شیر خوار بچوں کو پانی پلانا ان کی جان بھی لے سکتا ہے…..!

شیر خوار بچوں
Loading...

ہر انسان کو ایک دن میں کئی گلاس پانی پینے کی ضرورت ہوتی ہے کہا جاتا ہے کہ جو شخص پانی زیادہ پیتا ہے بیماریاں بھی اس سے دور رہتی ہیں لیکن بڑوں کی نسبت شیر خوار بچوں کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چھے ماہ سے کم عمر کے شیر خوار بچوں کو پانی پلانا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے بعض اوقات تو بچوں کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ہم بہت زیادہ پانی پیتے ہیں تو یہ خون میں شامل ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے خون میں موجود سوڈیم کی سطح کا لیول کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جب خون میں سوڈیم کی سطح حد کم یعنی تقریباً فی گیلن کے حساب سے 0.4 اونس ہوجائے تو ہمارا جسم ہائپونیٹرمیا کا شکار ہوجاتا ہے۔

10 گھنٹے تک بیٹھ کرکام کرنے والے لوگ یہ ضرور جان لیں۔۔۔۔!

اس کیفیت میں جسم کے خلیات اضافی پانی کو اپنے اندر جذب کرکے سوڈیم کی سطح معمول پر لانے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم کے خلیات غبارے کی طرح پھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے متلی اور عضلات میں کھنچاؤ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ کیفیت زیادہ تر ایتھلیٹس میں نہایت عام ہوتی ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ پانی پیتے ہیں۔

اس صورتحال میں پانی ہمارے دماغ کے خلیات تک بھی پہنچ سکتا ہے جس کی وجہ سے دماغ کے خلیات بھی پھول سکتے ہیں اور کھوپڑی پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ اس سے دماغ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے اور انسان کی موت واقع ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔

Loading...

ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک مکمل بالغ انسان کے جسم میں پانی کی زیادتی ہو جانے سے موت ہونے کا امکان نہایت کم ہوتا ہے لیکن شیر خوار بچوں کے لیے یہ خطرہ شدید ہوسکتا ہے۔

بچوں کے گردے چونکہ مکمل طور پر نشونما نہیں پائے ہوتے اس لیے جب بچوں کو پانی پلاتے ہیں تو یہ سارا پانی گردوں میں فلٹر ہونے کے بجائے خون میں شامل ہوجاتا ہے اور اس طرح چند اونس پانی بھی ان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

صرف براہ راست پانی ہی نہیں بلکہ اگر بچوں کو پلائے جانے والے فارمولہ دودھ میں بھی پانی کی مقدار زیادہ ہو تو یہی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ فوری طور پر بچے کو ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے جو انہیں خون میں سوڈیم کی مقدار معمول پر لانے کے لیے مختلف مائع جات استعمال کرواتے ہیں۔

(Visited 55 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں