مائی جنتے

مائی نانکی

مائی جنتے سلیپر ٹھپٹھپاتی ‘ گھسٹتی کچھ اس انداز میں اپنے میلے چکٹ میں داخل ہوئی ہی تھی کہ سب گھر والوں کو معلوم ہو گیا کہ وہ آ پہنچی ہے۔ وہ رہتی اسی گھر میں تھی جو خواجہ کریم بخش مرحوم کا تھا‘ اپنے پیچھے کافی جائیداد ‘ ایک بیوہ اور دو جوان بچیاں چھوڑ گیا تھا‘ آدمی پرانی وضع کا تھا۔ جونہی یہ لڑکیاں نو دس برس کی ہوئیں ان کو گھر کی چار دیواری میں بٹھا دیا اور پہرہ بھی ایسا کہ وہ کھڑکی تک کے پاس کھڑی نہیں ہو سکتیں مگر جب وہ اﷲ کو پیارا ہوا تو ان کو آہستہ آہستہ تھوڑی سی آزادی ہو گئی‘ اب وہُ لک چھپ کے ناول بھی پڑھتی تھیں۔ اپنے کمرے کے دروازے بند کر کے پوڈر اور لپ اسٹک بھی لگاتی تھیں۔ ان کے پاس ولایت کی سی ہوئی انگیا بھی تھیں۔ معلوم نہیں یہ سب چیزیں کہاں سے مل گئی تں یھ۔ بہرحال اتنا ضرور ہے کہ ان کی ماں کو جو ابھی تک اپنے خاوند کے صدمے کو بھول نہ سکی تھی ‘ ان باتوں کا کوئی علم نہیں تھا۔ وہ زیادہ تر قرآن مجید کی تلاوت اور پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی میں مصروف رہتی اور اپنے مرحوم شوہر کی رُوح کو ثواب پہنچاتی رہتی۔ گھر میں کوئی مرد نوکر نہیں تھا۔ مرحوم کے باپ کی زندگی میں ‘ نہ مرحوم کے زمانے میں‘ یہ ان کی پرانی وضعداری کا ثبوت ہے۔ عام طور پر ایک یا دو ملازمائیں ہوتی تھیں جو باہر سے سودا سلف بھی لائیں اور گھر کا کام بھی کریں۔ دسویں جماعت خود مرحوم نے اپنی بچیوں کو پڑھا کر پاس کرائی تھی۔ کالج کی تعلیم کے وہ یکسر خلاف تھے‘ وہ ان کی فوراً شادی کر دینا چاہتے تھے مگر یہ تمنا ان کے دل ہی میں رہی ‘ ایک دن اچانک فالج گرا اس موذی مرض نے ان کے دل پر اثر کیا اور وہ ایک گھنٹے کے اندر اندر راہئ ملک عدم ہوئے۔ باپ کی وفات سے لڑکیاں بہت اُداس رہنے لگیں۔ انھوں نے ایک دن ماں سے التجا کی کہ وہ ان کو کسی کالج میں داخل کرا دیں ‘ پر جب زیادہ اصرار ہوا اور انھوں نے کئی دن کھانا نہ کھایا تو اُس نے مجبوراً ان کو ایک زنانہ کالج میں داخل کرا دیا۔ مائی جنتے نے وعدہ کیا کہ ہر روز ان کو صبح کالج چھوڑ آئے گی۔ سارا وقت وہیں رہے گی اور جب کالج بند ہو گا تو انھیں اپنے ساتھ لے آیا کرے گی۔ اس نے اپنی مالکن سے یہ وعدہ کچھ ایسے پُرخلوص انداز میں کیا کہ وحیدہ بانو مرحوم خواجہ کریم بخش کی بیوہ کی یہ بیٹیاں نہیں خود اس کی جنی ہیں۔ اس نے بہو بیٹیوں کو پردے میں رکھنے کی حمایت میں اپنے انداز میں مولویوں کی طرح ایک لمبی چوڑی تقریر بھی کی لیکن پھر یہ کہا:

’’تعلیم بھی ضروری ہے کہ اسلام اس سے منع نہیں کرتا‘ پر دیکھ بھال بہت ضروری ہے ‘ جوان جہاں ہیں‘ ان پر بڑی کڑی نگرانی ہونی چاہئیے۔ میں تو ان کے پاس کوئی مکھّی بھی نہ پھٹکنے دُوں‘ کوئی ایسی ویسی شرارت کریں گی تو وہ کان اینٹھوں کہ بلبلا اُٹھیں گی اور یاد کریں گی کس بڑھیا سے پالا پڑا ہے۔ لیکن یہ کیوں کرنے لگیں شریف خاندان کی ہیں۔ روزے نماز کی پابند ہیں۔ اور بے سمجھ بھی نہیں‘ نیک و بد اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ دونوں لڑکیوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا‘ ایک برس کے فرق کے بعد ہی چھوٹی جس کا نام نسرین تھا‘ پیدا ہوئی تھی‘ بڑی کا نام پروین تھا‘ دونوں خوبصورت تھیں ‘ چہرے مہرے سے خاصی اچھی۔ قد موزوں‘ شکل آپس میں کافی ملتی تھی‘ دونوں ہر وقت اکٹھی کھیلتیں مگر گڑیوں کا زمانہ عرصہ ہوا لَد چکا تھا‘ اب جوانی کی شرارتوں کے دن تھے۔ کالج میں جاتے ہی انھوں نے پر پرزے نکالے اور اِدھر اُدھر ان تتلیوں کی طرح جن کو کسی پھول کی تلاش ہو ‘ ادھر ادھر پھڑپھڑانا شروع کر دیا۔ مائی جنتے ساتھ ہوتی تھی۔ وہ کالج کی بوڑھی چپڑاسن کے ساتھ اس وقت حقہ پیتی رہتی جو پاس ہی کوارٹر میں رہتی تھی‘ دونوں ہم عُمری کے باعث بہت جلد گہری سہیلیاں بن گئی تھیں۔ جب دونوں ایک ساتھ بیٹھتیں تو اُس زمانے کی باتیں چھڑ جاتیں جبکہ وہ بھی جوان تھیں‘ چپڑاسن کو کسی لڑکی سے رغبت یا محبت نہیں تھی۔ وہ مائی جنتے کو بڑی پرانی کہانیاں سُناتی‘ فلاں سن میں ایک بیرسٹر کی لڑکی کو حمل ہو گیا تھا جو بڑی مشکل سے گرایا گیا۔ پرنسپل صاحب کو دس ہزار روپے رشوت کے ملے کہ اس کا منہ بند رہے۔ پار سال ایک لڑکی جو بڑے اونچے گھرانے کی تھی‘ اس سے دینیات کے مولوی صاحب کو عشق ہو گیا‘ چنانچہ موقع پا کر اس لونڈیا کو دبوچ لیا‘ پکڑے گئے اور کالج سے داڑھی اور برقعہ دونوں پولیس کے ہاتھوں میں‘ داڑھی تو پانچ سال کی قید بھگت رہی ہے۔ معلوم نہیں اس ریشمی برقعہ کاکیا ہوا۔ بوا‘ میں تو ایسی باتوں میں دھیان ہی نہیں دیتی۔ مجھے کیا غرض پڑی ہے کہ ان کتّیوں کے کارناموں پر اپنا وقت ضائع کروں‘‘

مائی جنتے نے حُقّے کی نَے منہ سے الگ کر دی

’’نہ بُوا‘ ایسی باتیں نہیں کیا کرتے۔ وہ کیا کہاوت ہے کہ کونسا شہسوار ہے جو نہیں گرا۔ اور وہ کون سا پتّا ہے جو نہیں ہلا۔ خدا تمہارا بھلا کرے۔ ہم لوگوں کو خاموش ہی رہنا چاہیے اور اﷲ میاں سے دُعا کرنی چاہیے کہ وہ کسی کی بہو بیٹی کو بُرے کاموں کی طرف نہ لے جائے‘ اُن کی عزت آبرو اپنے کرم سے سنبھالے رکھے‘‘

چپڑاسن اس کی باتوں سے بہت متاثر ہوئی کہ کتنی نیک عورت ہے۔ اس کو دل ہی میں بڑی ندامت ہوئی کہ اس نے اتنی لڑکیوں میں کیڑے ڈالے اور ان کے راز افشا کیے۔ اُس نے چنانچہ فوراً مائی جنتے سے معافی مانگی اور کانوں کو ہاتھ لگایا کہ آئندہ وہ ایسی باتوں سے دُور ہی رہے گی۔ کسی لڑکی کے بارے میں اسے کچھ پتہ بھی چل گیا تو وہ اپنی زبان بند رکھے گی۔ مائی جنتے نے اسے بڑی شاباشیاں دیں‘ اتنے میں کالج چھوٹ گیا‘ اس نے پروین اور نسرین کو ساتھ لیا اور گیٹ سے باہر جا کر اُس نے اُن سے کہا ‘ آج تمھیں شام کو یہاں نہیں آنا پڑے گا؟‘‘

پروین نے جواب دیا :

’’ہمیں تو کسی نے نہیں کہا‘‘

’’اصل میں تم دونوں بہت بیوقوف ہو۔ دھیان سے ہر بات سُنا کرو۔ میں تمھیں کسی سے پوچھ کر بتا دوں گی‘ گھر پہنچ کر مائی جنتے نے ان کے لیے چائے تیار کی اور بڑی پھرتی سے میز پر لگا دی۔ پھر وہ ان کی ماں کے پاس اپنی پیالی لے کر بیٹھ گئی اور چپڑاسن سے جو باتیں اس کی ہوئی تھیں، مِن و عن سُنا دیں۔ اُس نے آخر میں اس کو مشورہ دیا کہ پیدل آنا جانا ٹھیک نہیں۔ میرا خیال ہے آپ کسی ٹانگے کا بندوبست کر دیں تو ٹھیک رہے۔ پیدل چلو‘ تو کوئی غنڈہ کندھا ہی رگڑ دے بیٹیوں کے ساتھ۔ مائی جنتے کا یہ مشورہ بڑا معقول تھا چنانچہ ٹانگے کا بندوبست دوسرے ہی روز ہو گیا۔ مائی جنتے نے ایک ٹانگے والے سے مہینے بھر کا کرایہ طے کر لیا۔

’’دوسرے تیسرے روز اپنی مالکن وحیدہ بانو کو یہ خبر سنائی کہ پڑوس میں دیوار کے ساتھ جو جگہ خالی ہوئی تھی‘ اس میں نئے کرایہ دار آن بسے ہیں‘‘

وحیدہ بانو نے پوچھا :

’’کون لوگ ہیں؟‘‘

’’جانے ہماری۔ ہوں گے کوئی ایرے غیرے‘ نتّھو خیرے۔ میں نے تو کسی سے پوچھا نہیں‘‘

ایک دن دوسری طرف سے کوٹھے پر سے کسی شخص نے ایسے ہی جھانک کر ان کے صحن میں دیکھا۔ ایک ہنگامہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ مائی جنتے کہیں باہر گئی تھی‘ وحیدہ بیگم نے فوراً کواڑ کی اوٹ میں کھڑے ہو کر محلے کے ایک چھوٹے سے لڑکے کو بُلایا اور کہا

’’اگر پڑوس والے مکان میں جو نئے کرائے دار آئے ہیں ان میں کوئی عورت ہو تو ان سے کہو آپ کی ہمسائی بیگم صاحبہ آپ سے درخواست کرتی ہیں کہ دو گھڑی کے لیے تشریف لے آئیے۔ بڑی مہربانی ہو گی‘‘

لڑکا پیغام لے کر چلا گیا۔ کوئی آدھے گھنٹے کے بعد دروازے پر دستک ہوئی ‘ پروین اور نسرین اپنے کمرے میں پڑھ رہی تھیں اس لیے اُس نے خود دروازہ کھولا۔ دہلیز پر ایک سفید برقع پوش خاتون کھڑی تھی‘ اس نے بڑے ملائم لہجے میں وحیدہ بیگم سے پوچھا

’’کیا آپ ہی نے مجھے یاد فرمایا ہے؟‘‘

وحیدہ بیگم نے جواب دیا ’ جی ہاں۔ تشریف لے آئیے‘‘

وہ اندر چلی آئی‘ دونوں باہر بچھے ہوئے تخت پر بیٹھ گئیں۔ وحیدہ بیگم کی سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ گفتگو کا آغاز کیسے کرے۔ دونوں چند لمحات ایک دوسرے کی شکل صورت اور کپڑے لتّوں کا جائزہ لیتی رہیں‘ آخر ہمسائی ہی نے مُہرِ خاموشی توڑی اور پوچھا:

’’فرمائیے‘ آپ نے مجھے دولت خانے میں کیسے بُلایا‘‘

اس پر وحیدہ بیگم کو اپنی شکایت کے اظہار کا موقع مل گیا اور اس نے بڑی بُرد باری اور تحمل سے صبح کا حادثہ بیان کر دیا اور پوچھا

’’وہ کون صاحبزادے ہیں جو اس طرح پرائے گھر میں تاک جھانک کرتے ہیں؟‘‘

میرا لڑکا ہے بہن۔ وہ تو ایسا نہیں۔ بڑا شرمیلا ہے۔ چونکہ ہم نئے نئے اُٹھ کر یہاں آئے ہیں اسی لیے اس نے کوٹھے پر چڑھ کے دیکھا ہو گا کہ آس پاس کیا ہو گا۔ ویسے میں اس کو منع کر دوں گی کہ خبردار تم نے اِدھر کیا کسی بھی طرف نظر اُٹھا کر دیکھا۔ بڑا برخوردار لڑکا ہے۔ ضرور میرے حکم کی تعمیل کرے گا‘ میں نے اگر اس کے باپ سے آپ کی شکایت کی تو وہ تو اُس کو مار مار کے کھال اُدھیڑ دیں گے۔ بڑے سخت گیر ہیں وہ وہ اس معاملے میں۔ ویسے مجھے افسوس ہے‘‘

’’نہیں‘ میں نے صرف آپ کے کانوں تک یہ بات پہنچائی تھی کہ بدمزگی نہ ہو۔ یہ کہہ کر وحیدہ بیگم اٹھی اور پکاری

’’پروین‘۔ نسرین ادھر آؤ ذرا‘‘

دونوں لپک کر باہر نکلیں‘ لیکن ایک نادیدہ عورت کو دیکھ کر ٹھٹھک گئیں‘ دوپٹے کے بغیر فوراً اندر بھاگیں اور دوپٹے اوڑھ کر باہر آئیں‘ نووارد عورت کو جھک کر سلام کیا اور اپنی ماں سے پوچھا :

’’کیوں امی جان؟‘‘

وحیدہ بیگم نے اپنی ہمسائی سے اپنی بیٹیوں کو متعارف کرایا۔ اس نے ان کو لاکھ لاکھ دعائیں دیں اور ان کی خوبصورتی کی بڑی تعریف کی کہ ماشاء اﷲ چندے آفتاب چندے ماہ تاب ‘ پھر اُس نے کہا

’’میرا سلیم بالکل انہی کی طرح شریف اور شرمیلا ہے۔ ‘‘

چند دنوں ہی میں وحیدہ اور ہمسائی جس کا نام نازلی بیگم تھا‘ بڑے گہرے مراسم ہو گئے‘ وحیدہ بیگم ان کے یہاں نہیں جاتی تھی۔ اس نے نازلی بیگم سے کہا

’’میں سر آنکھوں پر آتی۔ سوسو دفعہ آتی‘ پر جب سے خواجہ صاحب کاانتقال ہوا ہے کہ میں نے دل میں قسم کھا لی تھی اس گھر سے باہر ایک قدم نہ رکھوں گی۔ بہن دیکھو خدا کے لیے مجبور نہ کرنا‘‘

اس اثناء میں کالج میں شام کئی فنکشن ہوئے‘ کبھی کوئی مباحثہ ہے‘ کبھی لینڈن شوہے ‘ کبھی مشاعرہ۔ کبھی کچھ کبھی کچھ۔ پروین اور نسرین دونوں ان پروگراموں میں شامل ہوتی تھیں‘ مگر مائی جنتے ساتھ ہوتی اور ان کو لے کر بحفاظت واپس گھر آتی‘ خواہ جلدی خواہ دیر سے۔ عید سے چار روز پہلے سلیم واپس آیا‘ ساتھ اس کے اس کا بغلی دوست قادر تھا۔ نازلی بیگم نے اس کو مندرجہ بالا واقعہ کے بعد جب اُس نے اتفاقاً وحیدہ بیگم کے صحن کو ایک نظر دیکھ لیا‘ گوجرانوالہ بھیج دیا تھا جہاں اس کے والد کی آبائی اجداد و املاک تھیں۔ اس نے اب اسے خط لکھ کر بلایا تھا کہ عید سے پہلے پہلے یہاں لاہور چلے آؤ‘ وہ آ گیا اور ساتھ اپنے جگری دوست کو بھی لے آیا۔ گھر میں اسے سب جانتے تھے ‘ اس لیے کہ وہ اکٹھے سکول اور کالج میں پڑھے‘ یہاں لاہور میں اُٹھ آنے کی صرف ایک وجہ تھی کہ سلیم کے والد اس کے لیے اپنے اثرورسوخ سے کوئی اچھی ملازمت تلاش کرنا چاہتے تھے۔ دوسرے روز شام کو قادر نے سلیم سے کہا

’’چلو یار ‘ آج عیاشی کریں۔ گوجرانوالہ میں کیا پڑا ہے‘‘

سلیم نے پوچھا

’’عیاشی کیسی؟‘‘

قادر مسکرایا‘

’’تم تو نرے کھرے چُغد۔ چلو آؤ باہر ‘ تمھیں بتاتا ہوں۔ دیکھیں گے‘ قسمت میں کیا لکھا ہے‘‘

دونوں دوست چلے گئے‘ اتنے میں وحیدہ بیگم کے پاس اس کی ہمسائی آئی۔ اُس نے اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد اپنا حرف مدعا بیان کر دیا کہ وہ اپنے سلیم کے لیے نسرین کا رشتہ مانگنے آئی ہے۔ زیادہ حیل و حجت کوئی بھی نہ ہوئی‘ وحیدہ ان لوگوں کے اخلاق سے بہت متاثر ہوئی‘ چند رسمی باتیں ہوئیں اس کے بعد دونوں رضامند ہو گئیں کہ ان کا نکاح عید کی تقریبِ سعید پر ہو جائے اور رخصتی ایک ماہ کے بعد۔ رات کو سلیم دیر سے آیا مگر اس کی ماں نے کوئی باز پُرس نہ کی کیونکہ وہ خوش تھی کہ اتنی جلدی اس کے بیٹے کی شادی کا معاملہ نسرین ایسی حسین و جمیل اور باحیا لڑکی سے طے پا گیا۔ اُس نے چنانچہ سلیم کو یہ خوشخبری سنا دی ‘ وہ بھی بہت خوش ہوا۔ تجرّد کی زندگی اور بیکاری سے وہ تنگ آ گیا تھا‘ اس نے سوچا ‘ روپیہ پیسہ باپ کے پاس کافی ہے‘ کیا پرواہ ہے‘ ملازمت کی فکر ہوتی رہے گی۔ اُس کا دوست واپس گوجرانوالہ چلا آیا‘ اس لیے کہ اس نے عید اپنے گھر منانا تھی۔ سلیم نے اپنی ماں سے کہا

’’دیکھیے امی جان‘ میں نے آپ کی بات کتنی جلدی مان لی۔ اب آپ میری مانیے‘‘

اُس کی ماں نے پوچھا:

’’کیا بیٹا!‘‘

’’مجھے نسرین کی ایک جھلک دکھا دیجیے۔ خواہ وہ دور ہی سے کیوں نہ ہو‘‘

اس کے لہجے میں التجا تھی‘‘

میرا خیال ہے کہ وہ انکار کریں تو اس کا کوئی فوٹو ہی دکھا دیجیے۔ آخری وہ کل یا پرسوں میری ہونے والی ہے‘‘

اس کی ماں کو سلیم کی یہ درخواست ناپسند نہ ہوئی

’’میں پوری کوشش کروں گی بیٹا‘‘

عید آ گئی مگر تصویر نہ آئی۔ لیکن سلیم نے کسی خفگی کا اظہار نہ کیا۔ نکاح کی رسم بخیر و خوبی ختم ہو گئی‘ جب وہ باہر نکلا تو اس کی ماں نے کواڑ ذرا سا کھولا اور اس کو آواز دی۔ وہ ٹھہر گیا‘ ہاتھ باہر نکال کر اس نے سلیم سے کہا :

’’یہ لفافہ لے لو۔ دیکھو میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے‘‘

سلیم سمجھ گیا۔ آس پاس کوئی بھی نہیں تھا‘ اس میں تاب انتظار کیسے ہوتی۔ اس نے لفافہ وہیں کھڑے کھڑے کھولا۔ دھڑکتے ہوئے دل سے تصویر باہر نکالی۔ اِدھر اُدھر دیکھا اور تصویر پر پہلی نظر ڈالی۔ اس کا رنگ ہلدی کی طرح زرد ہو گیا۔ تصویر اس کے کانپتے ہاتھوں سے گر پڑی۔ اتنے میں سامنے والا دروازہ جس میں سے اُس کی ماں نے ہاتھ نکالا تھا ‘ کھلا اور بڑھیا نکلی۔ سلیم نے اس کو حیرت زدہ آنکھوں سے دیکھا

’’مائی! تم یہاں کیسے پہنچ گئیں؟۔ تو اُس رات تم ہی۔ ‘‘

اُس نے اس سے اور زیادہ کچھ نہ کہا اور تصویر زمین ہی پر چھوڑ کر تیز قدموں سے اپنے ایک دوست ڈاکٹر جمیل کے پاس گیا اور ساری بات بتا دی۔ جمیل نے اس کو ہسپتال میں داخل کرا دیا جہاں اِس کے جھوٹ موٹ کے مرض کا علاج ہوتا رہا۔ آخر ڈاکٹر جمیل نے سلیم کے والد کو بلا کر تخلیے میں کہا کہ یہ شادی نہ ہو‘ آپ کا لڑکا عورت کے قابل نہیں ہے۔ ۱۲ مئی ۵۴ء

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں