آج کل

ہاٹ منی کیا ہوتی ہے…؟

ہاٹ منی وہ سرمایہ کاری ہوتی ہے جو بانڈز یا شئیرز میں قلیل مدت کے لیے بہت اچھے شرح منافع کے لیے کی جاتی ہے۔ پاکستانی بانڈز پر شرح منافع پرکشش ہونے کی وجہ سے رواں مالی سال ان میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری غیر معمولی طور پر بڑھی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں یورو اور دیگر بانڈز پر شرح منافع سالانہ سات سے آٹھ فیصد سے زیادہ نہیں جبکہ پاکستانی قلیل مدتی بانڈز جن کو ٹریژری بلز کہا جاتا ہے ان پر شرح منافع تیرہ فیصد سے زائد مل رہا ہے۔

اس وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار ادارے اور افراد کسی ایسے ملک میں جہاں شرح منافع کم ہو، وہاں سے رقم قرض لے کر پاکستان جیسے ملک میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جہاں شرح منافع زیادہ ہو۔ اس طرح انہیں کم سے کم محنت، مدت اور رسک میں زیادہ منافع ملتا ہے۔ اس سرمایہ کاری کو ہاٹ منی کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شرح منافع خطے اور دنیا کے بیشتر ممالک سے زیادہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ چند ماہ میں بڑی مقدار میں ہاٹ منی کی صورت میں سرمایہ آیا ہے۔

قرضے

لیکن کیا ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا یہ بہترین طریقہ ہے؟

ماہر اقتصادیات اور حکومت کی اکنامک ایڈوائزری کونسل کے سابق رکن عاطف میاں نے ٹوئٹ میں ہاٹ منی کو فروغ دینے کی حکمت عملی کو غلط فیصلہ قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قلیل اور آزادنہ سرمایہ کاری کے اثرات منفی بھی ہوسکتے ہیں۔ اپنے ٹوئٹس میں ان کا کہنا تھا کہ غیر منظم سرمایہ کاری بیرونی قرضوں کے حجم کو خطرناک حد تک بڑھا سکتا ہے، جس سے معیشت متاثر ہوگی۔

عاطف میاں کے مطابق نوے کے اوائل میں فارن کرنسی اکاوئنٹ کھولنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ جاری خسارے پر قابو پایا جا سکے۔ تاہم بعد میں اس فیصلے کی وجہ سے معیشت شدید بحران کا شکار ہوگئی تھی۔ ان کا کہنا ہے نون لیگ کی پچھلی حکومت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مصنوعی طور پر روپے کی قدر کو اوپر رکھا تھا جس سے برآمدات بری طرح متاثر ہوئیں اور بعد میں روپے کی قدر مین غیر معمولی کمی کرنی پڑی۔

ان کا کہا تھا کہ حکومتی پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے کے باعث سرمایہ کار پاکستان کے طویل مدتی بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق حکومت اور مرکزی بینک کو کاروباری لاگت کو کم کرنے اورمنی لانڈرنگ پر قابو پانا ہوگا تاکہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری سے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوسکیں۔

کپتان کے وعدے، قسمیں اور ارادے

ان کا کہنا ہے تھا کہ معیشت میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے ضرورت سے زیادہ مراعات دینی پڑتی ہیں۔ جبکہ کمزور مالی پوزیشن کی وجہ سے پاکستان کے لیے آزادانہ خارجہ پالیسی جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا بانڈز سے ملنے والی رقم سے مانیٹری پالیسی متاثر ہوگی اور بیرونی قرضوں کا دباؤ برقرار رہے گا۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر وقار کے مطابق اتنی بڑی سرمایہ کاری سے سٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ سے ڈالرز خرید کر ایکسچینج ریٹ میں وقتی طور استحکام لانے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق مرکزی بینک نے پچھلے دو ماہ میں اوپن مارکیٹ سے تین ارب ڈالرز خریدے ہیں اور اب اس کے زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے گیارہ ارب ڈالرز سے تجاوز کرچکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ درآمدات میں کمی کی وجہ سے بھی حکومت کا جاری خسارہ پہلے چھ ماہ میں آٹھ ارب 61 کروڑ ڈالر سے کم ہوکر دو ارب 15 کروڑ ڈالر رہ گیا ہے، لیکن دوسری جانب حکومتی قرضوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے سائز سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بانڈز مارکیٹ کو پرکشش بنانا آئی ایم ایف کے فنانشل ماڈل کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے مصر اور انڈونیشیا میں بھی شرح سود میں اضافہ کرکے ان کی بانڈز مارکیٹس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کیا تھا۔ جبکہ 1997 میں بھی آئی ایم ایف پروگرم میں جانے کے بعد پاکستان کو ایسا ہی کرنا پڑا تھا۔

ڈاکٹر وقار کا کہنا ہے حکومت کو یہ احساس ہے کہ بانڈز سے حاصل ہونے والی رقم پر شرح سود بہت زیادہ ہے جسے کم کرنا بہت ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے شرح سود کم کیے بغیر معاشی سرگرمیاں تیز کرنا ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بھی اس کا احساس ہے اس لیے وہ اس سال دو ارب ڈالرز کے یورو بانڈز دو ارب ڈالرز کے پانڈا بانڈز اور ایک ارب ڈالر مالیت کے سکوک بانڈز جاری کرنے کا اراداہ رکھتی ہے۔

شجر کیپیٹل کے چیف ایگزیٹو ریحان عتیق کا کہنا ہے یورو یا کسی اوربانڈز پر سات سے آٹھ فیصد پر حکومت کو با آسانی قرضہ مل سکتا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ مرکزی بینک بانڈزز کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری فی الحال جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا سال کے پہلے چھ ماہ میں افراط زر بارہ فیصد سے اوپر رہا ہے۔ اس لیے مارچ اپریل تک شرح سود میں کسی واضح کمی کا امکان نہیں۔ انہوں نے کہا جب تک حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں طویل مدتی بانڈز جاری نہیں کرتی اس وقت تک ہاٹ منی میں سرمایہ کاری جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ اب حکومت بین الاقوامی مارکیٹ میں بانڈز جاری کرنے چاہیئے تا کہ کم شرح سود پر قرضہ حاصل کیا جا سکے، بصورت دیگر اسٹاک مارکیٹ اور صنعتی شعبے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آنے کا امکان نہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو

Leave a Reply