کس عمر کی خواتین کا حمل زیادہ ضائع ہوتا ہے؟

حمل
Loading...

 آج کے جدید طرز زندگی میں خواتین کا زیادہ عمر میں جا کر ماں بننے کا رجحان بہت بڑھ چکا ہے۔

جس کی کیریئر بنانے سمیت متعدد وجوہات ہیں۔ تاہم اب سائنس دانوں نے زیادہ عمر میں جا کر فیملی شروع کرنے والی خواتین کے لیے اس کا انتہائی سنگین نقصان بتا دیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیقاتی رپورٹ میں ناروے کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ خواتین کی عمر جتنی زیادہ ہو ان کے اسقاط حمل ہونے کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ 25 سے 29 سال کی عمر میں ماں بننے والی خواتین میں اسقاط حمل ہونے کا امکان سب سے کم، صرف 10 فیصد ہوتا ہے۔

تحقیقاتی نتائج کے مطابق اگر خواتین عمر کی 30 کی دہائی کے اوائل میں حاملہ ہوں تو ان میں اسقاط حمل کا امکان 11 فیصد ہو جاتا ہے جو 35 سے 39 سال کی خواتین میں بڑھ کر17  فیصد، 40 کی دہائی کے اوائل کی خواتین میں 32 فیصد اور 45 سال سے زائد عمر کی خواتین میں  54 فیصد ہو جاتا ہے۔

loading...

حاملہ خواتین کے لیے خطرناک ترین مقام

اس تحقیق میں نارویجن انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کے سائنسدانوں نے 2009 سے 2013 کے دوران 4لاکھ  20 ہزار حاملہ خواتین کی عمر اور ان میں اسقاط حمل کی شرح کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی خاتون کا پہلے بھی ایک اسقاط حمل ہو چکا ہو تو ان میں دوسری بار اسقاط حمل ہونے کے خطرے مذکورہ بالا شرح میں 50 فیصد کا مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

 

(Visited 113 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں

%d bloggers like this: