پیرن

مائی نانکی

یہ اس زمانے کی بات ہے جب میں بے حد مفلس تھا۔ بمبئی میں نو روپے ماہوار کی ایک کھولی میں رہتا تھا جس میں پانی کا نل تھا نہ بجلی۔ ایک نہایت ہی غلیظ کوٹھڑی تھی جس کی چھت پر سے ہزار ہا کھٹمل میرے اوپر گرا کرتے تھے۔

چوہوں کی بھی کافی بہتات تھی۔ اتنے بڑے چوہے میں نے پھر کبھی نہیں دیکھے۔ بلیاں ان سے ڈرتی تھیں۔ چالی یعنی بلڈنگ میں صرف ایک غسل خانہ تھا۔ جس کے دروازے کی کنڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔ صبح سویرے چالی کی عورتیں پانی بھرنے کے لیے اس غسل خانے میں جمع ہوتی تھیں۔ یہودی، مرہٹی، گجراتی، کرسچین۔ بھانت بھانت کی عورتیں۔ میرا یہ معمول تھا کہ ان عورتوں کے اجتماع سے بہت پہلے غسل خانے میں جاتا، دروازہ بھیڑتا اور نہانا شروع کردیتا۔ ایک روز میں دیر سے اٹھا۔ غسل خانے میں پہنچ کر نہانا شروع کیا تو تھوڑی دیر کے بعد کھٹ سے دروازہ کھلا۔ میری پڑوسن تھی۔ بغل میں گاگر دبائے اس نے معلوم نہیں کیوں ایک لحظے کے لیے مجھے غور سے دیکھا۔ پھر ایک دم پلٹی۔ گاگر اس کی بغل سے پھسلی اور فرش پر لڑھکنے لگی۔ ایسی بھاگی جیسے کوئی شیر اس کا تعاقب کررہا ہے۔ میں بہت ہنسا، اٹھ کر دروازہ بند کیا اور نہانا شروع کردیا۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر دروازہ کھلا۔ برج موہن تھا۔ میں نہا کے فارغ ہو چکا تھا اور کپڑے پہن رہا تھا۔ اس نے مجھ سے کہا۔

’’بھئی منٹو آج اتوار ہے۔ ‘‘

مجھے یاد آگیا کہ برج موہن کو باندرہ جانا تھا، اپنی دوست پیرن سے ملنے کے لیے۔ وہ ہر اتوار کو اس سے ملنے جاتا تھا۔ وہ ایک معمولی سی شکل و صورت کی پارسی لڑکی تھی جس سے برج موہن کا معاشقہ قریباً تین برس سے چل رہا تھا۔ ہر اتوار کوبرج موہن مجھ سے آٹھ آنے ٹرین کے کرائے کے لیے لیتا۔ پیرن کے گھرپہنچتا۔ دونوں آدھے گھنٹے تک آپس میں باتیں کرتے برج موہن اسٹرٹیڈ ویکلی کے کراس ورڈ پزل کے حل اس کو دیتا اور چلا آتا۔ وہ بیکار تھا۔ سارا دن سرنیوڑھائے یہ پزل اپنی دوست پیرن کے لیے حل کرتا رہتا تھا۔ اس کو چھوٹے چھوٹے کئی انعام مل چکے تھے مگر وہ سب پیرن نے وصول کیے تھے۔ برج موہن نے ان میں سے ایک دمڑی بھی اس سے نہ مانگی تھی۔ برج موہن کے پاس پیرن کی بے شمار تصویریں تھیں۔ شلوار قمیض میں چست پاجامے میں، ساڑھی میں، فراک میں، بیڈنگ کسٹیوم میں، فینسی ڈریس میں۔ غالباً سو سے اوپر ہو گی۔ پیرن قطعاًٰ خوبصورت نہیں تھی بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ بہت ہی ادنیٰ شکل و صورت کی تھی لیکن میں نے اپنی اس رائے کا اظہار برج موہن سے کبھی نہیں کیا تھا۔ میں نے پیرن کے متعلق کبھی کچھ پوچھا ہی نہیں تھا کہ وہ کون ہے، کیا کرتی ہے، برج موہن سے اس کی ملاقات کیسے ہوئی، عشق کی ابتدا کیوں کر ہوئی۔ کیا وہ اس سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟۔ برج موہن نے بھی اس کے بارے میں مجھ سے کبھی بات چیت نہ کی تھی۔ بس ہر اتوار کو وہ ناشتے کے بعد مجھ سے آٹھ آنے کرائے کے لیتا اور اس سے ملنے کے لیے باندرہ روانہ ہو جاتا اور دوپہر تک لوٹ آتا۔ میں نے کھولی میں جا کر اس کو آٹھ آنے دیے، وہ چلا گیا۔ دوپہرکو لوٹا تو اس نے خلافِ معمول مجھ سے کہا۔

’’آج معاملہ ختم ہو گیا۔ ‘‘

میں نے اس سے پوچھا۔

’’کونسا معاملہ؟‘‘

مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ کس معاملے کی بات کررہا ہے۔ برج موہن نے سوچا جیسے اس کے سینے کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔

’’مجھ سے کہا۔ پیرن سے آج دو ٹوک فیصلہ ہو گیا ہے۔ میں نے اس سے کہا۔ جب بھی تم سے ملنا شروع کرتا ہوں مجھے کام نہیں ملتا۔ تم بہت منحوس ہو۔ اس نے کہا بہتر ہے، ملنا چھوڑ دو۔ دیکھوں گی تمہیں کیسے کام ملتا ہے۔ میں منحوس ہوں، مگر تم اول درجے کے نکھٹو اور کام چور ہو۔ سو اب یہ قصہ ختم ہو گیا ہے اور میرا خیال ہے انشاء اللہ کل ہی مجھے کام مل جائے گا۔ صبح تم مجھے چار آنے دینا۔ میں سیٹھ نانو بھائی سے ملوں گا، وہ مجھے ضرور اپنا اسسٹنٹ رکھ لے گا۔ ‘‘

یہ سیٹھ نانو بھائی جو فلم ڈائریکٹر تھا متعدد مرتبہ برج موہن کو ملازمت دینے سے انکار کر چکا تھا۔ کیونکہ اس کا بھی پیرن کی طرح یہی خیال تھا کہ وہ کام چور اور نکما ہے لیکن دوسرے روز جب برج موہن مجھ سے چار آنے لے کر گیا تو دوپہر کو اس نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ سیٹھ نانو بھائی نے بہت خوش ہو کر اسے ڈھائی سو روپے ماہوار پر ملازم رکھ لیا ہے۔ کنٹریکٹ ایک برس کا ہے جس پر دستخط ہو چکے ہیں پھر اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر سو روپے نکالے اور مجھے دکھائے۔

’’یہ ایڈوانس ہے۔ جی تو میرا چاہتا ہے کنٹریکٹ اور سوروپے لے کر باندرہ جاؤں اور پیرون سے کہوں کہ لو دیکھو، مجھے کام مل گیا ہے، لیکن ڈر ہے کہ نانو بھائی مجھے فوراً جواب دے دے گا۔ میرے ساتھ ایک نہیں کئی مرتبہ ایسا ہوچکا ہے۔ ادھرملازمت ملی، ادھر پیرن سے ملاقات ہوئی۔ معاملہ صاف۔ کسی نہ کسی بہانے مجھے نکال باہر کیا گیا۔ خدا معلوم اس لڑکی میں یہ نحوست کہاں سے آگئی۔ اب میں کم از کم ایک برس تک اس کا منہ نہیں دیکھوں گا۔ میرے پاس کپڑے بہت کم رہ گئے ہیں۔ ایک برس لگا کر کچھ بنوالوں تو پھر دیکھا جائے گا۔ ‘‘

چھ مہینے گزر گئے۔ برج موہن برابر کام پر جارہا تھا۔ اس نے کئی نئے کپڑے بنوا لیے تھے۔ ایک درجن رومال بھی خرید لیے تھے۔ اب وہ تمام چیزیں اس کے پاس تھیں جو ایک کنوارے آدمی کے آرام و آسائش کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ ایک روز وہ اسٹوڈیو گیا ہوا تھا کہ اس کے نام ایک خط آیا۔ شام کو جب وہ لوٹا تومیں اسے یہ خط دینا بھول گیا۔ صبح ناشتے پر مجھے یاد آیا تو میں نے یہ خط اس کے حوالے کردیا۔ لفافہ پکڑتے ہی وہ زور سے چیخا۔

’’لعنت!‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیا ہوا؟‘‘

وہی پیرن۔ اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے چمچ سے لفافہ کھول کر خط کا کاغذ نکالا اور مجھ سے کہا۔

’’وہی کم بخت ہے۔ میں کبھی اس کا ہینڈرائٹنگ بھول سکتا ہوں۔ ‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کیا لکھتی ہے؟‘‘

’’میرا سر۔ کہتی ہے مجھ سے اس اتوار کو ضرور ملو۔ تم سے کچھ کہنا ہے۔

’’یہ کہہ کر برج موہن نے خط لفافے میں ڈ الا اور جیب میں رکھ لیا۔ لو بھئی منٹو، نوکری سے انشاء اللہ کل ہی جواب مل جائے گا۔ ‘‘

’’کیا بکواس کرتے ہو۔ ‘‘

موہن نے بڑے وثوق سے کہا۔

’’نہیں منٹو تم دیکھ لینا۔ کل اتوار ہے۔ پرسوں منٹو بھائی کو ضرور مجھ سے کوئی نہ کوئی شکایت پیدا ہو گی اور وہ مجھے فوراً نکال باہر کرے گا۔ ‘‘

میں نے اس سے کہا۔

’’اگر تمہیں اتنا وثوق ہے تو مت جاؤ اس سے ملنے۔ ‘‘

’’یہ نہیں ہو سکتا۔ وہ بلائے تو مجھے جانا ہی پڑتا ہے۔ ‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’ملازمت کرتے کرتے کچھ میں بھی اکتا چکا ہوں۔ چھ مہینے سے اوپر ہو گئے ہیں۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ مسکرایا اور چلا گیا۔ دوسرے روز ناشتہ کرکے وہ باندرہ چلا گیا۔ پیرن سے ملاقات کرکے لوٹا۔ تو اس نے اس ملاقات کے بارے میں کوئی بات نہ کی۔ میں نے اس سے پوچھا۔

’’مل آئے اپنے منحوس ستارے سے؟‘‘

’’ہاں بھئی۔ اس سے کہہ دیا کہ ملازمت سے بہت جلد جواب مل جائے گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ کھاٹ پر سے اٹھا۔

’’چلو آؤ کھانا کھائیں۔ ‘‘

ہم دونوں نے حاجی کے ہوٹل میں کھانا کھایا۔ اس دوران میں پیرن کی کوئی بات نہ ہوئی۔ رات کو سونے سے پہلے اس نے صرف اتنا کہا۔

’’اب دیکھیے کل کیا گل کھلتا ہے۔ ‘‘

میرا خیال تھا کہ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ مگر دوسرے روز برج موہن خلافِ معمول اسٹوڈیو سے جلدی لوٹ آیا مجھ سے ملا تو خوب زور سے ہنسا

’’اور دونوں بھائی۔ میں نے سمجھا مذاق کررہا ہے۔

’’ہٹاؤ جی۔ ‘‘

’’جو ہٹنا تھا وہ تو ہٹ گیا۔ اب میں کیسے ہٹاؤں۔ سیٹھ نانو بھائی پر ٹانچ آگئی ہے۔ اسٹوڈیو سیل ہو گیا ہے۔ میری وجہ سے خواہ مخواہ بیچارے نانو بھائی پر بھی آفت آئی۔ ‘‘

یہ کہہ کر برج موہن پھر ہنسنے لگا۔ میں نے صرف اتنا کہا۔

’’یہ عجیب سلسلہ ہے!‘‘

’’دیکھ لو۔ اسے کہتے ہیں ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔ ‘‘

برج موہن نے سگریٹ سلگایا اور کیمرہ اٹھا کر باہر گھومنے چلا گیا۔ برج موہن اب بیکار تھا۔ جب اس کی جمع پونجی ختم ہو گئی تو اس نے ہر اتوار کو پھرمجھ سے باندرہ جانے کے لیے آٹھ آنے مانگنے شروع کر دیے۔ مجھے ابھی تک معلوم نہیں آدھ پون گھنٹے میں وہ پیرن سے کیا باتیں کرتا تھا۔ ویسے وہ بہت اچھی گفتگو کرنے والا تھا۔ مگر اس لڑکی سے جس کی نحوست کا اس کو مکمل طور پر یقین تھا وہ کس قسم کی باتیں کرتا تھا۔ میں نے ایک روز اس سے پوچھا۔

’’برج، کیا پیرن کو بھی تم سے محبت ہے؟‘‘

’’نہیں، وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے۔ ‘‘

’’تم سے کیوں ملتی ہے؟‘‘

’’اس لیے کہ میں ذہین ہوں، اس کے بھدے چہرے کو خوبصورت بنا کر پیش کرسکتا ہوں۔ اس کے لیے کراس ورڈ پزل حل کرتا ہوں۔ کبھی کبھی اس کو انعام بھی دلوا دیتا ہوں۔ منٹو، تم نہیں جانتے ان لڑکیوں کو۔ میں خوب پہچانتا ہوں انھیں۔ جس سے وہ محبت کرتی ہے، اس میں جو کمی ہے، مجھ سے مل کر پوری کرلیتی ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ مسکرایا۔

’’بڑی چار سوبیس ہے!‘‘

میں نے قدرے حیرت سے پوچھا۔

’’مگر تم کیوں اس سے ملتے ہو؟‘‘

برج موہن ہنسا، چشمے کے پیچھے اپنی آنکھیں سکوڑ کر اس نے کہا۔

’’مجھے مزا آتا ہے۔ ‘‘

’’کس بات کا۔ ‘‘

’’اس نحوست کا۔ میں اس کا امتحان لے رہا ہوں۔ اس کی نحوست کا امتحان۔ یہ نحوست اپنے امتحان میں پوری اتری ہے۔ میں نے جب بھی اس سے ملنا شروع کیا، مجھے اپنے کام سے جواب ملا۔ اب میری ایک خواہش ہے کہ اس کے منحوس اثر کو چکمہ دے جاؤں۔ ‘‘

میں نے اس سے پوچھا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

برج موہن نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔

’’میرا یہ جی چاہتا ہے کہ ملازمت سے جواب ملنے سے پہلے ملازمت سے علیحدہ ہو جاؤں، یعنی خود اپنے آقا کو جواب دے دوں اس سے بعد میں کہوں، جناب مجھے معلوم تھا کہ آپ مجھے برطرف کرنے والے ہیں۔ اس لیے میں نے آپ کو زحمت نہ دی اور خود علیحدہ ہو گیا اور آپ مجھے برطرف نہیں کررہے تھے، یہ میری دوست پیرن تھی جس کی ناک کیمرے میں اس طرح گھستی ہے جیسے تیر!‘‘

برج موہن مسکرایا۔

’’یہ میری ایک چھوٹی سی خواہش ہے، دیکھو پوری ہوتی ہے یا نہیں۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’عجیب و غریب خواہش ہے۔ ‘‘

’’میری ہر چیز عجیب و غریب ہوتی ہے۔ پچھلے اتوارمیں نے پیرن کے اس دوست کے لیے جس سے وہ محبت کرتی ہے، ایک فوٹو تیار کرکے دیا۔ الو کی دم اسے کمپی ٹیشن میں بھیجے گا۔ یقینی طور پر انعام ملے گا اسے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ مسکرایا۔ برج موہن واقعی عجیب و غریب آدمی تھا۔ وہ پیرن کے دوست کو کئی بار فوٹو تیار کرکے دے چکا ہے۔ السٹریٹڈویکلی میں یہ فوٹو اس کے نام سے چھپتے تھے اور پیرن بہت خوش ہوتی تھی۔ برج موہن ان کو دیکھتا تھا تو مسکرا دیتا تھا۔ وہ پیرن کے دوست کی شکل صورت سے ناآشنا تھا، پیرن نے برج موہن سے اس کی ملاقات تک نہ کرائی تھی۔ صرف اتنا بتایا تھا کہ وہ کسی مل میں کام کرتا ہے اور بہت خوبصورت ہے۔ ایک اتوار کو برج باندرہ سے واپس آیا تو اس نے مجھ سے کہا۔

’’لو بھئی منٹو، آج معاملہ ختم ہو گیا۔ ‘‘

میں نے اس سے پوچھا۔

’’پیرن والا؟‘‘

’’ہاں بھئی۔ کپڑے ختم ہو رہے تھے، میں نے سوچا کہ یہ سلسلہ ختم کرو۔ اب انشاء اللہ دنوں ہی میں کوئی نہ کوئی ملازمت مل جائے گی۔ میرا خیال ہے سیٹھ نیاز علی سے ملوں۔ اس نے ایک فلم بنانے کا اعلان کیا ہے۔ کل ہی جاؤں گا۔ تم یار ذرا اس کے دفتر کا پتا لگا لینا۔ میں نے اس کے دفتر کا نیا فون ایک دوست سے پوچھ کر برج موہن کو بتا دیا۔ وہ دوسرے روز وہاں گیا۔ شام کو لوٹا۔ اس کے مطمئن چہرے پرمسکراہٹ تھی۔

’’لو بھئی منٹو۔ ‘‘

یہ کہہ کر اس نے جیب سے ٹائپ شدہ کاغذ نکالا اور میری طرف پھینک دیا۔

’’ایک پکچر کا کنٹریکٹ۔ تنخواہ دو سو روپے ماہوار۔ کم ہے۔، لیکن سیٹھ نیاز علی نے کہا ہے، بڑھا دوں گا۔ ٹھیک ہے!‘‘

میں ہنسا۔

’’اب پیرن سے کب ملو گے؟‘‘

برج موہن مسکرایا۔

’’کب ملوں گا؟‘‘

میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ مجھے اس سے کب ملنا چاہیے۔ منٹو یار، میں نے تم سے کہا تھا کہ ایک میری چھوی سی خواہش ہے، بس وہ پوری ہو جائے۔ میرا خیال ہے مجھے اتنی جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ ذرا میرے تین چار جوڑے بن جائیں۔ پچاس روپے ایڈوانس لے کر آیا ہوں پچیس تم رکھ لو۔ ‘‘

پچیس میں نے لیے۔ ہوٹل والے کا قرض تھا جو فوراً چکا دیا گیا۔ ہمارے دن بڑی خوشحالی میں گزرنے لگے۔ سو روپیہ ماہوار میں کما لیتا تھا۔ دو سو روپے ماہانہ برج موہن لے آتا تھا۔ بڑے عیش تھے۔ پانچ مہینے گزر گئے کہ اچانک ایک روز پیرن کا خط برج موہن کو وصول ہوا۔

’’لو بھئی منٹو، عزرائیل صاحب تشریف لے آئے۔ ‘‘

صحیح بات ہے کہ میں نے اس وقت خط دیکھ کر خوف سا محسوس کیا مگر برج موہن نے مسکراتے ہوئے لفافہ چاک کیا۔ خط کا کاغذ نکال کر پڑھا۔ بالکل مختصر تحریر تھی۔ میں نے برج سے پوچھا۔

’’کیا فرماتی ہیں؟‘‘

’’فرماتی ہیں، اتوار کو مجھ سے ضرور ملو۔ ایک اشد ضروری کام ہے۔ ‘‘

برج موہن نے خط لفافے میں واپس ڈال کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔ میں نے اس سے پوچھا۔

’’جاؤگے؟‘‘

’’جانا ہی پڑے گا۔ ‘‘

پھر اس نے یہ فلمی گیت گانا شروع کردیا۔

’’مت بھول مسافر تجھے جانا ہی پڑے گا!‘‘

مت نے اس سے کہا۔

’’برج مت جاؤ اس سے ملنے۔ بڑے اچھے دن گزر رہے ہیں ہمارے۔ تم نہیں جانتے، میں خدا معلوم کس طرح تمہیں آٹھ آنے دیا کرتا تھا۔ ‘‘

برج موہن مسکرایا۔

’’مجھے سب معلوم ہے، لیکن افسوس ہے کہ اب وہ دن پھرآنے والے ہیں۔ جب تم خدا معلوم کس طرح مجھے ہر اتوار آٹھ آنے دیا کرو گے!‘‘

اتوار کو برج، پیرن سے ملنے باندرہ گیا۔ واپس آیا تو اس نے مجھ سے صرف اتنا کہا۔

’’میں نے اس سے کہا، یہ بارھویں مرتبہ ہے مجھے تمہاری نحوست کی وجہ سے برطرف ہونا پڑے گا۔ تم پر زحمت ہو زرتشت کی!‘‘

میں نے پوچھا۔

’’اس نے یہ سن کر کچھ کہا۔ ‘‘

برج نے جواب دیا۔

’’فقط یہ۔ تم سلی ایڈیٹ ہو!‘‘

’’تم ہو؟‘‘

’’سو فی صدی!‘‘

یہ کہہ کر برج ہنسا۔

’’اب میں کل صبح دفتر جاتے ہی استعفیٰ پیش کردینے والا ہوں۔ میں نے وہیں پیرن کے ہاں لکھ لیا تھا۔ ‘‘

برج موہن نے مجھے استعفے کا کاغذ دکھایا۔ دوسرے روز خلافِ معمول اس نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور دفتر روانہ ہو گیا۔ شام کو لوٹا تو اس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ اس نے مجھ سے کوئی بات نہ کی۔ مجھے ہی بالآخر اس سے پوچھنا پڑا۔

’’کیوں برج، کیا ہوا؟‘‘

اس نے بڑی امیدی سے سر ہلایا،

’’کچھ نہیں۔ سارا قصہ ہی ختم ہو گیا۔ ‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

’’میں نے سیٹھ نیاز علی کو اپنا استعفےٰ پیش کیا تو اس نے مسکرا کر مجھے ایک آفیشل خط دیا۔ اس میں یہ لکھا تھا کہ میری تنخواہ پچھلے مہینے سے دو سو کے بجائے تین سو روپے ماہوار کردی گئی ہے؟‘‘

پیرن سے برج موہن کی دلچسپی ختم ہو گئی اس نے مجھ سے ایک روز کہا

’’پیرن کی نحوست ختم ہونے کے ساتھ ہی وہ بھی ختم ہو گئی۔ اور میرا ایک نہایت دلچسپ مشغلہ بھی ختم ہو گیا۔ اب کون مجھے بیکار رکھنے کاموجب ہو گا!‘‘

سعادت حسن منٹو

(Visited 49 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں