کبھی نہ مرنے والا شخص!

راسپوٹین

مجھے دیکھو میرا مامعلہ خدا کے ساتھ ایسا ہے کہ اگر تم نے مجھے بوسہ دیا تو تم نے خدا کو بوسہ دیا اور اگر تم نت مجھ سے جھوٹ بولا تو تم نے خدا سے جھوٹ بولا ۔

میں جب خدا کے سامنے اپنے گناہ رکھتا ہوں تو وہ تم لوگوں کی طرح نہیں ہوتے چھوٹے چھوٹے جن کی کوئی وقعت نہ ہو، میرے گناہ یہ حق رکھتے ہیں کہ انہیں معاف کیا جائے۔

یہ الفاظ ہیں اس راسپوٹین کہ یہ ایک ایسا شخص ہے جس نے اپنی جادوئی طاقتوں سے پقرے روس کو اپنا مرید بنا لیا تھا۔ راسپوٹین روس کا ایک انتہائی عجیب، پراسرار، طاقتور اور بااثر کردار تھا۔ یوسفپوف محل کے باہر قصہ گو ہر آنے والے سیاح کو راسپوٹین کے قصے سناتے ہیں اور ایک سی ڈی بھی ساتھ دیتے ہیں۔ ہر کتاب راسپوٹین کو دوسری سے مختلف بیان کرتی ہے مگر سب اسے ایک مافوق الفطرت دیومالائی دیوتا مانتے ہیں۔

سائبریا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں  پیدا ہونے والے راسپوٹین کے ساتھ بچپن سے ہی عجیب و غریب کہانیاں وابستہ ہوگئیں اور اس کی روحانی قوت کے چرچے ہوگئے۔ اس کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب اس نے اپنے باپ کے چوری ہونیوالے گھوڑے کے چور کا نام اور مقام بتا دیا اور وہ چور پکڑا بھی گیا اورگھوڑا برآمد ہوگیا۔

راسپوٹین کو پتہ چلا کہ روس کا بادشاہ زاروچ الیکسی بیمار ہے۔ اسے ہیموفیلیا کی بیماری تھی جس میں خون نہیں رکتا تھا۔ راسپوٹین عورتوں کا بڑا دیوانہ تھا۔

راسپوٹین نے جب زاروچ الیکسی کی بیماری کا سنا تو اس کی بیوی زارنیہ کی مدد کو چلا آیا۔ الیکسی گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے زخمی تھا اوراس کا خون بند نہیں ہورہا تھا اور ڈاکٹر مایوس ہوچکے تھے ایسے میں راسپوٹین نے زخمی الیکسی کا علاج کیا۔

راسپوٹین منہ میں کچھ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے تھوک کو الیکسی کے زخموں پر لگاتا گیا حتیٰ کہ اس کا خون بہنے سے رگ گیا۔ راسپوٹین کو زارنیہ کا اعتماد حاصل ہوگیا اور زار روس نے راسپوٹین کو ’’مقدس شخص‘‘ اور ’’ہمارا دوست‘‘ جیسے خطابوں سے نواز دیا۔

وہ زار روس کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی وجہ سے متنازعہ شخصیت بن گیا بالخصوص سینٹ پیٹرز برگ کے پادریوں کے لئے اس کی شخصیت ناقابل قبول تھی چرچ کی طرف سے اس کی حرکات، عادات پر کئی اعتراضات اٹھائے گئے مگر راسپوٹین متنازعہ ہونے کے باوجود زار اور زارنیہ کا منظور نظر رہا۔

راسپوٹین کو راستے سے ہٹانے کیلئے صرف ایک طریقہ نظر آیا کہ اس کو قتل کردیا جائے۔

1905 سے 1916ء تک روس پرعملاً راسپوٹین کی حکومت تھی۔ زارینہ اس کی بہت معتقد تھی۔ اسی کی سفارش پر راسپوٹین کو روسی چرچ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ زار کے خاندان پر اس کا اتنا اثر تھا کہ اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں اسی کے مشورے سے کی جاتی تھیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ جرمن ایجنٹ تھا۔

روسی پرنس فیلکس یوسو پوف نے روس کو راسپوٹین جیسے شیطان کے وجود سے پاک کرنے کا منصوبہ بنا یا۔ فیلیکس کے مرحوم بھائی کی خوبصورت منگیتر مونیا بھی راسپوٹین کی ہوس کا نشانہ بن چکی تھی اور آئندہ محتاط رہنے کے بجائے اب بھی اُس کی مداح تھی۔ پرنس نے مونیا ہی کے ذریعے راسپوٹین کے ساتھ تعلق پیدا کیا۔

loading...

راسپوٹین بھی اس کی طرف رغبت سے بڑھا کیونکہ فیلکس کی بیوں ڈچز آئرینا نہا یت حسین و جمیل شہزادی تھی اور راسپوٹین مدت سے اس پر آنکھ رکھے ہوئے تھا۔ پرنس فیلکس نے ایک ملا قات میں پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کے مطابق راسپوٹین سے کہا کہ وہ اس کی بیمار بیوی آئرینا کو دیکھنے آئے۔

16 دسمبر 1916ء کی رات کو شہزادہ فیلیکس یوسفپوف اور گرینڈ ڈیوک دمتیری پاولووچ نے راسپوٹین کو اسی محل میں دعوت پر بلایا۔

دعوت کا اہتمام محل کے تہہ خانہ میں ایک کمرے میں کیا ۔ اس کمرے میں فیلیکس اور راسپوٹین کے مجسمے بنا کرماحول کو اجاگر کیا گیا۔

میز پر زیرلے کیک کے ٹکڑے اور ریڈ وائن کی بوتل رکھی گئی۔ یہ زہر تقریباً 7 لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کیلئے کافی تھا۔ راسپوٹین نہ صرف کیک کھا گیا بلکہ شراب بھی پی گیا اور مرنے کی بجائے کرسی پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے فیلیکس یوسفپوف سے باتیں کرتا رہا۔

فیلیکس حیران ہو گیا کہ یہ اب بھی نہیں مرا تھا۔ فیلیکس نےاسپوٹین پر فائر کھول دیا، جس سے وہ زمین پر گر گیا کچھ دیر کے بعد جب فیلیکس اس کو چیک کرنے کیلئے آیا کہ یہ مرا ہے کہ نہیں؟ اس کے قریب پہنچ کر اسے ہلایا تو راسپوٹین نے آنکھیں کھول کر فیلیکس کو گریبان سے پکڑ کر گالیاں دینا شروع کردیں اور جھنجوڑ کر رکھ دیا۔

فیلیکس نے خود کو اس سے چھڑایا اور محل کے اندر بھاگ گیا جبکہ راسپوٹین زخمی حالت میں تہہ خانے کی سیڑھیاں چڑھ کر لنگڑاتا ہوا، دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ فیلیکس اور اس کے ساتھیوں نے اس کا پیچھا کرکے اس پر مزید گولیاں چلائیں اور پھر اسے پکڑ کر بستر میں لپیٹا اور وزن سے باندھ کر دریائے میکا میں پھینک دیا۔ چار دن بعد راسپوٹین کی لاش دریائے نیوا سے مل گئی

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے جو وجہ موت سامنے آئی وہ زہر سے تھی نہ گولیاں لکھنے سے، بلکہ پانی میں ڈوبنے سے تھی اور یوں یہ پر اسرار کردار مرتے مرتے بھی دینا کو حیران و پریشان چھوڑ گیا۔

جنات کا سایہ یا بیماری؟ (ہسٹیریا)

یوسفپوف محل کا یہ حصہ اور بغلی دروازہ آج بھی اسی طرح قائم ہے۔ اور اس کے باہر ایک سٹال لگایا گیا ہے جہاں راسپوٹین کی موت کی داستان بیان کرنے والے موجود ہیں۔

21دسمبر 1916 ء کو زار، زارینہ اور شاہی خاندان کے دیگر لوگوں کی موجودگی میں راسپوٹین کو پورے حکومتی اعزازات کے سمیت دفن کیا گیا۔ اور راسپوٹین کے قاتلوں کو سزا کے طور پر ملک بدر کر دیا گیا۔ اس کی موت کے صرف تین ماہ بعد 15 مارچ 1917 ء کو زار تخت سے دستبردار ہو گیا۔

انقلابیوں نے روس پر قبضہ کرنے کے بعد  23مارچ کو راسپوٹین کی قبر کھودی، تابوت نکالا اور قریبی جنگل میں لے جا کر آگ کی نذر کر دیا۔ اور یوں روس کے بے تاج ،نام نہاد ولی کا دردناک انجام ہوا۔

(Visited 59 times, 1 visits today)

Comments

comments

Rasputin, راسپوٹین,

اپنا تبصرہ بھیجیں