سچ اور جھوٹ کی ازلی کشمکش

سچ اور جھوٹ کی ازلی کشمکش
Loading...

سچ اور جھوٹ کا سفر جاری ہے ازل سے ایسا ہو رہا ہے کہ جھوٹ بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ اور سچ مشکل سے ہی اپنا رستہ بناتا ہے ۔ جھوٹ کو سائنٹفک طور پر سچ کرنے کا کام گوفیلز نے شروع کیا ۔ اڈولف ہٹلر کے وزیر اطلاعات نے جرمن قوم کے ناقابل تسخیر اور دنیا پر حکمران ہونے کا تصور کچھ اس انداز میں پیش کیا کہ وہ سچ نظر آنے لگا۔ ایڈولف ہٹلر کے سپر مین یعنی مافوق الفطرت ہونے کے بارے میں پروپیگنڈہ اسطرح کیا گیا کہ دنیا کی ذہین ترین جرمن قوم نے بھی ہٹلر کو اپنا تجارتی دھندہ سمجھنا شروع کر دیا تھا ۔ پھر جرمن قوم نے اسکی ایسی اطاعت اور فرمانبرداری کی کہ جنگ عظیم اول میں شکست کھانے والی جرمن قوم 40 کی دھائی میں یورپ کی منظم اور طاقتور قوم کے طور پر ابھری ۔ ہٹلر کی قیادت میں جرمن قوم نے پوری دنیا کو للکارا اور ” تھرڈ رائٹس ” یعنی تیسری عظیم سلطنت کے قیام کے لیئے پوری دنیا کے مقابلے میں اٹھ کھڑی ہوئی ۔ ہٹلر نے قوم کو یقین دلایا تھا کہ وہ جو سلطنت قائم کرے گا وہ ایک ہزار سال تک قائم و دائم رہے گی ۔ یہ جھوٹ کو سچ میں ملانے کا  عظیم کارنامہ تھا جسے ہٹلر کے وزیر نے سرانجام دیا تھا ۔ جرمن قوم نے دل و جان سے ہٹلر کو اپنا مسیحا اور جان دھندہ بھی تسلیم کر لیا تھا ۔ گوئپلو کی پروپیگنڈہ کے بارے میں پالیسی یا تکنیک ایک ایسے اصول پر مبنی تھی جسے آج ایک آزمودہ حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ پروپیگنڈے کے لیئے یہ تکنیک کئی اداروں میں سکھائی اور پڑھائی جاتی ہے ۔ جس کے مطابق ” جھوٹ اتنی دفعہ بولو کے وہ سچ لگے ” آج کے گلوبل ویلج میں جہاں کمیونیکیشن کے اتنے ذرائع ہیں کہ سچ کی پہچان ہی مشکل ہو گئی ہے کوئی بھی خبر یا معلومات جسے کوئی عوام تک پہنچانا چاہتا ہو بس ایک کلک کے ذریعے ہزاروں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ آپ کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کا فن آنا چاہیئے ۔ پھر آپ جھوٹ کو پلک جھپکتے میں لوگوں تک بآسانی پہنچا سکتے ہیں ۔ پاکستان میں اس ذریعہ ابلاغ کو پی ٹی آئی نے سمجھا ہنر مندی اور چالاکی کے ساتھ استعمال کیا ہے پروپیگنڈے کے ذریعے ایک طرف سابقہ حکمران کی جماعتوں کو کرپٹ اور پاکستان کے موجودہ مسائل کا زمہ دار قرار دے رکھا ہے اور دوسری طرف عمران خان کو نجات دھندہ کے طور پر پیش کرنے اور منوانے کی کاوشیں جاری ہیں ۔ سچ اور جھوٹ کا ازلی سفر آج بھی ویسے ہی جاری ہے جیسے پہلے تھا ۔ اسکی تازہ مثال ہمارے سپہ سالار قمر جاوید باجوہ کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک گرم بحث جاری ہے کہ انکے بیٹے نے صرف 22 سال کی کم عمر میں بلیوارڈ گلبرگ لاہور میں 13 ارب روپے مالیت کا شاندار عسکری نادر کھڑا کر لیا ہے ۔ یہ عاقبت نالائدیش پوچھتے ہیں کہ جنرل باجوہ بتائیں کے ان کے بیٹے نے اتنی کم عمر میں اتنی بڑی جائیداد کیسے بنا لی ہے ۔
یہ عسکری نادر عسکری ڈویلمنٹ اینڈ ہولڈنگ پرائیویٹ لمٹڈ کا ایک پراجیکٹ ہے یہ کمپنی سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹرڈ ہے اور آرمی ویلفیئر ٹرمٹ کا زیلی ادارہ ہے کرنل ریٹائرڈ ثاقب محمود نے جو اس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں اس کے متعلق تفصیلات بتائیں جس کے مطابق 2008 میں زمین خریدی گئی 2015 میں ایل ڈی اے نے اس نادر کا نقشہ منظور کیا اس پراجیکٹ سے حاصل کردہ آمدنی شہداء اور ان کے لواحقین اور شدید زخمی سپاہیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی یہ ادارہ پنجاب کو انکم ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس بھی ادا کر رہا ہے ۔
اس کے باوجود اس بحث میں سوالات کی بوچھاڑ ہو رہی ہے سوشل میڈیا پر جواب مانگا جا رہا ہے کچھ جوابات آئے بھی ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس سوال کا جواب ابھی تک سامنے نہیں آیا ممکن ہے سرکاری تردید کے بعد کسی نئی جنگ کے چھڑ جانے کے امکان کے پیش نظر تردید نہیں کی جا رہی ہے جھوٹ کے خلاف سچ کا بتانا اور جاننا کس قدر مشکل ہو رہا ہے ۔ آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں ہماری معلومات بلکہ مصرقہ معلومات کے مطابق یہ نادر کسی شخص کا نہیں بلکہ فوج ہی کی ملکیت ہے اس کے نام سے ہی ظاہر ہے الزام لگانے والوں کو عقل سے کام لینا چاہیئے کہ عسکری کا نام کیا کوئی شخص بااثر بیئورو کرپٹ جرنیل  حاضر یا ریٹائرڈ افسر استعمال کر سکتا ہے ۔ اسکا جواب یقینًا نفی میں ہے اس لیئے سپہ سالار کے خلاف جھوٹ پھیلانے کی اس بحث کو ختم ہو جانا چاہیئے۔

ارشد ملک کی ویڈیو کے متعلق مریم نواز نے ایف آئی اے کو سوالات کے جوابات دے دیئے

ایسی ہی ایک مثال برطانوی اخبار ڈیلی میل میں بھی دیکھی جا سکتی ہے رپورٹ ہے کہ شہباز شریف نے زلزلہ زدگان کے لیئے دی گئی برطانوی امداد میں مبینہ طور پر خردبرد کی ہے ۔ جھوٹ پھیلانے والے ماہرین میڈیا مینیجر نے اس خبر کو بنیاد بنا کر نواز شریف کو چور ، ڈاکو ، خائن اور نجانے کیا کچھ ثابت کرنے کی کوششیں کی ہیں سوشل میڈیا پر جو کچھ اس بارے میں کہا گیا ہے اسے یہاں نقل کرنا بھی مشکل ہے۔ لیکن برطانوی ادارے DIFIO نے جو دنیا بھر میں امداد کی نہ صرف ترسیل بلکہ مانیٹرنگ کا فریضہ سرانجام دیا ہے اس خبر کی تردید کی ہے اور اسے حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے ادارے کی آڈٹ رپورٹ بھی موجود ہے جسے دیکھ کر اخباری رپورٹر کی خبر کے مندرجات کی تردید ہوتی ہے لیکن جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ جھوٹ تیزی سے پھیلتا ہے اور یہاں جھوٹ پھیلانے والوں کو اس فن میں مہارت نامہ بھی حاصل ہے ۔ اخباری اطلاعات کے مطابق شہباز شریف نے اخبار اور اس کے رپورٹر کے خلاف برطانوی عدالت سے رجوع کرنے کے قانونی عمل کا آغاز کر دیا ہے ۔ دیکھتے ہیں کیا نتیجہ نکلتا ہے ویسے خبر کی اشاعت سے صرف شہباز شریف کی ساکھ ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ معتبر برطانوی ادارے کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا ہے ۔ یہ ادارہ برطانوی اداروں کے ٹیکسوں سے چلتا ہے اس لیئے ایسا لگتا ہے کہ برطانوی عدالت سچ کو ضرور سامنے لائے گی تاکہ برطانوی ٹیکس دھندگان کو بھی مطمئن کیا جا سکے کہ انکے ٹیکسوں کے ساتھ حکومت اور حکومتی ادارے کھلواڑ تو نہیں کر رہے ہیں سچ اور جھوٹ کو ملانے کی ایک اور کہانی ناصر سے متعلق ہے یہ وہی کردار ہے جسے ارشد ملک کے معاملے میں گھسیٹا جا رہا ہے ناصر ہمارے ملک کے بڑے ہیں انکی پیشہ ورانہ صلاحیت اور ایمانداری اظہر من المقس ہے یہ اعلی سول و عسکری حلقوں میں مصروف ہیں انکے اعلی تعلقات بھی ہیں ۔

loading...

نواز شریف کے ساتھ بھی ان کے اچھے تعلقات رہے ہیں لیکن انہوں نے آج تک اپنے ذاتی تعلقات کو کاروباری منصب کے لیئے استعمال نہیں کیا ۔ ویسے تو حکومت کو ہر وقت اچھے بلڈرز بھی ضرورت ہوتی ہے لیکن ناصر نے اصول کے طور پر اپنے ذاتی تعلقات کو کاروبار سے ہمیشہ دور رکھا ۔ اب انہیں جج ارشد ملک کے معاملات میں گھسیٹنا درست نہیں ۔ سچ اور جھوٹ کا سفر لگتا ہے ایسے ہی جاری رہے گا ۔ لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بالآخر سچ کا ہی بول بالا ہوتا ہے ۔ اب بھی ایسا ہی ہو گا ۔ انشاءاللہ

زبیر میر

(Visited 90 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں