” لنچ باکس ” کیا آپ کے بچوں کے لیے بھی سزا ہے؟

بچوں کو لنچ

کالم تو آپ پڑھ ہی لیں گے، پہلے یہ ویڈیو دیکھیں:

مجھے آج بھی یاد ہے میری ایک ساتھی ٹیچر نے اپنی کلاس کے بچے کے بارے میں بتایا کہ وہ روزانہ دوسرے بچوں کا لنچ چوری کر کے کھا جاتا تھا۔ کیونکہ اس کی ماں اسے روزانہ صرف ایک چھوٹی سی چاکلیٹ دیتی تھی.
ایک اور ساتھی ٹیچر مسز کمال نے بتایا کہ ان کی کلاس کا ایک بچہ لنچ باکس میں ڈبل روٹی انڈا لاتا تو تھا مگر ڈسٹ بن میں پھینک دیتا تھا.
اس جیسے بے تحاشا قصے اور لاتعداد ویڈیوز میں دکھا سکتی ہوں، مگر فائدہ؟
مسائل کارونا رونے کی بجائے اس کے حل پر توجہ دینی ہو گی۔

آخر مسئلہ ہے کیا؟
“لنچ باکس” بچوں کے لیے غذا کی بجائے “سزا” کیوں ہے؟

میری نزدیک ماں اپنے بچے کی بہترین استاد اور ڈاکٹر ہو سکتی ہے۔
اسکول ایک ایسی جگہ ہے جہاں بچہ روزانہ چھ سے سات گھنٹے گزارتا ہے اور دماغ کا استعمال کرتا ہے۔ تو اس دوران ملنے والا لنچ بریک بہت اہمیت کا حامل ہے۔
اگر آپ بچوں کو ان کی مرضی سے لنچ کروائیں گی۔ جو مزیدار اور مہنگا تو ہو گا، پر صحت بحش نہیں ہو گا. تو آگے چل کر اآپ کے بچے کو مہلک بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں.
اس کے علاوہ کیا وجہ ہے کہ نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک اور کینسر جیسی جان لیوا امراض بہت عام ہوگئی ہیں۔

اسکول لنچ بچوں اور نو عمر نوجوانوں کی غذائی اجزا اور توانائی کے حصول کا ایک اہم حصہ ہے ۔ سکول لنچ ان بچوں کے مسائل کا بہترین حل ہے جن کو صبح سویرے بھوک نہیں لگتی.
بچوں کی خوراک کا 1/2 سے 1/3 حصہ سکول لنچ پر منحصر ہوتا ہے. اس لیے اگر اسکا انتخاب صحیح طریقے سے کیا جائے تو سکول سنیکس غذا کا وہ اہم حصہ فراہم کر سکتے ہیں جو روزانہ کی خوراک میں سے نکل جاتا ہے۔ ضروری غذائی اجزا بچوں کو ایکٹو رہنے، پڑھائی پر توجہ مرکوز رکھنے اور سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

اگر ہم مغربی ممالک کے اسکولوں سےموازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے بچوں کو لنچ فراہم کرنا اسکول کی ذمہ داری ہوتی ہے نا کہ والدین کی۔۔

ترقی یافتہ ممالک میں اس بات پر بہت زور دیا جاتا ہے اور سکول لنچ “نیشنل نیوٹیشنل سٹینڈرڈ” کے مطابق تیار کیا جاتا ہے اور اس بات پر خاص توجہ دی جاتی ہے کہ بچوں کو صحت بخش اور متوازن غذا ملے ۔
اس سلسلے میں پاکستان میں بھی کچھ کام کیا گیا ہے جیسا کہ ” توانا پاکستان “ جیسے منصوبے کا اجزا اس پراجیکٹ کے ذریعے بڑے پیمانے پر دیہی علاقوں میں سکول لنچ کی اہمیت اور اس کے تصور کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی ہے ۔
یہ پروگرام دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی غذائی کمی کے شکار نوجوان لڑکیوں کی صحت بہتر کرنے میں بھی کامیاب ہوا۔ مگر ابھی بھی پاکستان کے بچوں کی صحت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے ہنگائی انتظامات کی اشد ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خدارا! اپنے بچوں کو لنچ نہ دیں

ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو لنچ میں ہلکی پھلکی غذا دیتے ہیں۔ وہ مختلف اقسام کے ہوتے ہیں جن میں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ باہر کے ممالک اپنی قوم کے بچوں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور بہترین انداز سے پالا جاتا ہے۔ وہ جو کھا رہے ہیں اس میں ڈسیپلن ، ورائٹی، غذائیت اور ذائقہ پایا جاتا ہے۔

سب کا ایک جیسا لنچ باکس ہونے کی وجہ سے ان بچوں میں احساس محرومی یا احساس برتری بھی نہیں پیدا ہوتی۔

جیسا کہ میں نے کہا پاکستان میں حالات مختلف ہیں۔ چند اسکولز کا ماننا ہے کہ بچوں کو ٹھوس ناشتہ کروایا جائے اور لنچ میں صرف ہلکی پھلکی غذا جیسے کباب، سینڈوچ، فرائز ، تازہ پھل وغیرہ دیے جائیں۔
اکثریت اسکولوں کی ایسی ہے کہ ماں باپ جو مرضی دیں بچوں کو اسکول انتظامیہ ذمہ دار نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں مضبوط کینٹن سسٹم رائج ہے۔

پاکستان کینٹینز سسٹم

پاکستانی کینٹینز میں فاسٹ اور جنک فوڈز وافر تعداد میں دستیاب ہوتے ہیں ۔ جن کے بارے میں کوئی گارنٹی نہیں کہ آیا وہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق بنائیں گئے ہیں یا نہیں اور گھی یا تیل کونسا استعمال ہوا ہے؟
ہمارے زمانے میں تو نان ٹکی، سموسہ، کباب، آلو چنے، سٹہ، بیسن والا نان وغیرہ جیسی اشیاء اسکول کی کینٹین سے ملا کرتی تھیں۔ لیکن آج کل کا دور پیزا، برگر، کیک پیسٹری، نوڈلز اور شوارموں نے لے لی ہے۔ جو کسی طور بھی غذائیت بخش نہیں ہوتے، الٹا ان کے اجزاء موٹاپا اور دیگر مسائل پیدا کرتے ہیں۔

میں صرف ایک اسکول کی بنیاد پر بات نہیں کر رہی اور نا ہی میرا ٹارگٹ اسکولز ہیں کیونکہ اسکولوں نے تو وہی طریقہ کار اپنانا ہے جو ہمارے ملک کے نظام تعلیم کے مطابق ہو اور ہمارے ملک میں دوہرا نظام تعلیم ہے۔ نہ مکمل طور پر مغربی طرز کا ہے اور نہ ہی روایتی مشرقی مدارس کی طرح کا۔ سرکاری اسکولوں کا تو ویسے ہی برا حال ہے اور پرائیویٹ اسکولوں کا بظاہر مقصد کاروبار لگتا ہے۔

لنچ باکس میں شامل کیا کیا ممکنہ اشیاء ہو سکتی ہیں؟

اب آئیں ہم اس گھمبیر مسئلے کا حل نکالتے ہیں جو نہ جیب پر بھاری ہو اور نہ صحت پر، لیکن بچے شوق اور اس اعتماد کے ساتھ کھا سکیں کہ ان کی ماں نے انہیں بہترین لنچ دیا ہے۔

اگر ہم حساب لگائیں تو ایک مہینے میں 30 دن ہوتے ہیں یعنی چار ہفتے۔ ہر ہفتے میں دو چھٹیاں ۔ کل ملا کر 8 دن اسکول بند ہوتے ہیں۔

بقیہ 22 دن

چار ہاف ڈے 4 Half Days

اب رہ گئے ۱۸ دن 18 Days

اگر ہم18 کو 3 پر تقسیم کر لیں تو 6 دن نکلتے ہیں جن میں حقیقتاً آپ کو محنت کرنی ہو گی یا پھر لنچ چارٹ بنانا ہو گا۔ وہی 6 دن کا چارٹ (ٹائم ٹیبل) بقیہ 12 دنوں پر دوہرا لیں۔ اس طرح 18 دن پورے ہو جائیں گے۔
اب آپ سوچ رہیں ہوں گے یہ ہاف ڈیز کا کیا کریں۔ بچوں کو ان کی مرضی کے مطابق اپنا پسندیدہ لنچ اسکول سے یا کہیں باہر سے لینے دیں. اس سے آپ کے بچے کا اآپ پر اعتماد بھی بڑھے گا اور دوسرے بچوں کو باہر کا لنچ کھاتا دیکھ کر پیدا ہونے والی احساس محرومی بھی پیدا نہیں ہوگی.

جاری ہے

(Visited 182 times, 1 visits today)

Comments

comments

بچوں کا لنچ, بچے, لنچ, لنچ باکس,

اپنا تبصرہ بھیجیں