لڑکیوں کے ختنوں کے بعد چھاتیوں کو روکنے کیلئے بھی ظالمانہ عمل

چھاتی

لندن: قدیم زمانوں میں جب لوگوں کو غلام بنایا جاتا تھا اور خواتین کو کنیزیں، توافریقہ سمیت دیگرعلاقوں میں ایک روایت پائی جاتی تھی۔

گرم پتھر لگا لگا کر لڑکیوں کی چھاتیوں کی بڑھوتری روک دی جاتی تھی تاکہ وہ حملہ آوروں کی نظر میں بدصورت رہیں اور جنسی زیادتی سے بچ سکیں۔

اب یہ روایت برطانیہ میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے جہاں آج کے اس جدید دور میں بھی ہزاروں کی تعداد میں کم سن لڑکیوں کے سینے پر زبردستی گرم پتھروں سے استری کرکے ان کی چھاتیوں کی بڑھوتری روکی جا رہی ہے۔

خواتین کے حقوق کی ایک کارکن کا کہنا ہے کہ ”میں صرف ایک کروئیڈن قصبے میں 20 سے زائد ایسی لڑکیوں کو ذاتی طور پر جانتی ہوں جن کی چھاتیوں کو گرم پتھروں سے استری کیا گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پورے برطانیہ میں یہ تعداد کہاں تک جا سکتی ہے۔

“جینیفر میرج کا کہنا تھا کہ وہ بھی 30 سے زائد ایسی لڑکیوں کو ذاتی حیثیت میں جانتی ہیں۔ ان میں کئی لڑکیوں کی عمر 10 سال سے بھی کم تھی۔ان میں سے اکثر کو گرم پتھر لگانے کی وجہ سے انفیکشن ہو گئی اور انہیں ہسپتال لایا گیا تھا۔

برہنہ سونے والے زیادہ پرسکون

خواتین کے ختنوں کے بعد اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی بازگشت برطانوی پارلیمنٹ تک جا پہنچی ہے۔ جہاں کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ماریا ملر کا کہنا تھا کہ ”یہ بہت ظالمانہ اور سفاکانہ فعل ہے جس کے تدارک کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

افریقی ملک کیمرون میں اب بھی یہ رسم بڑے پیمانے پر پائی جاتی ہے اور برطانیہ میں بھی یہ تاحال زیادہ تر افریقی نژاد خاندانوں تک محدود ہے لیکن اگر اسے نہ روکا گیا تو پورے برطانیہ میں جڑیں پکڑ سکتی ہے۔“

(Visited 81 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں