سعودی عرب میں سمندر سے ایسا کیا مل گیا جس سے تمام ملکوں میں خوف پھیل گیا

Loading...

ریاض : سعودی غوطہ خوروں نے سمندر کی تہ سے پنجرے میں قید انسانی ڈھانچے برآمد کیے ہیں جن کے سروں پر بحری قزاقوں والی ٹوپی ہے۔ان لاشوں کے ملنے کے بعد علاقے میں کافی خوف پایا جا رہا ہے

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ انسانی ڈھانچے سعودی عرب کے تبوک ریجن میں سمندر کی تہ سے برآمد ہوئے ہیں جو اوور کوٹ اور بحری قزاقوں کی ٹوپیاں پہنے ہوئے ہیں۔

زیر آب برآمد ہونے والے ڈھانچے پنجرے میں قید تھے جن کی برآمدگی کے بعد لوگ شدید خوفزدہ ہوگئے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ کسی جادوگر کی کارروائی ہوسکتی ہے۔۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انسانی قد کے برابر انسانی ڈھانچے اصل میں پلاسٹک کے ہیں۔

ڈھانچے کو جس پنچرے میں رکھا گیا تھا وہ بڑی جالیوں سے تیار کیا گیا تھا جبکہ اس کے دروازے پر بڑا تالا بھی لگایا گیا تھا جس سے کسی قید خانے کا خاکہ ذہن میں آتا ہے۔

عرب خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ غوطہ خوروں کے ہیڈ کیپٹن محمد الصبیلی نے بتایا ’انسانی مصنوعی ڈھانچہ غوطہ خوروں کے ایک گروپ کو دکھائی دیا تھا جو12 فٹ نیچے سمندر کی تہ میں ایک پنجرے میں بند تھا۔

Loading...

اتنی گہرائی میں پنجرے ملنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے دور تک لاکر سمندر میں پھنکا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کوسٹ گارڈز نے پنجرے کو سمندر سے باہر نکالا تو ابتدائی تحقیق سے پتہ چلا کہ وہ کسی انسان کے ڈھانچے نہیں بلکہ پلاسٹک کے ڈھانچے ہیں، جو عام طور پر میڈیکل کالجز میں تعلیم دینے کے لیے ہوتا ہے۔

غوطہ خور کیپٹن محمد الصمیلی کا کہنا تھا پنجرہ اور اس میں بند ڈھانچہ اس بات کی جانب سے اشارہ کرتا ہے کہ اسے کسی جادو کے مقصد کے تحت سمندر کی تہہ میں پھنکا گیا ہے۔

خیال رہے کہ عام طور پر ایسی اشیاء پر جادو کرکے انہیں سمندر برد کیا جاتا ہے۔

(Visited 74 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں