پاکستانیوں کی تضحیک اور کرپٹ اشرافیہ کا فرشتہ بننے کی نئی سازش..!

امریکیوں کا شمار دنیا کی عظیم ترین اقوام میں ہوتا ہے۔ تاہم کرونا وائرس کے معاملے میں وہاں کا حال پاکستان سے بد ترین ہے اور وجہ یقینا ایک ہی ہے کہ وہاں کی عوام عالمی ادارہ صحت اور امریکی حکومت کی ہدایات پر عمل نہیں کر رہی۔

لیکن پاکستان میں اگر ایک مرد انتہائی مجبوری کے تحت عورت کا لباس پہن کر ڈبل سواری کرتا ہے تو معاشرے کے کرپٹ ترین طبقے سے تعلق رکھنے والا پولیس اہلکار اس کی تضحیک کرتا ہے اور سوشل میڈیا پر اس نوجوان کی غلطی کو پوری قوم پر تھوپتے ہوئے پاکستانیوں کی تضحیک کی جاتی ہے۔

ذرا اس سوار سے پوچھنا تو تھا کہ کیا اسے شوق چڑھا تھا زنانہ لباس پہن کر موٹر سائیکل پہ گھومنے کا؟ کراچی کی اڑھائی کروڑ آبادی میں سے 100 لوگوں نے ایک ٹرک میں چھپ کر بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے کام پر جانا چاہا تو چھوٹے بچوں کی خاطر ‘گناہ عظیم’ سرانجام دینے والوں کی غلطی پوری قوم پر تھوپی جا رہی ہے۔

ہم معصومیت میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستانی عوام کی تضحیک کر رہے ہیں اور معاشرے کے کرپٹ ترین افراد کو فرشتہ بنا کر پیش کر رہے ہیں تاکہ نا اہلیوں کا معیار الٹ سکے. ابھی بھی کرونا کے مریض کے لئے ہزار پانچ سو دے کر کسی ناکے سے گزر جانا کوئی مسئلہ نہیں۔ میں اپنے شہر لاہور کی مثال دیتے ہوئے یہ نکتہ نظر اپنا سکتا ہوں کہ میرے شہر میں کم از کم 90 فیصد لوگ احتیاط کر رہے ہیں اور قوانین کی پاسداری کر رہے ہیں۔

کرونا کے بعد کا پاکستان کیسا ہو گا …..؟

تاہم اکا دکا واقعات کو لے کر میرے شہر کی عوام کو ذلیل کیا جاتا ہے ۔ وہ عوام جس کے ووٹ کی کوئی وقعت نہیں جس پر کرپٹ ترین اور نا اہل ترین حکمران مسلط کر کے خوب استحصال کیا جاتا ہے۔کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ آج معاشرے کے کرپٹ ترین محکمے اور حکمران ہیرو بنے پھرتے ہیں۔

آج جو لوگ بھوک یا کسی سخت مجبوری کے ہاتھوں کوئی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو یاد رکھنا چاہئیے کہ حضرت عمر کے دور میں جب قحط پڑا تھا تو چوری کی ہاتھ کاٹنے کی سزا معطل کر دی گئی تھی اور اس سلسلے میں شاید ایک حدیث بھی ہے جس کا مفہوم ہے کہ قریب ہے کہ غربت کفر تک پہنچا دے۔ ایسے حالات میں رہنمائی اور شعور دینے کے عمل پر ذیادہ توجہ دینی چاہئیے نا کہ کسی فرد کی غلطی کو قوم پر تھوپنے والے رویہ پر۔

قانون نافذ کرنے والو تم کیا جانو جب بچہ بھوک لگنے پر ماں باپ کو جن نظروں سے دیکھتا ہے تو ماں باپ پر کیا گزرتی ہے جب روٹی کے لئے پیسے نہیں ہوتے۔ یہ اشرافیہ یہ تو بیان فرمائیں کہ 70 سالوں میں ہر پاکستانی کی سرپرستی کی ہے جو آج ہر پاکستانی سے امید رکھتے ہیں کہ وہ قانون کی پاسداری آپ کی منشاء کے مطابق کرے؟ لاہور میں کرونا کے حد سے حد دو سو مریض ہوں گے۔ ذرا حساب لگائیں کہ یہ ڈیڑھ کروڑ آبادی کا کتنا فیصد بنتا ہے؟

حکمران اپنے ذاتی مفاد اور چھوٹی چھوٹی خواہشات کے لئے ملک کے آئین اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں اور ان کا کبھی بھی قانون کے مطابق احتساب نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ یہ ملک دو ٹکڑے ہو گیا، کیا اس سے بڑا ظلم اس ملک کے ساتھ ہو سکتا تھا؟

توقع یہ تھی کہ پاکستان کو مکمل کیا جائے گا اور 73 سال گزرنے کے بعد آج نتیجہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کو سڑکوں پر رسوا کرنے پر فخر کیا جا رہا ہے۔ فرق تو صرف اتنا ہی ہے نہ کہ آج غریب نے اپنے بچوں کے دودھ کے لئے قانون توڑا ہے اور 70 سالوں سے تم اپنی عیاشیوں اور ذاتی انا کی تسکین کے لئے قانون کی دھجیاں اڑاتے آ رہے ہو۔

ذرا اس سوال کا جواب دینا پسند کرو گے کہ پاکستان میں کرونا وائرس لانے کا ذمہ دار کون ہے؟ سرحد پر کون ہوتا ہے جس نے موجودہ صورتحال میں کس کی اجازت سے کرونا وائرس کے مریضوں کو آنے دیا؟ آج عوام سے پیٹ کی خاطر ذرا خطا کیا ہوئی کہ حکمران، اشرافیہ اور کرپٹ ترین طبقات فرشتے بن گئے اور عوام گھٹیا اور ذلیل ترین مخلوق ہو گئی۔

چند پاکستانیوں کی غلطیوں کی اصلاح کی ضرورت ضرور ہے تاہم یہ بات مدنظر رہے کہ دنیا کی تمام ترقی یافتہ اور عظیم اقوام کرونا وائرس کے معاملے میں پاکستانیوں سے کہیں ذیادہ غلطیاں کر رہی ہیں اور ان کا حال پاکستانیوں سے کہیں برا ہے۔ ہمیں کسی بھی طور پاکستانی قوم کی تضحیک نہیں کرنی چاہئیے۔ اور چند پاکستانیوں کی غلطیوں کو لے کر جو کرپٹ ترین اشرافیہ فرشتہ بننے کی کوشش کر رہی ہے اس کی سازش کو سمجھنا چاہئیے۔

(Visited 67 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں