خلافت عثمانیہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ … ( قسط نمبر 4)

Loading...

سلطنت عثمانیہ کے آغاز کی کہانی کچھ یوں ہے کہ 13 صدی کے آخر میں سلجوقی سلطنت ختم ہوئی۔ (جیسا کہ آپ نے پچھلی اقساط میں پڑھا) اور اناطولیہ مختلف چھوٹی چھوٹی رہاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ پیچھے رہ جانے والی روم کی چھوٹی سی سلطنت تھی۔ جہاں پر الف ارسلان کی اولادیں حکومت کرتی تھیں.

خلافت عثمانیہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ … قسط نمبر 3

اسی روم اور رومی سلطنت کے درمیان یہیں کہیں ترک خانہ بدوش قبیلہ تھا۔ جو جانوروں کو لمبے گھاس کے میدانوں میں ہانک کر اپنی گزر بسر کرتا تھا۔ یہ ایک سفوط کی ریاست تھی جہاں اسی نام کا ایک قبیلہ رہائش پزیر تھا ۔ اس ریاست کا بانی اور قبیلے کا سردار ارطفرل تھا۔ یہ ترک ارطفرل کی قیادت میں آہستہ آہستہ مضبوط ہو رہا تھا کیونکہ یہ لوگ جنگجو اور بہادر تھے.

دنیا آج بھی اس قبیلے کو دنیا عثمانی ترک کے نام سے جانتی ہے۔
ان کا اصل نام کیا تھا؟
یہ ترک میں کہاں سے آ کر بسے تھے؟
شروع میں ان کا مذہب کیا تھا؟
مسلمان کب ہوئے؟ اور مسلمان بھی ایسے کے دنیا میں اسلام کو غالب کر ڈالا.

ان سب باتوں کا مستند حوالہ ممکن نہیں. کیونکہ ان کے بارے میں جو کچھ بھی لکھا گیا وہ تقریبًا 100 سال بعد لکھا گیا۔ جن میں اضافی باتوں کا بھی امکان ہے اور سچائی کا بھی۔

سلطنت عثمانیہ کا نام عثمانیہ ہی کیوں؟

سلطنت عثمانیہ ایک چھوٹے سے قبیلے سے شروع ہوئی. ارطغرل غازی اناطولیا کے علاقے میں آئے جن کے ساتھ صرف 300 خاندان تھے. یہاں پر بازنطینی عیسائی سلطنت کی حدودیں تھیں. ارطغرل غازی اور ان کے جانباز سپاہی بہترین جنگجو تھے. ان جنگجو سپاہیوں نے چھوٹے چھوٹے کئی علاقے فتح کئے. جو اس وقت سلجوک سلطنت کا حصہ تھے.

Loading...
عثمان اول
عثمان اول PC: BBC Urdu

1281 میں ارطفرل کے انتقال کے بعد اس کے صاحبزادے عثمان اول کو سردار بنایا گیا ۔ یہی عثمان اول سلطنت عثمانیہ کا بانی بنا تھا۔ ارطغرل کے بیٹے عثمان غازی نے اپنے باپ کے بعد یہ مِشن جاری رکھا. اور سلجوقیوں کے زوال پر اپنے چھوٹے سے مفتوحہ علاقے پر اپنی خود مختار حکومت قائم کر لی. سلطنت عثمانیہ کی بنیاد پڑی.

عثمانیوں نے ابتدا ہی میں یورپ کے کئی علاقے فتح کر لیئے تھے۔ سلمان عالیشان کے دور میں سلطنت اپنے فوجی سیاسی معاشی اور ثقافتی عروج پر پہنچ گئی۔ بس پھر کیا تھا. اگلے آنے والے سلاطین پہلے سے بڑھ کر ثابت ہوئے. سلطنت بڑھتی گئی. 1453ء میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد یورپ کے دروازے بھی کھل گئے. سلطان سلیمان اول کے دور تک سلطنت مکمل عروج پر تھی. 1683ء تک جب تک عثمانیوں کو ایک بڑی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا، سلطنت عثمانیہ بڑھتی ہی رہی.

(جاری ہے … عثمان اول نے کیا خواب دیکھا تھا؟ )

(Visited 533 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں