کشمیر اور بندر کا انصاف

مسئلہ کشمیر
Loading...

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ دو بندر آپس میں ایک روٹی کے لئے جھگڑ پڑے۔ منصف کے طور پر ایک لومڑی کو چنا گیا ۔ لومڑی نے روٹی کے دو ٹکڑے کیے اور ترازوکے ذریعے دونوں ٹکڑوں کا وزن برابر کرنے کی کوشش کرتی رہی ۔جس ٹکڑے کا وزن زیادہ ہوتا لومڑی اس کا کچھ حصہ توڑ کر خود کھا جاتی۔اس طرح وزن برابر تو نہ ہو دونوں طرف کے ٹکڑے ضرور ختم ہو گئے ــاور لومڑی کے انصاف پر بند ر ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے‘‘

مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 53 روز سے 80 لاکھ سے زائد لوگ کرفیو کے حصار میں ہیں اور ہم کشمیر کے مسئلے پر بڑی سفارتی کامیابیوں کا راگ الاپ رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی تقریر آخری امید کی صورت میں باقی ہے مگر ہم اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں بھارت کے خلاف قرارداد لانے کا اہم ترین موقع گنوا چکے ہیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے 50 سے زائد جن ممالک کی حمایت کا دعویٰ کیا گیا تھا ان میں سے صرف 16 ممالک کی حمایت سے ہیومن رائٹس کونسل میںقرارداد لائی جا سکتی تھی ۔

مقبوضہ کشمیر
Photo: File

قرارداد جمع ہونے کی صورت میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کا خصوصی اجلاس بلایا جانا تھا مگر اسے سفارتی ناکامی قرار دیں یا انتظامی نااہلی 19 ستمبردوپہر 1 بجے تک قرارداد جمع کرانے کی ڈیڈ لائن مس کر دی گئی ۔وزیر اعظم عمران خان سے امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات میں بھی ٹرمپ کی جانب سے روایتی انداز اپنایا گیا۔اس تمام صورتحال میں امریکی صدر اگر کچھ کر رہے ہیں تو وہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ بہترین انداز میں اپنی الیکشن مہم چلا رہے ہیں ایک طرف وہ تو امریکہ میں مقیم بھارتی کمیونٹی کو خوش کرنے کے لیے ہوسٹن جلسے میں مودی کے ہمراہ مکا لہراتے ہوئے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ بھارت اور امریکہ مل کر ہندوستان میں دہشت گردی کو شکست دیں گے(واضح رہے کہ بھارت کشمیرمیں جدوجہد آزادی کو دہشت گردی قرار دیتا ہے ) تو دوسری طرف پاکستانی کمیونٹی کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے امریکی صدروزیر اعظم عمران خان کو اپنا دوست اور عظیم لیڈر قراردیتے ہیں ۔ان حالات میں امریکہ سے یہ امید رکھنا کہ وہ سنجیدگی سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتا ہے یااس کے لئے کوئی عملی اقدامات کرے گا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے ۔

امریکی صدر نے واضح طور پر 72 سال پرانے مسئلہ کشمیر کو پیچیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کو فریقین کی رضا مندی سے مشروط کیا ہے ۔دوسری جانب ایران اور امریکہ میں بات چیت کے لئے عمران خان کی جانب سے ثالثی کاکردار ادا کرنے کا مطالبہ کر کے صدر ٹرمپ نے دبے لفظوں میں ڈو مور کا مطالبہ کر دیا ہے ۔افغانستان میں مذاکرات سے پیچھے ہٹ کر امریکہ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ ایشیا کا امن اسکی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں انسانی حقوق کا پرچار کرنے والی تنظیمیں ، زمین پر امن قائم کرنے کے خواہشمند ممالک اور جمہوریت کی علمبردار طاقتیں 80 لاکھ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو کیوں نہیں دیکھ پا رہیں ۔ اس کا ذمہ دار نہ ہم امریکہ کو ٹھہرا سکتے ہیں اور نہ ہی دنیاکو ، اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل پہلے ہی کشمیر میں ہونے والے مظالم پر رپورٹ مرتب کر چکی ہے ۔

اس کا واضح اور صاف مطلب یہ ہے کشمیر کا وکیل یعنی پاکستان اپنا کیس درست انداز میں پیش کرنے میں ناکام ہو ا ہے ۔ہم مسئلہ کشمیر کا حل اسلام کے نام پر چاہتے ہیں ۔ہم دنیا کو یہ بتا رہے ہیں کہ مسلمانوں پر ظلم ہو رہاہے ۔ ہم اسلامی ممالک کی تنظیم سے امید رکھتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کا ساتھ دیں کیونکہ وہاں مسلمان آبادی ہے ۔

Loading...

ہمارا مذہب اسلام صرف مسلمانوں پر ظلم کے خلاف لڑنے کا حکم نہیں دیتا ہے بلکہ کرہ ارض پر ہونے والے ہر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے ، مظلوم کا ساتھ دینے (اس سے بالاتر کہ مظلم مسلمان ہے یا کسی اور مذہب کا ماننے والا) اور ظالم کے خلاف لڑنے کا حکم دیتا ہے ۔مگر دنیا کے تمام ملک اور اس کرہ ارض پرموجود ہر شخص اور ہر ملک مذہب اسلام کا پیروکار نہیں ہے لہذا پوری دنیا سے شریعت کے مطابق انصاف کی توقع رکھنا درست نہیں ۔ایک مذہب ایسا ہے جس کا اطلاق ہر مذہب ، ہر تہذیب اور ہر ملک پر ہو سکتاہے اوروہ انسانیت کا مذہب ہے ۔انسانی حقوق کے نام پر اگر کشمیر کا کیس لڑا جاتا تو ہمیں سفارتی کامیابی ملتی یا نہ ملتی مگر مظلم کشمیریوں کی ضرور سنی جاتی ۔

وزیر اعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کرفیو ختم کرانے کا مطالبہ کیا توامریکی صدر نے بھارتی وزیر اعظم سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ یہی بات اگر انسانی حقوق کونسل میں قرارداد کی صورت میں پہنچا دی جاتی تو شاید کشمیر کا کیس موجود ہ صورتحال سے مختلف ہوتی ۔ اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد یاد کراتے ہوئے ترک صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشا میں امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں ہے ،مقبوضہ وادی میں 80 لاکھ افراد محصور ہیں ، اقوام متحدہ کو اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ترک صدر نے اسرائیل کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں پر بھی آواز اٹھاتے ہوئے دنیا کی بڑی طاقتوں کے سامنے یہ موقف پیش کیا کہ مسئلہ فلسطین کا واحد حل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

وزیراعظم عمران خان

ترک صدر نے اسلام فوبیا کی جانب بھی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ بے جا خوف دنیا میں مسلمانوں کے قتل کی وجہ بن رہا
ہے۔ ہیومن رائٹس کونسل میں قرارداد لانے میں ناکامی کے بعد کشمیری منتظر ہیںتو پاکستانی وزیراعظم کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے۔ ماضی میں بھی پاکستانی وزراء اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی دھواں دار اور جذباتی تقاریر پیش کرتے رہے ہیں۔

لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ عمران خان فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی بنیاد پر کشمیر کا مسئلہ دنیا کے سامنے رکھتے ہیں یااس موقع کو جذبات کی نظر کرتے ہوئے لومڑی کو بندروں میں روٹی تقسیم کرنے کیلئے آزاد چھوڑ دیتے ہیں

(Visited 114 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں