توند کی چربی کو کیسے کم کیا جائے؟

چربی

پیٹ اور کمر کے ارگرد کی چربی یا توند میں کمی جسمانی وزن سے نجات کا ایک عام مقصد ہوتا ہے۔

دماغی صحت کو کورونا وائرس کس طرح متاثر کرتا ہے؟

اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ پیٹ اور کمر کے ارگرد جمع ہونے والی یہ چربی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہے اور طبی سائنس کے مطابق اس کا مختلف بیماریوں جیسے ذیابیطس ٹائپ ٹو اور امراض قلب سے مضبوط تعلق ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس چربی کو گھٹانا صحت اور شخصیت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔

مردوں میں 40 انچ اور خواتین میں 35 انچ سے زیادہ کمر کا مطلب یہ ہے کہ توند نکل رہی ہے۔

مخصوص حکمت عملیوں کے ذریعے اس چربی کو گھلانا آسان ہوسکتا ہے اور ایسے ہی چند آسان طریقے جانیں جن کی طبی سائنس بھی حمایت کرتی ہے۔

چینی اور میٹھے مشروبات سے گریز کریں

ایسی غذائیں جن یں چینی کو شامل کیا جاتا ہے، صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں، خاص طور پر اگر ان کا استعمال بہت زیادہ کیا جائے تو وزن بڑھنے لگتا ہے۔

مختلف تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ چینی سے میٹابولک صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور چینی کا زیادہ استعمال پیٹ اور جگر کے ارگرد چربی کے اجتماع کا باعث بن سکتا ہے۔

کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ یہی چینی کے صحت پر منفی اثرات کا مرکزی جز ہے، یعنی پیٹ اور جگر میں چربی کا اضافہ، جو انسولین کی مزاحمت سمیت متعدد میٹابولک مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

سیال چینی یا میٹھے مشروبات اس حوالے سے بدترین سمجھے جاسکتے ہیں اور دماغ اس سے ملنے والی کیلوریز کو اس طرح رجسٹر نہیں کرتا جس طرح ٹھوس کیلوریز کو کرتا ہے، آسان الفاظ میں جب آپ میٹھے مشروبات پیتے ہیں تو زیادہ کیلوریز جزوبدن بنالیتے ہیں۔

بچوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں مشاہدہ کیا گیا تھا کہ روزانہ ایک اضافی سافٹ ڈرنک سے موٹاپے کا امکان 60 فیصد تک بڑھ گیا۔

یقیناً چینی کو مکمل طور پر چھوڑ دینا تو ممکن نہیں مگر کم از کم استعمال کرنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے، خاص طور پر میٹھے مشروبات کو جتنا کم ہوسکے پینا عادت بنائیں۔

زیادہ پروٹین غذا کا حصہ بنائیں

پروٹین جسمانی وزن میں کمی کے لیے ممکنہ طور پر سب سے اہم غذائی عنصر ہے۔

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ پروٹین سے غذا کی اشتہا کو 60 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے، جبکہ میٹابولزم کو زیادہ متحرک کرکے 80 سے 100 اضافی کیلوریز جلانے اور غذا کی کم مقدار کو جزوبدن بنانے میں مدد دیتا ہے۔

پروٹین نہ صرف جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے بلکہ دوبارہ بڑھنے سے روکنے کے لیے بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

پروٹین کو توند کی چربی گھٹانے کے لیے زیادہ موثر سمجھا جاتا ہے اور ایک تحقیق میں معلوم ہوا تھا کہ جو لوگ زیادہ اور بہتر پروٹین کا استعمال کرتے ہیں، ان میں توند کی چربی بھی دیگر سے بہت کم ہوتی ہے۔

ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ پروٹین کے استعمال سے خواتین میں 5 سال کے عرصے کے دوران توند میں چربی جمع ہونے کا امکان کم ہوا۔

زیادہ پروٹین والی غذائیں جیسے انڈے، مچھلی دالیں، گریاں، گوشت اور دودھ کی مصنوعات کا استعمال اس حوالے سے مدد فراہم کرسکتا ہے۔

کاربوہائیڈریٹس (نشاستہ) کا کم استعمال

نشاستہ دار غذائوں کا کم استعمال بھی چربی گھلانے کا ایک موثر طریقہ ہے۔

اس بات کی تصدیق لاتعداد تحقیقی رپورٹس میں ہوئی ہے، جب کاربوہائیڈریٹس کا استعمال کم کیا جاتا ہے تو کھانے کی اشتہا بھی کم ہوجاتی ہے اور جسمانی وزن کم ہونے لگتا ہے۔

2 درجن کے قر%D

(Visited 40 times, 1 visits today)

Comments

comments