وہ غذائیں جو پیٹ پھولنے اور گیس کا باعث بنتی ہیں..!

گیس

بہت زیادہ گیس اور پیٹ پھولنا کئی بار کسی بیماری کی علامت ہوسکتی ہے ، مگر اکثر یہ ان غذاﺅں کا نتیجہ ہوتا ہے جو لوگ روزمرہ میں استعمال کرتے ہیں۔

ان غذاﺅں سے آگاہی متاثرہ فرد کو مستقبل میں گیس اور پیٹ پھولنے کے مسائل سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔

ویسے تو یہ مسئلہ لگ بھگ ہر ایک کو ہی کبھی نہ کبھی ہوتا ہے مگر بہت زیادہ گیس اور پیٹ پھولنا تکلیف دہ ہونے کے ساتھ شرمندگی کا باعث بھی بن جاتا ہے۔

تو ایسی غذاﺅں کے بارے میں جان لیں جو پیٹ میں گیس زیادہ بڑھانے کا باعث بنتی ہے کیونکہ وہ آسانی سے ہضم نہیں ہوتے یا گیس انہیں ہضم کرنے کے دوران گیس زیادہ بننے لگتی ہے۔

بچے پیدا کرنے کی خواہش کرنے والی موٹی خواتین ہوشیار ہوجائیں ؟

بیج اور دالیں

دالوں اور بیجوں میں ایک جز ریفینسوز پایا جاتا ہے جس کو ٹکڑے کرنا جسم کے لیے مشکل ہوتا ہے، بیجوں میں فائبر کی مقدار بھی بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس جز کا زیادہ استعمال گیس بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

گوبھی یا اس کی نسل کی سبزیاں

بیجوں اور دالوں کی طرح گوبھی اور اسی نسل کی دوسری سبزیوں میں فائبر اور ریفینسوز کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، جس کا اثر اوپر بیان ہوچکا ہے۔گوبھی، بند گوبھی اور دیگر کا زیادہ استعمال اس مسئلے کو بڑھا سکتا ہے۔

گندم اور اجناس

گندم اور دیگر اجناس ماسوائے چاول کے، میں ریفینسوز اور فائبر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، یہ دونوں ہی گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بنتے ہیں۔ کچھ اجناس جیسے گندم، جو اور رائی میں ایک پروٹین گلوٹین موجود ہوتا ہے، کچھ افراد اس جز کے حوالے سے حساسیت رکھتے ہیں اور انہیں اس کی وجہ سے گیس اور پیٹ پھولنے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

پیاز

پیاز کا استعمال بہت زیادہ ہوتا ہے اور مختلف طریقوں سے انہیں کھایا جاتا ہے، پیاز میں شکر کی ایک قسم فریکٹوز موجود ہوتی ہے جس کو ہضم کرنے کے دوران گیس کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

لہسن

لہسن بھی ایسی غذا ہے جس کا دنیا بھر میں بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور اس سے بھی گیس کے مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

دودھ کی مصنوعات

دودھ، پنیر اور دہی وغیرہ پروٹین اور کیلشیئم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں، تاہم ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دنیا کی 75 فیصد آبادی عمر بڑھنے کے ساتھ ان مصنوعات میں پائی جانے والی شکر کی ایک قسم لیکٹوز کو ہضم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہے۔ جب کسی فرد میں یہ صلاحیت ختم ہوجاتی ہے تو اسے گیس اور دیگر علامات کا سامنا ہوتا ہے۔

سافٹ ڈرنکس

سوڈا کاربونیٹ مشروب ہوتا ہے جب لوگ اسے پیتے ہیں تو بہت زیادہ مقدار میں گیس بھی جسم کا حصہ بن جاتی ہے اور کئی بار یہ ہوا یا گیس معدے میں پھنس کر پیٹ پھولنے کا باعث بن جاتی ہے۔

چیونگم

جب آپ چیونگم چباتے ہیں تو پیٹ میں ہوا بھرنے لگتی ہے، یا یوں کہہ لیں کہ آپ ہوا کو زیادہ نگلتے ہیں، جو معدے میں پھنس سکتی ہے جس سے پیٹ پھولنے اور گیس کا مسئلہ ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ اس میں مصنوعی مٹھاس بھی ہوتی ہے جو کہ غذائی نالی میں جاکر کبھی کبھار مسائل کا باعث بنتی ہے۔

ٹافیاں

چیونگم کی طرح ٹافیاں چوسنے سے بھی گیس کا امکان بڑھتا ہے کیونکہ اس دوران لوگ زیادہ مقدار میں ہوا نگل لیتے ہیں، جو غذائی نالی میں پھنس جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں موجود مٹھاس بھی گیس اور پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہے۔

چربی والی غذائیں

ایسی غذائیں سست روی سے ہضم ہوتی ہیں اور جب جسم کو غذا جیسے تلی ہوئی غذائیں ہضم کرنے میں محنت کرنا پڑے تو گیس معدے میں پھنس جاتی ہے اور پیٹ پھول جاتا ہے۔

گیس میں کمی لانے میں مددگار ٹپس

بیجوں اور دالوں کو کھانے سے پہلے پانی میں بھگو لیں۔

اگر اکثر پیٹ پھولنے اور گیس کا مسئلہ ہوتا ہے تو چیونگم اور ٹافیوں سے گریز کریں۔

میٹھے مشروبات سے دور رہیں۔

کھانا آرام سے اور اچھی طرح چبا کر کھائیں تاکہ ہوا نگلنے کی مقدار کم ہو۔

غذا میں فائبر کی مقدار میں کمی لائیں۔

ایسی غذاﺅں کا استعمال بڑھائیں جن سے گیس کا امکان کم ہوتا ہے۔

جسمانی طور پر متحرک رہنا بھی اس مسئلے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

(Visited 153 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں