‘حمل کے دوران ماں کا موٹاپا بچے کی نشوونما کیلئے نقصان دہ ہے’

پہاڑی
Loading...

حمل کے دوران ماں کا موٹاپا آنے والے برسوں میں بچوں کی نشوونما پر طویل المعیاد اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کولمبیا یونیورسٹی کے میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دوران حمل ماں کا موٹاپا آنے والے برسوں میں بچوں میں اسکول سے قبل ذہنی نشوونما اور لڑکوں میں ذہانت کی سطح یا آئی کیو میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

‘مصنوعی مٹھاس کا استعمال موٹاپے سے بچانے میں مددگار نہیں’

جریدے بی ایم سی پیڈیاٹرکس میں شائع تحقیق میں 368 ماﺅں اور ان کے بچوں کا جائزہ لیا گیا جو یکساں معاشی حالات اور علاقوں میں مقیم تھے۔

خواتین کا جائزہ دوران حمل اور پھر اس وقت لیا گیا جب بچوں کی عمر 3 اور 7 سال ہوگئی۔

جب بچوں کی عمر 3 سال تھی تو سائنسدانوں نے بچوں کی موٹر اسکلز کی پیمائش کی اور دریافت یا کہ دوران حمل موٹاپے اور لڑکوں میں موٹر اسکلز متاثر ہونے کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے۔

اسی طرح 7 سال کی عمر میں دوبارہ جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ جن لڑکوں کی مائیں دوران حمل زیادہ جسمانی وزن یا موٹاپے کی شکار ہوتی ہیں، وہ آئی کیو ٹیسٹ میں دیگر لڑکوں کے مقابلے میں 5 یا اس سے زیادہ پوائنٹس پیچھے رہتے ہیں، مگر لڑکیوں میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آیا۔

Loading...

محققین کا کہنا تھا کہ مختلف عمروں میں نشوونما کا تجزیہ کرنے پر ہم نے یہ اثرات دریافت کیے جو کہ حیران کن ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اثرات وقت کے ساتھ برقرار رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نتائج کا مطلب کسی کو شرمندہ کرنا یا ڈرانا نہیں، ہم تو بس یہ سمجھنے کا آغاز کررہے ہیں کہ دوران حمل ماﺅں کے وزن اور ان کے بچوں کی صحت کے درمیان کس طرح کا تعلق موجود ہے۔

یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ دوران حمل موٹاپے سے بچے کی نشوونما کیوں متاثر ہوتی ہے مگر سابقہ تحقیقی رپورٹس میں ماں کی غذا اور دماغی نشوونما کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا تھا، جیسے ایسے بچے زیادہ آئی کیو اسکور حاصل کرتے ہیں جن کی مائیں دوران حمل مچھلی میں پائے جانے والے مخصوص فیٹی ایسڈز کا زیادہ استعمال کرتی ہیں۔

غذائی اور رویوں کا فرق ممکنہ طور پر اہم عناصر ہیں یا بچے کی نشوونما شاید اضافی جسمانی وزن والے افراد کے جسموں میں ہونے والی تبدیلیوں جیسے ورم، میٹابولک تناﺅ، ہارمونز متاثر ہونا جبکہ انسولین اور گلوکوز کی سطح میں اضافے وغیرہ سے متاثر ہوتی ہے۔

محققین نے مختلف عناصر کا جائزہ لیا جیسے قومیت، ازدواجی حیثیت، ماں کی تعلیم اور آئی کیو، بچے کی قبل از وقت پیدائش یا ہوائی آلودگی وغیرہ سے ماحولیاتی زہریلے مواد سے متاثر ہونا وغیرہ۔

بچے کے گھر کے ماحول کو بھی دیکھا گیا اور دریافت کیا گیا کہ پرورش کا ماحول موٹاپے کے منفی اثرات کو کم کرسکتا ہے، مگر آئی کیو کی سطح پر اثر ضرور ہوتا ہے۔

(Visited 48 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں