مائی نانکی

مائی نانکی

اس دفعہ میں ایک عجیب سی چیز کے متعلق لکھ رہا ہوں۔ ایسی چیز جو ایک ہی وقت میں عجیب و غریب اور زبردست بھی ہے۔ میں اصل چیز لکھنے سے پہلے ہی آپ کو پڑھنے کی ترغیب دے رہا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کہیں آپ کل کو نہ کہہ دیں کہ ہم نے چند پہلی سطورہی پڑھ کر چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ وہ خشک سی تھیں۔ آج اس بات کو قریب قریب تین ماہ گزر گئے ہیں کہ میں مائی نانکی کے متعلق کچھ لکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ کسی طرح جلدی سے اُسے لکھ دُوں تاکہ آپ بھی مائی نانکی کی عجیب و غریب اور پُر اسرار شخصیت سے واقف ہو جائیں۔ ہوسکتا ہے آپ اس سے پہلے بھی مائی نانکی کو جانتے ہوں۔ کیونکہ اسے کشمیر اور جموں کشمیر کے علاقے کے سبھی لوگ جانتے ہیں۔ اور لاہور میں سید مٹھا اور ہیرا منڈی کے گرد ونواح میں رہنے والے لوگ بھی۔ کیونکہ اصل میں وہ رہنے والی جموں کی ہے اور آج کل راجہ دھیان سنگھ کی حویلی کے ایک اندھیرے کونے میں رہتی ہے۔

لہٰذا بہت ممکن ہے کہ آپ بھی جموں یا ہیرا منڈی کے گرد و نواح میں رہتے ہوں اور مائی نانکی سے واقف ہوں۔ لیکن میں نے اسے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سی عورتیں دیکھی ہیں اور بڑی بڑی زہریلی قسم کی عورتیں لیکن میں آج تک کسی سے اتنا متاثر نہیں ہوا جتنا اُس عورت سے۔ جیسا کہ میں اُوپر لکھ چکا ہوں وہ جموں کی رہنے والی ہے۔ وہاں وہ ایک دایہ کا کام کرتی تھی۔ اور اس کے کہنے کے مطابق وہ جموں اور کشمیر کی سب سے بڑی دایہ تھی۔ وہاں کے سب سے بڑے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے ہاں اس کا ہی چرچا رہتا تھا۔ اور جہاں کہیں کسی عورت کے ہاں بچہ پیدا نہ ہوتا تو فوراً اُسے بُلایا جاتا۔

اس کے علاوہ وہاں کے بڑے بڑے راجے، مہا راجے، نواب، جج وکیل اور ملٹری کے بڑے بڑے افسر سب اس کے مداح اور مرید تھے۔ انھوں نے آج تک نہ کبھی اس کی بات ٹالی اور نہ اسے ناراض کیا۔ بلکہ جب بھی اُس کا جی چاہا اُس نے اُن سے ہزار ہا قسم کے کام نکالے۔ اس کے علاوہ وہ غالباً روزانہ اپنے کام سے تین چار سو روپے کے قریب کما لیتی تھی۔ روزانہ ان گنت بچے جناتی۔ ان میں کئی ایک مردہ۔ کئی ست ماہے اور باقی ٹھیک ٹھاک ہوتے۔

اس کے علاوہ وہاں اُس کا عالیشان مکان اور دو دکانیں تھیں۔ ایک طویلہ جس میں بارہ مہینے پانچ سات گائیں بھینسیں بندھی رہتیں۔ اس کا کنبہ جو ۲۵ افراد پر مشتمل تھا سب دُودھ مکھن کھاتے اور موج میں رہتے۔ کنبے کے لفظ پر ایک لطیفہ سنتے چلیے۔ اس کے کنبے کے سبھی آدمی اُس کے گھر کے نہیں تھے۔ ان پچیس افراد میں سے اس کا نہ کوئی لڑکا تھا نہ لڑکی، ماں نہ بہن صرف وہ ایک خود تھی یا اس کا شوہر اور باقی سب لڑکے لڑکیاں اُس نے دوسروں سے لے کر پالے ہوئے تھے۔ میں نے ایک روز اُس سے پوچھا کہ تم دوسروں کے بچے جناتی رہیں لیکن خود کیوں نہ جنا؟‘‘

کہنے لگی

’’ایک ہوا تھا میں نے اُسے مار دیا‘‘

میں نے پوچھا

’’کیوں؟‘‘

کہنے لگی

’’میری طبیعت کو اس کا رونا ناگوار گزرا تھا۔ بڑا خوبصورت تھا لیکن میں نے اُسے زمین پر رکھا اور اوپر سے لحاف اور رضائیوں کا ایک انبار گرا دیا اور وہ نیچے ہی دم گھٹ کے مر گیا۔ ‘‘

میں اُس کی زُبانی اس کے حالات آپ کو بتا رہا تھا اُس کے علاوہ وہ کہتی کہ میرے پاس کم از کم پچیس تیس ہزار کی مالیت کا زیور بھی تھا۔ بقول اُس کے وہ بڑی موج میں رہ رہی تھی کہ اچانک ہندوستان تقسیم ہو گیا اور کشمیر میں قتل و غارت شروع ہوئی۔ ڈوگرے مسلمانوں کو چن چن کے قتل کرنے لگے۔ چنانچہ اسی افرا تفری میں اُس نے اپنا گھر چھوڑا کیونکہ اس کے محلے میں بھی قتل و خون اور عصمت دری شروع ہو گئی تھی۔ لیکن اس بھاگ دوڑ میں اس کے گھر کے سبھی آدمی اسے چھوڑ گئے اور وہ اکیلی جان بچانے کو عیسائیوں کے محلے میں جا گھسی۔ آپ حیران ہوں گے وہ اس قیامت کے سمے میں بھی اپنا زیور اور گائے بھینس اور ضروری کپڑے اور سامان وغیرہ بھی اپنے ساتھ لے گئی اور وہاں سکونت پذیر ہوئی۔ لیکن جس واقف کار کے ہاں وہ ٹھہری تھی اُسے دوسرے روز اُس نے کہا کہ مائی ہم کو بھی قتل کروانے کی ٹھانی ہے۔ تم اپنا زیور سامان اور گائے بھینس یہیں چھوڑ کر پاکستان چلی جاؤ۔ کیونکہ اگر یہ چیزیں کسی ڈوگرے نے دیکھ لیں تو تم کو ختم کر دے گا۔ چنانچہ وہ وہاں سے صرف اپنا دن رات کا رفیق حقہ اُٹھا کر باہر نکلی تھی کہ ساتھ والی عیسائن نے کہا

’’مائی تم میرے گھر میں آرہو۔ اگر کوئی تمھیں مارنے آیا تو پہلے ہم کو مارے گا۔ وہ رضا مند ہو گئی لیکن اُسی شام کو جموں کے مہا راجہ کا بھیجا ہوا ایک سپاہی آیا اور اُس نے اُس عیسائن سے سوال کیا

’’کیا دائی نانکی یہیں ہے‘‘

عیسائن نے جواب دیا کہ نہیں وہ یہاں کہاں۔ سپاہی اور عیسائن کے سوال و جواب وہ خود اندر سُن رہی تھی اور وہ کہتی ہے کہ میں خود باہر آئی اور سپاہی سے کہا

’’میں ہوں مہا راج۔ مائی نانکی میرا ہی نام ہے‘‘

سپاہی کہنے لگا

’’مہاراج کہتے ہیں نانکی یہیں ہمارے پاس رہے گی۔ پاکستان نہیں جائے گی اُس نے بتایا کہ سپاہی کا یہ فقرہ سُن کر مجھے جلال آگیا اور میں نے آنکھیں لال کر کے کہا

’’مہاراج سے کہوہم نے آپ سے اور آپ کی رعایا سے بہت کچھ انعام لے لیا ہے۔ اب ہمیں اور سُکھ نہیں چاہیے اور دیکھو مہاراج سے جا کر کہہ دو کہ مائی نانکی پاکستان ضرور جائے گی کیونکہ اگر پاکستان نہیں جائے تو کیا جہنم میں جائے گی۔ ‘‘

loading...

سپاہی یہ سُن کر واپس مہاراج کے پاس چلا گیا اور دوسرے ہی روز ملٹری کے ایک کرنل کی حفاظت میں مائی نانکی سرحد عبور کر کے پاکستان میں داخل ہو رہی تھی۔ سرحد پر اُسے پتہ چلا کہ اُس کے کنبے کے پچیس افراد میں سے اٹھارہ جن میں لڑکے اور لڑکیاں تھیں شہید ہو چکے ہیں اور باقی کے تین لڑکے اور ایک بہو اور دو بچے پاکستان صحیح و سلامت جا چکے ہیں۔ وہ کہتی تھی میرے آنسو نہیں نکلے۔ میں نے اپنا بھرا بھرایا گھر دیا سات گائیں بھینسیں اور تیس ہزار کا زیور کشمیر کے ہندوؤں اور عیسائیوں نے چھین لیا۔ میرے اٹھارہ لاڈلے جن میں بڑے بڑے سورما تھے ان کافروں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ میں خود اُجڑی لیکن میرے آنسو نہیں نکلے۔ ہاں زندگی میں پہلی بار روئی وہ اس وقت جب میں نے مہاجرین کے کیمپ میں پاکستانیوں کو جوان لڑکیوں سے بدفعلی کرتے دیکھا اپنی بہو اور لڑکوں سمیت شہر بہ شہر پیٹ پالنے کی خاطر پھرتی رہی۔ آخر اپنے ایک عزیز کے ہاں جو کہ خوش قسمتی سے حویلی دھیان سنگھ میں رہتا تھا آگئی اور اس کے لڑکے موچی گری کرنے لگے اُس کے متعلق وہ کچھ پہلے بھی جانتے تھے۔ جموں کی ٹھاٹ دار زندگی اور اس کے تمام حالات وہیں رہ گئے۔ لیکن جہاں تک میں نے اُسے یہاں جس غربت کی حالت میں دیکھا ہے میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بہت ہی اونچے درجے کی عورت ہے۔ ایسی عورتیں بہت کم دنیا میں پیدا ہوتی ہیں۔ اُس کی ذات بہت ہی بلند اور بے مثال ہے۔ ۸۵ سال کی عمر ہونے کو آئی لیکن گھر کا سب کام کاج خود کرتی ہے۔ بیماری اور پریشانی میں بھی اس کا چہرہ پُر وقار اور پھول کی طرح کھلا رہتا ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے غمگین نہیں ہوتی اور نہ کسی گہری سوچ میں غرق رہتی ہے۔ چوبیس گھنٹے ہنستی اور مسکراتی رہتی ہے۔ اس بڑھاپے میں بھی بڑی بڑی بوجھل چیزیں خود اُٹھاتی ہے۔ بڑی اچھی باتیں سُناتی ہے۔ کسی بھی فقیر کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتی۔ اور سب سے بڑی بات جو میں اب اُس کے متعلق بتانے لگا ہوں وہ یہ کہ وہ انتہا درجے کی غریب عورت ہوتے ہوئے بھی بڑے بڑے شہنشاہوں سے زیادہ امیر ہے۔ اس لیے کہ اس کا دل بادشاہ کا ہے۔ اگر محلے کی کسی عورت نے اس سے کچھ مانگ لیا تو بس بھر بھر کے دیتی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ خوش ہوتی جاتی ہے اور مجھے تو بالکل ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی بہت بڑا شہنشاہ اپنی رعیت کو کائنات کی نعمتیں تقسیم کررہا ہو۔ کھانے کے معاملے میں وہ بہت تیز ہے اور اس عمر میں بھی دن میں وہ چار وقت پیٹ بھر کر کھانا کھاتی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ سارا سر سفید ہو گیا ہے لیکن اُس کے گالوں پر سُرخیاں ہنوز باقی ہیں۔ اس کا اپنا بیان ہے کہ وہ ایک دفعہ کسی زچہ کو دیکھنے گئی تو اتفاق سے وہاں گھر والوں نے گھی، سوجی پستے بادام اور دوسرے میوے ملا کر ایک قسم کی چوری تیار کی تھی جو کہ تین چار سیر کے قریب ہو گی۔ شامت اعمال لڑکی کی ماں نانکی کو ذرا چکھ کے دیکھنے کو کہہ بیٹھی۔ بس اس کا کہنا تھا کہ نانکی نے برتن تھام لیا اور ساری چوری چٹ کر گئی۔ اتنا کچھ کھا چکنے کے بعد وہ کہتی تھی مجھے کچھ خبر بھی نہ ہوئی اور وہ وہاں سے اُٹھ کر دوسری زچہ کے ہاں گئی جہاں سے اس نے ایک سیر کے قریب حلوہ پوری کھایا اُسی طرح کے کئی اور واقعات وہ ہنس ہنس کے سُناتی ہے۔ جہاں تک لباس کا تعلق ہے وہ عام پنجابی لباس یعنی قمیص اور شلوار پہنتی ہے لیکن اس عام میں ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنی قمیص کو ہمیشہ شلوار کے اندر کر کے ازار بند باندھتی ہے۔ میں نے اُس سے استفسار کیا تو وہ کہنے لگی۔

’’تم ابھی بچے ہو۔ تمھیں کیا معلوم ہو۔ ‘‘

اور میں خاموش ہو گیا۔ پاؤں میں وہ مردانہ جوتا پہنتی ہے اور جب آدھی رات کو سب سوئے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ غسل خانے میں جاتی ہے تو اُس کے پاؤں کی آواز بہت ہی مہیب معلوم ہوتی ہے۔ اب ذرا سا اُس کے لڑکوں کے متعلق سُن لیجیے۔ اُس کے سب سے بڑے لڑکے کا نام حبیب اللہ ہے جس کی ایک دکان جوتیوں کی ہے اور نانکی کا کہنا ہے کہ اُس لڑکے کو اس نے بڑے ناز و نعم سے پالا پوسا ہے اور وہی سب میں زیادہ خدمت گزار اور وفا شعار ہے وہ اُس کی خوب خدمت کرتا ہے اور نانکی اس پر بہت خوش ہے۔ حبیب اللہ اپنی سسرال کے مکان کی سب سے اوپر والی منزل کے دو کمروں میں ایک بیوی اور تین بچوں سمیت رہتا ہے۔ گرمیوں میں اُس کے بچوں کے پاؤں دھوپ میں جل جل جاتے ہیں اور سردیوں میں اوپر سکڑتے رہتے ہیں لیکن آج تک کبھی اس نے ماتھے پر بل نہیں ڈالا اور نہ اس کے ہونٹ مسکراہٹ سے بے خبر ہوئے ہیں بلکہ وہ اپنے دستور کے مطابق ہر اتوار کو نانکی کے لیے پانچ سات روپے کا پھل وغیرہ لے کر مسکراتا ہوا آتا ہے اور نانکی کی دُعائیں لے کر چلا جاتا ہے۔ اس سے چھوٹے لڑکے کا نام محمد حسین ہے جو بجلی اور ریڈیو کا کام اچھی طرح جانتا ہے اور اُسے دفتر روزگار سے کم از کم پانچ دفعہ کارڈ بنوانے کے باوجود آج سات سال سے کوئی نوکری نہیں ملی۔ مائی نانکی نے بڑی کوشش کی کہ جیتے جی اپنے ان پالے ہوئے لڑکوں کی شادیاں کر کے جائے تاکہ بعد میں وہ دربدر نہ ہوں اور اسے بھی قبر میں آرام نصیب ہو۔ لیکن بقول اُسی کے، غریب کو مر کے بھی آرام نہیں ملتا۔ شاید اسی لیے ابھی تک اُس کی شادی کا کوئی بندوبست نہیں ہوا۔ ایک دو جگہ دریافت کرنے پر لڑکی والوں نے کہا کہ کم از کم دو تین زیور لڑکی کو ڈالو تب لڑکی ملے گی ورنہ نہیں لیکن دوسری طرف یعنی نانکی کے پاس تو صرف اللہ کا نام اور اپنا بیٹا ہی ہے۔ نانکی کا کہنا ہے کہ اس کا لڑکا محمد حسین عقل کے لحاظ سے تو کسی بڑے لیڈر کے برابر ہے لیکن اُس کی اکڑ ٹنڈے لاٹ کی طرح ہے۔ محمد حسین سے چھوٹے لڑکے کا نام محمد یونس ہے جو خوبصورت اور دُبلا پتلا ہے اور اُس کی تعلیم سات جماعت تک ہے۔ سینکڑوں کام کرنے کی تجویزیں کر رہا ہے اور جن میں سب سے بڑی خواہش اُس کی یہ ہے کہ اُسے کوئی معمولی سی ملازمت مل جائے جہاں اسے صبح سے دوپہر تک کام کرنا پڑے اور شام کے وقت وہ کچھ پڑھ لے اور اس طرح اپنی تعلیم کو بڑھا سکے۔ لیکن آج تک اُس کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی۔ نانکی کا یہ خیال ہے کہ وہ جنات کی قوم سے ہے کیونکہ اُس میں غصے کا مادہ زیادہ ہے۔ مائی نانکی آج کل کچھ اداس اور غمگین سی رہنے لگی ہے ایک روز میں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی

’’بچے مجھے پاکستان نے بہت سی بیماریاں لگا دی ہیں۔ مجھے جموں میں کوئی بیماری نہیں تھی اور نہ کبھی میں نے کسی بات کے متعلق آج تک سوچا ہے۔ ہاں اپنی ساری زندگی میں ایک دفعہ میں نے ایک بات پر غور کیا تھا اور وہ بھی تھوڑی دیر کے لیے اصل میں قصہ یہ ہوا کہ جموں کی ایک باہمنی کے ہاں بچہ پیدا نہیں ہوتا تھا بڑی بڑی کاریگر نرسوں اور ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔ اور مصیبت یہ تھی کہ بچہ پیٹ میں ادھر سے ادھر چکر لگاتا تھا اور ہمکتا بھی تھا۔ اس مشکل میں سبھی نے گھر والوں کو مشورہ دیا کہ نانکی کو بُلاؤ۔ چنانچہ میں گئی اور دو ہاتھ لگانے سے ہی بچہ پیدا ہو گیا لیکن میرا رنگ اُڑ گیا اور اپنی جوانی میں میں پہلی بار سر سے پاؤں تک پسینے میں شرابور ہو گئی۔ ‘‘

یہاں تک کہہ کر وہ ذرا رکی۔ میں نے پوچھا

’’کیوں؟‘‘

کہنے لگی

’’کیونکہ بچے کے دو سر چار آنکھیں اور دونوں سروں میں دو دو سینگ تھے۔ میں نے آنکھیں لال کرتے ہوئے براہمن سے کہا

’’کیوں لالہ یہ کیا ظلم کیا تم نے۔ تم نے مجھے بتایا تک نہیں کہ یہ قصہ ہے۔ اگر میرے دل کی حرکت بند ہو جاتی تو؟‘‘

اس پر لالہ جی نے میرے سامنے ہاتھ جوڑے کہ کسی سے اس بات کا ذکر نہ کرنا۔ جو جی چاہے لے لو۔ سو میں نے اُس سے سو روپے لیے۔ لیکن اب تو کئی اندیشے جان کو کھائے جارہے ہیں بچہ سب سے زیادہ اس بات کو سوچتی ہوں کہ میں پاکستان کی خاطر اپنا بھرا بھرایا گھر لُٹاکر آئی۔ اٹھارہ آدمی شہید ہوئے اور تیس ہزار کی مالیت کا زیور بھی وہیں رہ گیا۔ اس بے بسی اور غربت کی حالت میں ہم یہاں آئے۔ لیکن پاکستان والوں نے میرے نام کوئی مکان الاٹ کیا اور نہ کوئی دُکان۔ آج تک نہ کہیں سے راشن ملا اور نہ ہی کچھ مالی امداد۔ باغ کا مالی جس نے پاکستان کو بڑی مشکلوں سے بنایا تھا اللہ کو پیارا ہو گیا۔ اب اُس کے بعد جتنے بھی ہیں آنکھیں بند کیے مست پڑے ہیں۔ اُن کو کیا خبر کہ ہم غریب کس حالت میں رہ رہے ہیں اس کی خبر یاہمارے اللہ کو ہے یا ہمیں۔ اس لیے اب ہر دم اپنے اللہ سے یہی دُعا کرتی ہوں کہ ایک دفعہ پھر سے سب کو مہاجر کر تاکہ غیر مہاجر لوگوں کو پتہ چلے کہ مہاجر کس طرح ہوتے ہیں اتنا کہہ کر اُس نے حقے کی نے منہ میں دبا لی۔ میں نے اُس سے کہا۔

’’مائی پہلے تو لوگ ہندوستان سے مہاجر ہوئے تو پاکستان آگئے۔ اب اگر یہاں سے مہاجر ہو گئے تو کہاں جائیں گے‘‘

وہ حقہ کی نے کو غصے سے جھٹک کر بولی

’’جہنم میں جائیں گے۔ کوئی پروا نہیں۔ لیکن ان کو معلوم تو ہو جائے گا کہ مہاجر کس کو کہتے ہیں۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں