کیا آپ جانتے ہیں موبائل کیوں دریافت کیا گیا ۔۔۔ ؟

موبائل
Loading...

کہتے ہیں وقت بدلتا رہتا ہے پرانے وقتوں میں لوگ اکھٹے بیٹھا کرتے تھے. شدید گرمیوں کی تپتی دوپہروں میں بعد نماز ظہر بڑے بڑے گھنے درختوں کے سائے تلے بیٹھ کر چائے پیتے تھے حقہ پیتے تھے گپ شپ کرتے تھے مل بیٹھ کر وقت گزارتے تھے۔ مگر پھر وقت بدل گیا لوگ ترقی کر گئے آگے بڑھ گئے۔ اور پھر ایسے آگے بڑھے کے مڑ کر نہیں دیکھا۔ بہت سی ایجادات کی گئیں ۔ سہولتوں اور آسانیوں کے لیے نئے نئے کارآمد طریقے سے نئی ایجادات دریافت کی گئیں ۔ انہیں ایجادات میں سے ایک بہترین ایجاد موبائل فون بھی ہے ۔ موبائل فون کو محض لوگوں کی آسانی اور سہولت کے لیئے بنایا گیا تاکہ لوگ دور دراز لوگوں سے رابطے میں رہیں۔

ایک وقت تھا جب موبائل کا نام و نشان تک نہیں ہوتا تھا، پھر پی سی او وجود میں آیا اور وہ بھی ڈھیروں علاقوں میں ایک پی سی او ہوتا تھا جہاں لوگ لمبی قطاریں بنا کر گھنٹوں اپنی باری کا انتظار کیا کرتے تھے ۔ تب کہیں جا کر ان کی باری آتی تھی اور وہ بات کر پاتے تھے ۔ جیسے کہ میرے بابا بتاتے ہیں کہ کافی عرصہ پہلے غالبًا کوئی 25 سے 30 سال پہلے کی بات ہے جب بابا نے دادا ابو سے لاہور بات کرنی تھی کسی مرنے کی اطلاع دینی تھی تب وہ 60 کلومیٹر کی طویل مسافت کے بعد فون بوتھ تک پہنچے. اس وقت وہاں کوئی لگ بھگ سو آدمیوں کی لمبی قطار موجود تھی۔

PC: wiki

چند سالوں بعد ہی ہر علاقے میں فون آ گئے ۔ اور لوگوں کو بات چیت میں آسانی ہوئی۔ اب یہ وہ وقت تھا جب شام کو آدھے ریٹ پر لوگ فون کر سکتے تھے اور اس وقت 120 روپے فی منٹ ریٹ تھا تو ہاف ریٹ 60 روپے فی منٹ ہوا ۔

اک وقت ایسا آیا… ہر گھر میں پی ٹی سی ایل فون لگ گئے جو صبح 9 بجے آن ہوتے اور شام 6 بجے بند ہو جاتے تھے ۔ تب کچھ لوگ ہوتے تھے جو کالز آپریٹ کرتے تھے پہلے کال ان کو جاتی تھی اور انہیں اپنا مطلوبہ نمبر دیا جاتا تھا پھر وہ کال ملاتے تھے اور اسطرح بات ہوا کرتی تھی۔

وقت بدلتا گیا ، سائنس کی حیرت انگیز ایجاد وائرلیس فون معرض وجود میں آئی۔ جس سے لوگوں کو اپنے عزیز و اقارب سے رابطہ رکھنے میں کافی آسانی ہو گئی ۔

لیکن پھر وقت نے مزید ترقی کی اور موبائل فون کی آمد ہوئی ۔ جس کی وجہ سے زندگی آسان سے بہت آسان ہو گئی آپ جب چاہیں کسی سے بھی کسی بھی وقت آسانی سے بات کر سکتے ہیں نا سفر نا کوئی دقت۔ بس آپ اپنی پاکٹ سے اپنا موبائل فون نکالیں اور کسی کا بھی نمبر ڈائل کریں اور آرام سے بات کریں۔

Loading...

اب تو وقت کچھ ایسا آ گیا ہے اتنا فاسٹ دور ہے کہ اب اگر گھر میں پانچ افراد ہیں تو پانچوں کے پاس اپنا الگ الگ موبائل فون ہے اور اتنا ہی نہیں ایک شخص کے پاس 5،5 سمیں ہیں ۔ اب تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ موبائل ہے کیا اور موبائل میں کونسا فنگشن کہاں ہے ۔ ایک بالکل چھوٹا سا معصوم بچہ جو ڈھنگ سے کھا پی بھی نہیں سکتا نا بول اور چل سکتا ہے لیکن وہ بھی موبائل کا عادی نظر آتا ہے کیونکہ جب بچہ روتا ہے تو مائیں بڑے آرام سے بچے کو موبائل تھما دیتی ہیں تاکہ بچہ چپ ہو کر بیٹھا رہے۔

اگر میں اپنی بات کروں تو مجھے خود موبائل کی شدید عادت ہے موبائل پاس نا ہو تو لگتا ہے جیسے کھانا ہضم نہیں ہوا ۔۔ ہاہا ۔۔۔ لیکن یہ حقیقت ہے ۔ چند دن پہلے کی بات ہے کہ میں کمبل میں بڑے آرام سے بیٹھ کر موبائل پہ لگی تھی اس وقت میرے بھائی کو بہت شراتیں سوجھ رہی تھیں وہ بار بار مجھے پنگے دے رہا تھا کبھی یہاں سے چھیڑتا کبھی وہاں سے چھیڑتا کبھی فون کھینچ لیتا ۔ اور میں اس پر غصہ کر رہی تھی کہ نہیں چھیڑو جاو یہاں سے اپنے کمبل میں گھسو میرے پاس نا آو ۔ مطلب اس وقت میں بہت غصے میں تھی ۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ چلا گیا ۔ اپنے بستر میں جا کر سکون سے بالکل چپ کر کے بیٹھ گیا۔

تب میں نے سوچا کہ ہم کیا کر رہے ہیں ۔ یہ رشتے ہمارے اپنے ہیں یہ رشتے ہمارا پیار ہیں ہمارا سکون ہیں اور ہمارے محافظ بھی ۔ اس وقت یقین جانیئے مجھے ڈر سا لگا ۔ مجھے لگا ہم اپنوں کو چھوڑ کر اس موبائل میں صرف وقت ضائع کر رہے ہیں ٹھیک ہے موبائل ہماری ضرورت ہے لیکن کیا ہمارے والدین ہمارے بہن بھائی ہمارے لیئے موبائل سے کم ضروری ہیں ۔ ۔ ۔ ؟ نہیں نا۔

پھر ہم کیوں اپنوں کو بھول جاتے ہیں ۔ موبائل تو ہمیشہ ہمارے پاس ہوتا ہے اور ہمیشہ پاس رہے گا۔ لیکن اگر یہ خوبصورت رشتے کھو گئے نا تو کبھی واپس نہیں آئیں گے ۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ گیا ہوا شخص واپس آیا ہو ۔ نہیں نا۔ تو اپنوں کی قدر کیجیئے کہتے ہیں قدر ہمیشہ وقت گزرنے کے بعد ہوتی ہے مگر کیا فائدہ ایسی قدر اور ایسے پچھتاوے کا ۔ اس لیئے اپنے والدین اور اپنے بہن بھائیوں کو وقت دیجیئے۔ وقت پر ان کی قدر کیجیئے کیونکہ دنیا کی ہر شے مل جاتی ہے مگر رشتے کھو جائیں نا تو کبھی واپس نہیں ملتے ۔ ٹیکنالوجی (موبائل) آپ کی سہولت اور آسانی کے لیئے بنائی گئی ہے اس لیئے نہیں کہ آپ اسے اپنے سر پر ہی سوار کر لیں۔

زونیرہ شبیر ( زونی )
پنڈیگھیب ، اٹک

(Visited 114 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں