آئی سی سی نے ورلڈ کپ 2019 میں ٹیموں کی تعداد کم کیوں کی؟

Loading...

آج جب انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں لندن کے تاریخی میدان اوول میں کرکٹ کے 12ویں عالمی مقابلوں کا آغاز کریں گی تو وہاں سے کوئی 600 کلو میٹر دور سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرگ میں سفیان شریف کا دھیان 21 مارچ 2018 کے واقعات پر مرکوز ہوگا۔

یہ وہ دن تھا جب سکاٹ لینڈ کی ٹیم کے تمام خواب، ناقص امپائرنگ اور بارش نے چکنا چور کر دیے اور وہ ورلڈ کپ میں کوالیفائی کرنے کے لیے کھیلے گئے اہم ترین مقابلے میں ویسٹ انڈیز سے صرف پانچ رنز سے شکست کھا کر ورلڈ کپ میں شریک ہونے سے محروم رہ گئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سفیان شریف نے کہا ‘ورلڈ کپ کوالیفائنگ ٹورنامنٹ بہت اچھی طرح منعقد کیا گیا تھا لیکن اس میں ڈی آر ایس اور دیگر نظام کی کمی تھی۔ اس قسم کی چھوٹی چھوٹی چیزیں بہت معنی رکھتی ہیں جن سے قسمت اور نتیجہ بدل سکتا ہے۔’

کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں بہترین بولر کا اعزاز پانے والے سفیان شریف کا اشارہ عالمی کرکٹ کونسل کی جانب سے 2015 میں لیے گئے اُس فیصلے کی جانب ہے جس میں آئی سی سی نے عالمی کپ میں شرکت کرنے والی ٹیموں کی تعداد میں کمی کرتے ہوئے 14 سے 10 ٹیمیں کر دیں جس کا سب سے زیادہ نقصان ایسوسی ایٹ ممالک کو ہوا۔

پاکستان کے پہلے میچ کے لیے 12 رکنی قومی ٹیم کا اعلان کردیا گیا

کیا بڑے ممالک کی لالچ اس فیصلے کی وجہ ہے؟

اس موقع پر عالمی کرکٹ کے مالی نظام کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عالمی مقابلے جیسے ورلڈ کپ، چیمپئینز ٹرافی اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے نشریاتی حقوق کی فروخت آئی سی سی کی آمدنی مرکزی کا ذریعہ ہیں۔

اس مد میں ملنے والی رقم آئی سی سی کے ممبر ممالک کو دی جاتی ہے۔ سنہ 2007 سے 2015 تک نشریاتی حقوق کی فروخت سے ملنے والی رقم ایک ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔ اس حاصل شدہ رقم سے تقریباً 100 ممالک پر مشتمل اس تنظیم نے اپنے فل ممبر ممالک کو پانچ، پانچ کروڑ ڈالر دیے جبکہ باقی تمام ممالک کو ُکل بارہ کروڑ ڈالر بانٹے گئے۔

لیکن اہم بات یہ تھی کہ اس عرصے میں آئی سی سی کو ملنے والی آمدنی کا 80 فیصد حصہ انڈیا کے مقابلوں سے آتا تھا۔

سال 2015 سے 2023 کے نشریاتی حقوق کی فروخت سے ملنے والی رقم تقریباً ڈھائی ارب ڈالر کے لگ بھگ تھی اور انڈیا کے کرکٹ بورڈ نے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے زیادہ رقم کا مطالبہ کیا اور جون 2017 میں انھیں آئی سی سی سے 40 کروڑ ڈالر رقم مختص کر دی گئی۔

اس مقصد کے لیے فل ممبرز سے تین کروڑ ڈالر سے زائد اور تمام ایسوسی ایٹ ممالک کے مشترکہ فنڈ میں سے چار کروڑ ڈالر کی رقم کم کی گئی۔

انڈین جریدے ‘منٹ’ نے اپنے اپریل 2018 کے مضمون میں لکھا کہ یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ دس ٹیموں پر مشتمل ورلڈ کپ کا انعقاد کرانے کا دباؤ کن کرکٹ بورڈز نے دیا ہوگا اور اس کی وجہ کیا ہوگی۔

یاد رہے کہ راؤنڈ رابن فارمیٹ پر مبنی سنہ 2019 کے ٹورنامنٹ میں ہر ٹیم ایک دوسرے کے خلاف کھیلے گی جو اس بات کو یقینی بنائے گا کہ انڈیا اپنے مضبوط ترین حریف (آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور انگلینڈ) اور اپنے روایتی حریف پاکستان کے خلاف میچ ضرور کھیلے جو کہ آمدنی کو زیادہ کرنے میں مدد دے گا۔

ایسوسی ایٹ ممبر ممالک کی ورلڈکپ میں شمولیت کی تاریخ

سنہ 1975 سے لے کر 2015 تک کے کرکٹ کے تمام ورلڈ کپ میں حد درجہ کوشش کی گئی کہ ٹیسٹ میچ کھیلنے والے ممالک کے علاوہ نچلے درجے کی ٹیموں کو بھی ورلڈ کپ میں شمولیت کا موقع دییا جائے۔

پہلے چار ورلڈ کپ میں آٹھ آٹھ ٹیموں نے مختلف فارمیٹس کے تحت شرکت کی جس کے بعد پہلی بار سنہ 1992 میں نو ٹیموں نے ورلڈ کپ کھیلا۔

اس ورلڈ کپ کے بعد ٹیسٹ ٹیموں یعنی فل ممبر ممالک کی تعداد نو ہوگئی تھی۔ سنہ 1996 اور 1999 میں ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی ٹیموں کی تعداد نو سے بڑھا کر 12 کر دی گئی۔

20 سال قبل انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف جیت نے اگلے سال انھیں بھی فل ممبر ممالک کا حصہ بنا دیا اور جب 2003 کا ورلڈ کپ آیا تو اس میں دس فل ممبرز کے علاوہ چار ایسوسی ایٹ ممالک کو کھیلنے کا موقع ملا۔

کینیا کی ٹیم نے انتہائی حیران کن کارکردگی دکھائی اور وہ اس ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔

ان کی اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے آئی سی سی نے سنہ 2007 میں ویسٹ انڈیز میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ کے لیے 16 ٹیموں کو شرکت کا موقع دیا اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ ٹورنامنٹ میں دو سے زیادہ گروپ تشکیل دیے گئے۔

ایسوسی ایٹ ملک آئرلینڈ کی جانب سے شاندار کارکردگی دکھانے کے باوجود ٹورنامنٹ میں ایسوسی ایٹ ممالک کے بیشتر میچ یکطرفہ رہے اور آئی سی سی نے سنہ 2011 اور 2015 کے ٹورنامنٹس میں شرکت کرنے والے ممالک کی تعداد کم کر کے دوبارہ 14 کر دی۔

لیکن اس ورلڈ کپ کے دوران آئی سی سی نے فیصلہ کیا کہ کرکٹ کے عالمی مقابلوں کے معیار کو بہتر بنانے اور مقابلوں میں بہتری لانے کی غرض سے سنہ 2019 کے ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کی بجائے کم کر دی جائے گی۔

Loading...

آئی سی سی کے فیصلے پر متاثرہ ممالک کے کھلاڑی کیا کہتے ہیں؟

آئی سی سی کی اپنی ویب سائٹ پر ان کے طویل المدتی مقصد کے بارے میں لکھا ہوا ہے کہ تنظیم کی خواہش ہے ‘مستقبل میں کرکٹ دنیا کا پسندیدہ ترین کھیل بن جائے اور اس سفر کا آغاز 2019 سے ہوگا۔’

لیکن جہاں ایک جانب آئی سی سی کرکٹ پھیلانے اور مقبول بنانے کے عزم کا اظہار کر رہا ہے، وہیں چار سال قبل ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد کم کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے آئی سی سی کے سربراہ ڈیو رچرڈسن نے کہا تھا کہ ان کی خواہش ہے ‘ورلڈ کپ کرکٹ کا سب سے معتبر اور اہم مقابلہ ہے اور اس میں شریک ہونے والی تمام ٹیموں کا معیار یکساں ہونا چاہیے۔’

اس متضاد رویے پر بات کرتے ہوئے زمبابوے کے کھلاڑی اور ورلڈ کپ کوالیفائنگ ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کرنے والے سکندر رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں نہیں سمجھ آئی کہ آئی سی سی نے ٹیمیں کم کرنے کا فیصلہ کیوں لیا کیونکہ اس کے نتیجے میں چھوٹے ممالک کی ٹیموں کو بہت نقصان پہنچے گا۔

‘دنیا کے ہر بڑے کھیل کو دیکھ لیں، اس کے منتظمین اسے پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو کرکٹ میں ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟ اور جب بہت سے قابل کھلاڑی یہ دیکھیں گے کہ انھیں کھیلوں کے سب سے بڑے اور اہم میدان میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کو نہیں ملے گا تو وہ دلبرداشتہ ہو کر کھیل چھوڑ دیں گے۔’

سفیان شریف نے بھی اسی حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آئی سی سی نے یہ فیصلہ کیوں لیا اور کیا اس کی وجہ بڑے ممالک کی جانب سے دباؤ تھا۔

‘لیکن یہ بہت ہی افسوسناک فیصلہ ہے اور ہمارے لیے بہت ہی نقصان دہ۔ ہمیں تو بلکہ اور مواقعے ملنے چاہیے اور ٹیموں کی تعداد بڑھانی چاہیے۔ 10 ٹیموں کا ورلڈ کپ دیکھنا بہت مایوس کن ہوگا۔ یہ تو بالکل ویسے ہی ہے کہ آپ چیمپیئنز ٹرافی دیکھ رہے ہوں۔’

متحدہ عرب امارت کے احمد رضا نے بھی اسی نکتے کی تائید کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا ‘کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں ہمیں دو فل ممبر ٹیموں کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن بہتر ہوتا کہ ہم ایسوسی ایٹ درجے کی ٹیموں سے ہی مقابلہ کرتے۔’

کرکٹ ویب سائٹ گوریلا کرکٹ کی ایسوسی ایٹ ممالک کی ڈائریکٹر تسنیم ثمر صادق کہتی ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی لیگز کی وجہ سے شائقین کو مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کے بارے میں زیادہ آگاہی ہے اور نیپال اور سکاٹ لینڈ جیسے ممالک کے کھلاڑیوں کو عالمی کپ میں جگہ نہ ملنا کھلاڑی اور شائقین دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔

‘یہ بہت عجیب سی بات ہے کہ جہاں ایک طرف ہم لوگ جو کرکٹ سے منسلک ہیں وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ کھیل زیادہ سے زیادہ مقبول ہو، کرکٹ کی مرکزی باڈی ورلڈ کپ کو چھوٹا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایسوسی ایٹ ممالک کا مستقبل کیا ہوگا؟

کرکٹ کی معروف ویب سائٹ کرک انفو سے منسلک سینیئر مدیر ناگراج گولاپودی نے بی بی سی کے سوال پر کہا کہ ایسوسی ایٹ ممالک کے لیے آئی سی سی کی توجہ ٹی ٹوئنٹی پر ہے اور کرکٹ کے سب سے تیز فارمیٹ میں وہ نئی ٹیموں کو متعارف کرانے کے خواہشمند ہیں۔

‘آئی سی سی بہت تیزی سے ایسوسی ایٹ ممالک کو ٹی ٹوئنٹی کی جانب راغب کر رہا ہے اور یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک مستقبل میں معیار بہتر بنانے اور شمولیت کی تعداد بڑھانے کے لیے ٹی ٹوئنٹی کو استعمال کیا جائے گا جبکہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہر دو سال بعد کرایا جائے گا اور اس میں ٹیموں کی تعداد بھی بڑھائی جائے گی۔’

یو اے ای کے احمد رضا نے کہا کہ شیڈول کے مطابق ان کی ٹیم اگلے دو برسوں میں کم از کم 36 ایک روزہ میچ ضرور کھیلے گی لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ انھیں بڑے میدان میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

‘ہم کرکٹ کو اولمپکس میں کیوں شامل نہیں کر پا رہے؟ کرکٹ کو اگر پھیلانا ہے تو اسے فٹبال کی طرز پر مقبول کرنا ہوگا اور اولمپک کھیل اس میں بہت آزمودہ ثابت ہوں گے جس سے نئے ممالک میں اس کھیل کو متعارف کرایا جا سکے گا اور مالی طور پر بھی یہ سودمند ہوگا۔’

زمبابوے کے سکندر رضا نے کہا کہ آنے والے دنوں میں یہ ضروری ہوگا کہ ایسوسی ایٹ اور چھوٹے ممالک کی ٹیمیں نچلے درجے کے فل ممبر ممالک سے زیادہ کرکٹ کھیلیں جبکہ سکاٹ لینڈ کے سفیان شریف نے کہا کہ وہ ملنے والے ہر موقع کا بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔

‘ہمیں ویسے ہی زیادہ مقابلے نہیں ملتے، لیکن جب بھی ملے، یہ ضروری ہوگا کہ ہم بہتر سے بہتر کھیل پیش کریں۔ بطور ایسوسی ایٹ ہم پر بے حد دباؤ ہوتا ہے اور ہر میچ کو آخری میچ سمجھ کر کھیلنا پڑتا ہے ورنہ ہار کی صورت میں ہمیں سخت مالی نقصان ہو سکتا ہے۔’

البتہ تسنیم ثمر صادق کے نزدیک ایسوی ایٹ ممالک کی مشکلات کو اس صورت میں حل کیا جا سکتا ہے اگر فل ممبر ممالک ان کے ساتھ تعاون کریں اور شراکت قائم کریں۔

‘پاکستان، انڈیا، انگلینڈ نے افغانستان، آئرلینڈ جیسے ممالک کی کافی مدد کی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قسم کے تعاون کو بڑھایا جائے۔ دوسری جانب آئی سی سی پر بھی یہ لازم ہے کہ کھیل کے منتظمین ہونے کے ناطے وہ ابھرنے والے ممالک کے مفادات کا ساتھ دیں۔ ‘

(Visited 72 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں