خان صاحب، شکر کریں اپوزیشن ‘پھوکی’ ہے!

پی ڈی ایم
Loading...

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو آئے ابھی دس ماہ ہی ہوئے ہیں اور اپوزیشن کی جماعتوں کو سیاسی مروڑ اٹھنے لگے ہیں۔ جس کی وجہ سے ایوان کا ماحول ناخوشگوار رہتا ہے اور حکومتی اراکین بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی کوشیش کرتے ہیں۔ نتیجتاً نا تو حکومت اپنا پہلا وفاقی بجٹ منظور کرواپارہی ہے اور نا ہی اپوزیشن بجٹ میں ہونے والی مہنگائی پر احتجاج۔

نیا پاکستان معرض وجود میں آنے کے بعد صورتحال اب یہ ہے کہ تین بار وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں تین بار دل کے دورے پڑ چکے ہیں اور پانچ سالوں تک صدر مملکت رہنے والے آصف زرداری نیب کی حراست میں ہیں۔ ایسے میں اپوزیشن صرف عوامی احتجاج شروع کرنے کے پھوکے دعوے ہی کرسکتی ہے۔ نا کہ ان پر عمل۔

نئے پاکستان میں غیر تسلی بخش کارکردگی کے بعد حکومت تو صرف نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کو کرپٹ ثابت کرنے میں بضد ہے۔ جبکہ اپوزیشن اپنی کرتوتوں اور آپس کے اختلافات کی وجہ سے حکومت مخالف عوامی احتجاج شروع کرنے کی “اہل” نہیں۔ ایسے میں وزیراعظم عمران خان کو شکر ادا کرنا چاہیئے کہ ان کو ملنے والی اپوزیشن “پھوکی” ہے۔ جو آل پارٹیز کانفرنس تو منعقد کر سکتی ہے۔ لیکن نتیجہ “نشستن، گفتن، برخاستن”۔

خان صاحب کو مریم نواز کا بھی شکر گزار ہونے چاہیئے۔ جنھوں نے ناصرف یہ واضح کردیا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز، ن لیگ اور ش لیگ میں تقسیم ہوچکی ہے۔ بلکہ مریم نواز نے شہباز شریف اور آصف زرداری کی حکومت کو میثاق معیشت کی پیش کش رد کر کے ثابت کردیا کہ دونوں جس کتاب کے ایک صفحے پر ہیں۔ جیل میں قید نواز شریف اس کتاب کو ہی کلثوم نواز کی میت کے ساتھ دفنا چکے ہیں۔

سربراہ جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی دعوت پر منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ مولانا حکومت مخالف عوامی احتجاج شروع کرنے کی امید سے ناامید ہوچکے تھے۔ ایسے میں مولانا نے اے پی سی کا انعقاد کرکے ایسا پتہ پھینکا کہ اپوزیشن جماعتوں کو نا چاہتے ہوئے بھی اس میں شریک ہونا پڑا۔ جس میں حکومت مخالف احتجاج تو دور متحدہ اپوزیشن کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے۔

Loading...

صوبوں اور وفاق میں اگر سیاسی جماعتوں کی پوزیشن دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی مظبوط پوزیشن ہونے کی وجہ سے بھرپور عوامی احتجاج ہو سکتا ہے۔ اسی طرح پنجاب میں نواز لیگ کی پوزیشن مظبوط تو ہے۔ لیکن بد قسمتی سے نواز لیگ کا سپورٹر نواز لیگ کو ووٹ تو دیتا ہے۔ مگر کاروبار بند کرکے سڑک پر نہیں آتا۔

ایسی صورتحال میں جب کہ نواز شریف اور آصف زرداری جیل میں ہیں۔ قائد حزب اختلاف کو نیب نے ایک بار پھر طلب کر لیا ہے۔ مریم نواز سزا یافتہ ہونے کے باوجود ضمانت پر ہیں۔ ایسے میں اپوزیشن حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کیسے شروع کرسکتی ہے؟۔

اپوزیشن کی پتلی حالت دیکھ کر عمران خان کی قسمت پر صرف رشک ہی کیا جاسکتا ہے۔ جو کہ غیر تسلی بخش حکومتی کارکردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ پھوکی اپوزیشن کی وجہ سے اقتدار میں ہے۔ لیکن عمران خان کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ عوام نے نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کو رد کرکے تحریک انصاف کو منتخب کیا۔ اب حکومت کو دونوں کی کرپشن کے “ڈھنڈورے” کے علاوہ اپنی کارکردگی بھی دکھانا پڑیگی۔ ایوان میں وزیراعظم کو “سیلیکٹڈ” کہنے پر پابندی لگانے اور 2008 سے 2018 تک لئے گئے قرضوں کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنانے سے عوام کو کچھ نہیں ملے گا۔ عوام صرف دو وقت کی روٹی مانگتی ہے۔ جس کا حصول نئے پاکستان میں مشکل ہوتا جارہا ہے۔

نوید نسیم

(Visited 38 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں