کراچی میں 10ویں جونیئر لیڈرز کانفرنس کا آغاز

کراچی: تین روزہ 10ویں جونیئر لیڈرز کانفرنس (جے ایل سی) جس کا مقصد نوجوانوں کی قائدانہ صلاحیت، اعتماد اور تجربہ کو تقویت دینے کیلئے ڈریم ورلڈ ریزارٹ میں شاندارتقریب کا آغاز ہوا۔

اسکول آف لیڈر شپ (ایس او ایل) کے تحت سالانہ پروگرام گزشتہ 9سال سے منعقد ہو رہا ہے، جونیئر لیڈرز کانفرنس نے پورے پاکستان سے 13سے 16سال کی عمر کے 200سے زائد نوجوانوں کو اکٹھا کیا ہے۔

Photo: File

مختلف دیہی و شہری علاقوں اور سماجی و معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والے ان نوجوانوں کو تین دن کیلئے ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھا کیا ہے جہاں مہارت پر مبنی مختلف ورکشاپس کے ذریعہ انہیں اپنی شخصیت کی کھوج کیلئے موزوں ماحول فراہم کیا گیا ہے۔

10ویں جونیئر لیڈرز کانفرنس کی تھیم ٹرانسفارمرز، جنرل زیڈ قائدین ہیں اور 3روزہ سفر کے دوران کردار، اعتماد اور برادری کی بنیاد پر نوجوانوں میں تبدیلی کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

Photo: File

کانفرنس کا پہلا دن کردار کی تعمیر پر مرکوز ہے، دن کی شروعات شرکاء کی ڈریم ورلڈ ریزارٹ پہنچنے پر رجسٹریشن سے ہوا۔ اس موقع پر اسکول آف لیڈرشپ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقار علی نے کہا کہ نو عمر افراد آزاد پرندوں کی طرح ہیں، اور جونیئر لیڈرز کانفرنس کے ساتھ امید ہے کہ انہیں منزل و مقصد کی تلاش کرنے کیلئے موقع فراہم کریں جہاں وہ رہنمائی کا طریقہ سیکھیں گے۔

اسکول آف لیڈرزشپ کی بانی شیریں نقوی کا کہنا تھا کہ نو عمر نوجوان قیادت کیلئے تیار ہیں، آج کے نوجوان تاریخ کے سب سے زیادہ متنوع،منسلک رہنے والی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی اپنی، برادری اور دنیا کیلئے بہترین ناقابل یقین خواہشات ہیں۔

جے ایل سی انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کر رہا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو بدل کر دوسروں کیلئے بہترین مثال بن سکتے ہیں۔

Photo: File

پہلے روز انسانی دماغ کے بارے میں منعقدہ سیشن میں انمول زہرہ نے بتایا کہ آپ چاہیں جتنا بھی محتاط رہیں لیکن آپ خوشی اور غصے کو محسوس کریں گے،اور ان جذبات کا اظہار کرنا چاہیے۔

جونیئر لیڈرز کانفرنس ان بچوں کیلئے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں وہ اپنی شخصیت کو پہچانتے ہوئے جذباتی طور پر ذہین اور ہنر مندافراد کے طور پر اُبھر کر سامنے آسکتے ہیں۔

Photo: File

پہلے روز کا اختتام ایک عظیم الشان عشائیہ کے ساتھ ہوا جہاں بچوں کو لاشعوری طورپر خود سے پہلے دوسروں کا خیال رکھنے کا طریقہ سکھایا گیا۔ اس دن کے اختتام پر رات کے وقت بچوں کواپنی شناخت اور اپنے آپ پر غور کرنے کا موقع ملا۔

(Visited 35 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں