورت کو سمجھنا کارے دارد والا معاملہ ہے‘‘

’’جی۔ وہ دانا بھی تو ایسے مرد تھے۔ بھولی بھالی عورت میں ایسا کون سا پیچ ہے، جو ان کی دانائی کو شکست دے گیا۔ وہ غریب تو ایک سیدھی سڑک ہے جس میں کوئی خم ہے نہ موڑ‘‘

’’درست ہے۔ لیکن اس سیدھی سڑک پر ہر روز کئی

’’ایکسیڈنٹ‘‘

ہوتے ہیں۔ ہزاروں مرد اس سیدھی سڑک پر چلتے چلتے ایسے پھسلتے ہیں کہ سیدھے قبرستان میں پہنچ جاتے ہیں‘‘

’’آپ کیوں نہیں پہنچے ابھی تک وہاں؟‘‘

’’عنقریب پہنچ جاؤں گا۔ اگر تمہارا روّیہ اسی قسم کارہا‘‘

’’میرا روّیہ‘‘

۔ کیوں؟۔ میں نے آپ سے کیا بدسلوکی کی ہے؟۔ نوکرانی کی طرح آپ کی خدمت کرتی رہی ہوں، کیا آپ اس سے انکار کرسکتے ہیں؟‘‘

’’انکار کرنے کی مجال ہی نہیں، اس لیے کہ یہ ڈر ہے کہ تم آتش فشاں پہاڑ کی مانند پھٹ پڑو گی۔ اور اتنا لاوا اُگلو گی کہ مجھے ایک لمحے کے اندر کوئلہ بنا کررکھ دے گا۔ ‘‘

’’آتش فشاں پہاڑ تو آپ ہیں، جو آئے دن لاوا اُگلتے رہتے ہیں‘‘

’’یہ تمہارے اخبار کی نئی خبر ہے، جو میں تمہاری زُبان سے سن رہا ہوں۔ ورنہ اس سے پہلے۔ ‘‘

’’آپ اپنے اخبارمیں یہی مضمون چھاپتے رہتے تھے کہ عورتیں آگ کھاتی ہیں، انگارے بکتی ہیں۔ اور یہ جو مردوں کو کھانسی آتی ہے اس کی وجہ بھی عورت ہے‘‘

’’لو، تم نے کھانسی کا نام لیا تو میرے گلے میں خارش شروع ہو گئی۔ اچھا، اب بات مت کرو۔ دوا کا ایک ڈوز پینے کے بعد کسی قدر طبیعت بحال ہو گئی ہے‘‘

’’خدا آپ کی طبیعت بحال رکھے۔ میری تو یہی دعا ہے‘‘

’’تمہاری دعاؤں ہی سے تو میں اب تک زندہ ہوں، ورنہ کب کا مر چکا ہوتا‘‘

’’آپ کی یہ طنزیہ گفتگو مجھے پسند نہیں۔ مہین مہین چٹکیاں لینے میں جانے آپ کو کیا مزہ آتا ہے؟‘‘

’’سارا مزہ تم لے جاتی ہو۔ مہین مہین چٹکیوں کا فن تم بہتر جانتی ہو۔ میں اس سے بالکل کورا ہوں‘‘

’’آپ تو ہر چیز سے کورے ہیں۔ کورے برتن کی طرح۔ لیکن دنیا بھر کی آلائشیں اس برتن کے ساتھ چمٹی ہوئی ہیں‘‘

’’آج تم فلسفہ چھانٹنے لگی ہو‘‘

’’یہ اگر فلسفہ ہے، تو آپ خدا معلوم کیا چھانٹتے ہیں؟‘‘

’’۔ مجھے پھر کھانسی کا دورہ پڑ گیا ہے‘‘

’’آپ دوا کیوں نہیں پیتے؟‘‘

’’مجھے۔ مجھے اس سے نفرت ہے۔ اس میں بہت بُری بُو ہے‘‘

’’تو کیا ہوا۔ دوا آخر دوا ہوتی ہے۔ خوش ذائقہ ہو یا بد ذائقہ۔ اچھی بُو والی ہے یا بُری بُو والی۔ انسان کو پینی ہی پڑتی ہے۔ ‘‘

’’تم۔ تم اپنا لیکچر بند کرو۔ میں۔ میں۔ یااللہ میری توبہ۔ یہ کھانسی بھی کیا بلا ہے۔ سارا وجود متزلزل ہو جاتا ہے‘‘

’’آپ نے بدپرہیزی کی ہو گی‘‘

’’کون سی بدپرہیزی؟‘‘

’’چاٹ کھانے کی آپ کو چاٹ ہے۔ باہر ہی باہر کھاتے رہے ہوں گے‘‘

’’باہر باہر میں نے اس قسم کی کوئی چیز نہیں کھائی‘‘

’’لیکن، گھر تو آپ ہر روز کھاتے رہے ہیں‘‘

’’یہ الزام تم مجھ پر کس شہادت کی بنا پر عائد کررہی ہو؟‘‘

’’جناب جب پچھلے ہفتے سرگودھا گئی تھی، تو واپسی پر مجھے معلوم ہوا کہ آپ خود اپنے ہاتھ سے

’’آلو چھولے‘‘

تیار کرکے کھاتے رہے ہیں۔ املی، امچور، انار دانہ، سُرخ اور کالی مرچیں اس قدر ڈالی جاتی تھیں کہ آدمی کی زبان جل جائے‘‘

’’لیکن تمہاری زبان نہیں جلی، یہ جھوٹ بولتے ہوئے۔ تم اچھی طرح جانتی ہو۔ ‘‘

’’میں آپ کے بارے میں ہر بات کے متعلق اچھی طرح جانتی ہوں۔ کھٹی چیزوں سے تو آپ کو خاص رغبت ہے۔ عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ عورتیں کھٹی چیزیں پسند کرتی ہیں۔ لیکن آپ ان سے کئی رطیاں آگے بڑھے ہوئے ہیں‘‘

’’۔ کھانسی کا دورہ پھر شروع ہو گیا۔ ‘‘

’’ہونا ہی تھا۔ دوا لاؤں؟‘‘

’’۔ نہیں۔ نہیں۔ ‘‘

’’نہیں آپ کو پینا پڑے گی۔ ‘‘

’’بھئی، میں کہہ چکا ہوں کہ اس کی بو بہت بری ہے۔ اس کے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر کی۔ ڈاکٹر کی یہ ہدایت ہے کہ ایک ایک گھنٹے کے بعد خوراک پی جائے‘‘

’’تو آپ کو اس ہدایت پر عمل کرنا چاہیے‘‘

’’خاک عمل کروں۔ جب کہ دوا مجھے پسند ہی نہیں۔ میں ہر گھنٹے کے بعد عذاب سہنے کے لیے تیار نہیں‘‘

آپ جو کچھ بھی کہیں ٹھیک ہے، لیکن یہ دوا آپ کو ضرور پینا پڑے گی‘‘

’’اچھا بابا۔ میں ہارا، تم جیتیں۔ لاؤ گلاس‘‘

’’میں نے تیار کررکھا ہے۔ لیجیے‘‘

’’برف ڈال دی تھی اس میں؟‘‘

’’جی ہاں۔ آپ تو پہلے پانی ملا کر پیتے رہے ہیں۔ لیکن سرگودھا جانے سے پہلے، آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ ہدایت تھی کہ یہ دوا کھارے سوڈے کے ساتھ پی جائے۔ چنانچہ میں نے۔ ‘‘

’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ لاؤ، گلاس دومجھے کہ زہر مار کرلوں‘‘

’’یہ لیجیے۔ مگر آپ کا ہاتھ کانپ رہا ہے‘‘

’’کانپنے دو۔ دوا پینے کے بعد ٹھیک ہو جائے گا‘‘

’’کھانسی بھی انشاء اللہ دُورہو جائے گی‘‘

’’دیکھو جو اللہ کو منظور ہے۔ تویہ، کیسی بُری بُوہے اس کی۔ خوراک بھی اتنی بڑی ہے جو گھوڑوں کو دی جاتی ہو گی۔ بڑی بوتل میں بارہ کے نشان ہیں۔ یعنی دن میں بارہ مرتبہ اس واہیات چیز کو پانی یا سوڈے کے ساتھ ملا کر پیا جائے۔ یہ ڈاکٹر لوگ بھی عجیب قسم کے انسان ہیں۔ مریض کی نفسیات کے متعلق کچھ سوچتے ہی نہیں‘‘

’’نفسیات۔ یہ کیا چیز ہے‘‘

’’ٹھہرو۔ میں یہ دوا پی لوں، تو بتادوں گا کہ یہ کیا چیز ہے‘‘

’’۔ آپ کہتے تھے کہ یہ دوا بہت بری ہے، لیکن آپ سارا گلاس یوں پی گئے، جیسے کوئی بڑا مزے دار شربت ہو‘‘

’’تو کیا کرتا۔ مجبوری میں، انسان کو ہر مشکل خندہ پیشانی سے برداشت کرنا پڑتی ہے‘‘

’’اب گیارہ بجے ہیں۔ بارہ بجے آپ کو پھر یہی دوائی پینا ہے‘‘

’’پیوں گا۔ میرا باپ بھی پِیے گا۔ خدا اسے جنت نصیب کرے‘‘

’’اچھا، اب مجھے آرام کرنے دو۔ بارہ بجے اس واہیات دوا کی خواک لے آنا، جسے میں زہر مار کرلوں گا‘‘

’’کیا آپ سونا چاہتے ہیں؟‘‘

’’نہیں۔ سونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب تک اس دوا کی بوتل ختم نہ ہو جائے‘‘

’’تو آپ لیٹے رہیں گے؟‘‘

’’نہیں۔ دوسرے کمرے میں جا کر کوئی کتاب یا رسالہ پڑھوں گا، جب تک بارہ بج جائیں گے‘‘

’’آپ کیا کھائیں گے؟‘‘

’’جو تم نے پکایا ہو گا۔ ویسے اگر گردے ہوں توبہت اچھے رہیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ تھا کہ بھنے ہوئے گردے تمہارے گردوں کو جو کسی قدر کمزور ہیں، تقویت بخشیں گے‘‘

’’میں ابھی منگوا کر تیار کیے دیتی ہوں‘‘

’’آخری ڈوز کہاں گئی؟‘‘

’’وہ میں نے اپنی ہمسائی کو دے دی۔ اس کو بھی کھانسی کی شکایت تھی‘‘

’’لیکن۔ میرا مطلب یہ ہے کہ۔ اسے کچھ فائدہ ہوا؟‘‘

’’کچھ بھی نہیں۔ اس پر اس کا الٹا اثر ہوا ہے۔ دوا کی خوراک پینے کے بعد واہی تباہی بکنے لگی۔ غالبؔ اور میر کے شعر اپنے خاوند کو سناتی رہی‘‘

’’میں اتنے دنوں سے یہ دوائی پی رہا ہوں۔ غالبؔ کا سارا کلام مجھے حفظ ہے، لیکن میں نے آج تک تمہیں اس کا کوئی بھی شعر نہیں سنایا‘‘

’’شعر تو نہیں سنایا ہے۔ لیکن رات کو آپ اکثر سیاسیات پر لیکچر دیا کرتے ہیں‘‘

’’لیکچر۔ ہاں۔ میرا خیال ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس دوا میں شراب کا جُز ہے‘‘

’’شراب کا جُز قطعاً نہیں۔ اس کا ہر قطرہ شراب ہے‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

’’جی، ساری چالاکی کا علم ہو گیا۔ میری ہمسائی کے خاوند نے جب ڈاکٹر کو بلایا تو اس نے کہا کہ آپ کی عورت نے شراب پی ہے‘‘

’’تو لعنت ہے ایسی دوا پر‘‘

سعادت حسن منٹو

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں