کبھی میں بھی ’یوتھیا‘ تھا !

یوتھیا

’ یوتھیا‘ ایک بیماری ہے جس کا کبھی میں بھی شکار تھا۔ جب کسی کو یہ بیماری لگ جائے تو وہ سامنے والے کو نہیں دیکھتا کیونکہ ان کے سامنے صرف خان ہوتا ہے۔

کچھ عرصہ سے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے ورکروں سے تو تو میں میں جاری ہے۔ یہ زبانی جنگ اچھے دوستوں سے محروم بھی کرا چکی ہے۔ ’یوتھیا‘ ایک بیماری ہے جو ان کو لگ چکی ہے اور جس کا کبھی میں بھی شکار تھا۔ جب کسی کو یہ بیماری لگ جائے تو وہ سامنے والے کو نہیں دیکھتا کیونکہ ان کے سامنے صرف خان ہوتا ہے۔

میرا واسطہ فیس بکی ’یوتھیوں‘ سے زیادہ رہا ہے جن کے نزدیک معلومات کا سارا ذخیرہ کاپی پیسٹ کی پوسٹس ہیں۔ جس میں بابا کوڈا کے پوسٹ زیادہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ پی ٹی آئی کا پیڈ گروپ ہے۔

شاید یہ 2010 تھا یا 2009 جب میں پشاور میں صحافت کر رہا تھا اور میرے دوست فرقان شاہ کی عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ وابستگی تھی۔ کسی بات پر اس کے پارٹی سے اختلافات ہوئے تو بہت اپ سیٹ تھا کیونکہ اس نے پارٹی کو بہت سی قربانیاں دی تھیں۔ میرا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ دوست کو دلاسہ دیا کہ نئی پارٹی جوائن کر لو وہ تمہارے پیچھے خود آئیں گے۔

یہ بات اس کے دل کو لگی اور یوں تحریک انصاف پر بات اٹک گئی کہ یہ پارٹی مستقبل کی پارٹی ہے۔ اور پھر وہ دن آیا جب میں نے اور فرقان شاہ نے اپنے دوستوں کے ساتھ پی ٹی آئی کا بڑا جلسہ 2010 میں اپنے گاوں میں کراویا۔ پارٹی کو لوگ جاننے لگے۔ اے این پی والوں نے رجوع کیا مگر دوست پارٹی اجلاسوں میں جانے لگے اور پھر ضلعی جنرل سیکرٹری بھی بن گئے۔ ہم تحصیل کے ایک چھوٹے عہدے پر آگئے کیونکہ وقت نہیں دے سکتے تھے۔

یہ وقت تھا جب الیکشن 2013 کی تیاریاں تھیں۔ ہم نے پی ٹی آئی کو علاقے میں فعال کیا۔ فرقان شاہ سے یہاں غلطی ہوگئی وہ الیکشن کے لیے کھڑے نہ ہوئے۔ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو کامیاب کروایا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب کوئی عمران خان کے خلاف بات کرتا تو ہم آپے سے باہر ہو جاتے تھے۔ پارٹی کے خلاف کوئی بات ہوتی تو منہ توڑ جواب دیتے۔

اس دوران میں نے ایک نجی یونیورسٹی جوائن کی جہاں میں نے پارٹی کی پرچار جاری رکھی۔ ایک ساتھی نے پی ٹی آئی کی ’نیا پاکستان‘ والی شرٹ پہننے پر اعتراض کیا کہ ٹیچنگ کے ساتھ یہ اچھا نہیں لگتا۔ کم ازکم یونیورسٹی یہ شرٹ پہن کر مت آیا کرو مگر ہم ’یوتھیے‘ تھے اس کے ساتھ جھگڑ پڑے۔ پھر جب انٹرا پارٹی الیکشن اور 2013 کے بعد پارٹی کے اندر بھیڑیوں سے واسطہ پڑا تو چپکے سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

تبدیلی کے خلاف مضمون لکھا اور مجھ پر گالیوں کی برسات شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے۔ 2014 جولائی میں پی ٹی آئی سے علیحدہ ہوگئے۔ نئی حکومت آئی۔ خان صاحب وزیر اعظم بن گئے۔ پہلی تقریر نے پھر سے ’یوتھیاپا‘ پیدا کیا مگر وہ چند روز کا تھا کیونکہ ٹیم اچھی نہیں تھی۔ ڈی چوک والا لہجہ تھا۔ فیس بک پوسٹس پر پی ٹی آئی والوں سے تو تو میں میں جاری رہی۔

اب عمران خان کی ناکامی کے بعد وہی لوگ دوبارہ مسلط ہو جائیں گے یہ خوف بھی موجود ہے۔ حقیقت میں خان کا وژن ٹھیک ہے مگر ان کے ساتھ بندے ٹھیک نہیں ہیں۔ ’یوتھیوں‘ نے بہت کوشش کی کہ تبدیلی آ جائے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے مگر اب جو مہنگائی کا عالم ہے اس سے عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں