پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی معاہدوں سمیت اہم اموار پر دستخط ،تعلقات مزید مستحکم

وزیراعظم

بیجنگ:( خبرایجنسیاں) اتوارکو چین کے دارالحکومت بیجنگ میں مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی جس میں پا کستا ن کے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے چینی ہم منصب لی کی چیانگ بھی شریک ہوئے۔

تقریب کے دور ان ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کیلئے ابتدائی ڈیزائن کے فیز (ون) کی تکمیل کے اعلامیہ پر بات چیت ہوئی جس میں سی پیک کے تحت حویلیاں ڈرائی پورٹ کے قیام چین کے جیالوجیکل سروے ،چین کی وزارت قدرتی وسائل انسٹیٹیوٹ آف اوشنیو گرافی اور وزارت سائنس اینڈٹیکنالوجی کے درمیان میرین سائنسز کے شعبہ میں تعاون کے لئے مفاہمت کی یادداشت، سی آئی ڈی سی اے اور وزارت منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات کے درمیان سی پیک کے مشترکہ ورکنگ گروپ کے تحت سماجی و اقتصادی ترقی کے منصوبوں پر عملدرآمد کے لئے مفاہمت پر یادداشت کیلئے چین پاکستان اقتصادی و تکنیکی تعاون کے معاہدے، رشکئی ایس ای زیڈ جوائنٹ وینچر اور کے پی ای زیڈ ایم ڈی سی اور سی آر بی سی کے درمیان لائسنس کے معاہدہ پر دستخط کئے گئے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ چین پاکستان راہداری شراکت داری میں تبدیل ہو چکی ہے، آئندہ ایک دو سال میں پاکستان ترقی کے اہداف حاصل کر لےگا۔

بیجنگ میں ‘پاکستان چین سرمایہ کاری’ فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چین کا پہلا دورہ بہت بہتر اور دوسرا بہترین رہا ہے، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی چین سے تعاون چاہتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان سی پیک پر چین کا شکر گزار ہے، چاہتے ہیں چینی اپنی صنعتیں پاکستان میں لگائیں، پاکستان چین کے سرمایہ کاروں کو درپیش رکاوٹیں دور کرے گا، پاکستان غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پڑوس میں چین اور بھارت دنیا کی بڑی مارکیٹیں ہیں، جتنی تجارت اور رابطے ہوں گے ممالک کے درمیان تعلقات بڑھیں گے۔

وزیراعظم کی چین کے صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات خطے کے دیگر امور پرتبادلہ خیال

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم چین کی مدد سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی شاندار یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں، چین میں بی آر آئی کے لیے دو دن کا تجربہ بہت اچھا رہا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تمام ملکوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق تشویش پائی جاتی ہے، موزمبیق اور فلپائن میں ماحولیاتی تبدیلی سے بڑی تبدیلی آئی، خوشی ہے کہ پاکستان نے اس سے نمٹنے کے لیے بڑی جدوجہد کی، 5 برسوں کے دوران پاکستان میں 10 ارب پودے لگائے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن سے وسط ایشائی ملکوں میں رابطے بڑھیں گے، 4 دہائیوں کی جنگ کے بعد افغانستان کو امن کی ضرورت ہے، وسط ایشیائی ممالک نے بھی افغانستان میں امن پر بات کی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں بھارت میں الیکشن جلد مکمل ہوجائیں گے اور نئی بھارتی حکومت پاکستان سے اچھے تعلقات استوار کرے گی اور مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات سے نکل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ایم ایل ون معاہدہ بھی طے پاگیا ہے جس کے تحت پشاور سے کراچی تک ٹرینوں کے لیے ڈبل ٹریک بچھایا جائے گا۔ اور انہیں اپ گریڈ کیا جائے گا اس کے علاوہ دوسری لائیں بچھائی جائیں گی

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ  میں اس فورم میں شریک تمام چینی سرمایہ کاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ یہاں اس لیے موجود ہیں کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ پاکستان ہی دنیا کا مستقبل ہے۔

(Visited 58 times, 1 visits today)

Comments

comments

وزیراعظم,

اپنا تبصرہ بھیجیں