کرونا وائرس اور پاکستانی عام آدمی کی پریشانیاں….!

Loading...

پاکستان میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے اقدامات اور لاک ڈاؤن اور سندھ میں کرفیو کے سبب عام آدمی کے لئے مشکلات شدید تر ہوتی جا رہی ہیں،

خاص طور سے وہ عام آدمی جو روزانہ کی بنیاد پر کماتے اور اپنا گھر چلاتے ہیں۔ سوائے خورد و نوش کے سامان اور ادویات کی دوکانوں کے تمام بازار اور کاروبار اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے اور ہر چند کہ ان دوکانوں میں جو کھلی ہوئی ہیں، سامان کی کوئی قلت بھی نہیں ہے۔

لیکن، عام آدمی کی آمدنی کے ذرائع بند ہونے اور قیمتوں میں اضافے کے سبب سامان ان کی دسترس سے باہر ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے پاس پیسہ ہے وہ سامان خرید کر ذخیرہ کر رہے ہیں اور جنکے پاس پیسے نہیں ہیں ان میں سے بہت سے مانگنے کے لئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اور حکومت نے جن امدادی پیکجوں کا اعلان کیا ہے اس کی رقم بھی ابھی لوگوں کو ملنی شروع نہیں ہوئی ہے۔

انجمن تاجران آل پاکستان کے سربراہ خالد پرویز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن سے جو محض جزوی ہے ملک بھر کے تاجروں کو ایک سو ارب روپے روزانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید کم سے کم ہوتی جا رہی ہےاور بہت بڑی تعداد میں لوگ روز مرہ کی ضروریات کا سامان بھی خریدنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

کراچی کے ایک تاجر عتیق میر نے بتایا کہ خطرہ یہ ہے کہ اگر لاک ڈاؤن زیادہ دیر تک چلا تو پھر رفتہ رفتہ ان لوگوں کے روزگار بھی ختم ہونے لگیں گے جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ملک میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا عفریت اٹھ کھڑا ہو گا جو پہلے ہی سے ملک کی کمزور معیشت کے لئے زیادہ سنگین مسائل کو جنم دے گا۔ انکا کہنا تھا کہ بندشیں نامعلوم وقت کے لئے ہوں۔ یہ پتہ ہی نہ ہو کہ کل کیا ہوگا تو پھر پریشانی فطری ہے۔

Loading...

ادھر حکومت کا موقف یہ ہے کہ کوئی اس نوعیت کا لاک ڈاؤن جیسا بھارت میں ہوا ہے ایسا پاکستان میں نہیں ہوا نہ ہونا چاہئے تھا، کیونکہ اس سے عام آدمی کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے بار بار اسی موقف پر زور دیا ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں یہ جزوی نوعیت کا لاک ڈاؤن پانچ اپریل تک جاری رکھنے کو کہا گیا تھا۔ لیکن، اب حکومت کی جانب سے عندیہ دیا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن میں چودہ اپریل تک کی توسیع کی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کا سوال ہے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز سیاسی تجزیہ کار سلمان عابد نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت نے جن امدادی پیکجوں کا اعلان کیا ہے۔ ان کی ڈیلیوری ہونی چاہئے تاکہ ضرورت مند اپنا کم از کم روز مرہ کا کام تو چکا سکیں۔ اور حکومت کو اس سلسلے میں فیصلے جلدی اور حقائق کی بنیاد پر کرنے چاہئیں۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

(Visited 83 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں