پاکستانی شہریوں کو دو پروازوں کے زریعے چین سے پاکستان پہنچا دیا گیا

حکومت کی جانب سے چین کا فضائی آپریشن بحال کیے جانے کے بعد 2 پروازیں مسافروں کو لے کر پاکستان پہنچ گئیں۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کورونا وائرس کو عالمی ہنگامی صورتحال قرار دینے کے بعد پاکستان نے چین کےساتھ اپنی پروازیں فوری طور پر 2 فروری تک کے لیے معطل کردی تھیں۔

اس ضمن میں برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر جوائنٹ سیکریٹری آف ایوی ایشن عبدالستار کھوکھر نے بتایا تھا کہ ’ہم چین کے ساتھ اپنا فضائی آپریشن بحال کررہے ہیں چینی سدرن ایئر لائنز کی ایک پرواز 145 مسافروں کو لے کر صبح 9 بجے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اترے گی‘۔

بعد ازاں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے تصدیق کی کہ پروازوں کی بحالی کے بعد چین سے 2 پروازیں پاکستانی مسافروں کو لے کر آئی ہیں۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان میں موجود چینی سفارتکار کے ہمراہ چین سے پاکستان آنے والے مسافروں کو ریسیو کیا جس مں 57 پاکستانی جبکہ 12 چینی شہری شامل تھے۔

اس موقع پر انہوں نے ایئرپورٹ پر مسافروں کی اسکریننگ کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تمام ایئرپورٹس پر اسکریننگ سسٹم کو مزید بہتر بنادیا گیا ہے اور حکومت ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہے‘۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ’قومی ادارہ صحت میں ممکنہ کو رونا وائرس کیسز کی تشخیص کی سہولت موجود ہے‘۔

پہلی پرواز قطر ایئرلائن کی تھی جو دوحہ سے پہنچی اور اس میں 40 طلبہ سوار تھے، محکمہ صحت کے عملے نے اسلام آباد ایئر پورٹ پر ان تمام افراد کا طبی معائنہ کیا جس کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

دوسری پرواز چینی سدر ائر لائن کی تھی جس میں 57 پاکستانیوں اور 12 چینیوں سمیت 69 مسافر پاکستان پہنچے۔

اس پرواز میں پاکستانی طلبہ اور دیگر افراد پر مشتمل وہ گروپ بھی شامل تھا جو پروازیں معطل ہونے کے باعث ارومچی ایئرپورٹ پر پھنس گیا تھا جس کے بعد ان کے ویزوں کی معیاد میں 11 روز کی وسیع بھی کردی گئی تھی۔

اسکریننگ کٹس
خیال رہے کہ ایک روز قبل ہی چین سے کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے ایک ہزار کٹس پاکستانی حکومت کو موصول ہوئی تھیں۔

اس ضمن میں این آئی ایچ لیبارٹری کے سربراہ ڈاکٹر محمد سلمان نے بتایا تھا کہ ‘ملک بھر میں حاصل کیے گئے نمونے ٹیسٹ کے لیے این آئی ایچ بھیجے جائیں گے جہاں اس کا ٹیسٹ کیا جائے گا اور ہم نے اس کے لیے باقاعدہ ایک طریقہ کار بھی وضع کرلیا ہے’۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ٹیسٹ کے نتائج کے لیے درکار وقت کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی جبکہ ‘عام طور پر پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج 8 سے 12 گھنٹوں میں آتے ہیں تاہم کسی غلطی کی صورت میں ٹیسٹ کو دوبارہ کیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں مزید 12 گھنٹے لگ سکتے ہیں’۔

ڈاکٹر محمد سلمان نے کہا تھا کہ ایک جانچ کے بعد این آئی ایچ کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے منگل تک متوقع طور پر مکمل فعال ہوگا اور یہ ٹیسٹ مفت کیے جائیں گے۔

جس کے بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ڈان کو بتایا تھا کہ متعدد ذرائع سے ہزاروں ٹیسٹنگ کٹس کا انتظام کرلیا گیا۔

کورونا وائرس کے علاج کی بہتر سہولتیں چین کے سوا کسی اور ملک میں نہیں، نغمانہ ہاشمی

ان کا کہنا تھا کہ ‘کٹس حاصل کرتے ہی ہم نے تمام 7 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا جنہیں کراچی، ملتان اور دیگر شہروں کے ہسپتالوں میں آئی سولیشن وارڈ میں رکھا گیا تھا، خوش قسمتی سے تمام ساتوں مریض کے ٹیسٹ کے نتائج منفی آئے جس سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں اب تک یہ وائرس نہیں آسکا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ٹیسٹنگ کٹس کو جہاں ضرورت ہوگی فراہم کیا جائے گا، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اب اس وائرس کی تشخیص میں خود کفیل ہوگیا ہے’۔

قبل ازیں نمونوں کو بیرون ملک بھیجا گیا تھا کہ مشتبہ مریضوں کی تصدیق کی جاسکے کہ ان میں این سی وی ہے یا نہیں۔

اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت پاکستان نے بھی وفاقی اور صوبائی سطح پر نوول کورونا وائرس کیسز کی انتظامیہ کو لیبارٹری آلات اور تکنیکی معاونت فراہم کی ہے۔

(Visited 18 times, 1 visits today)

Comments

comments

پاکستان اور چین, چین, چین سے 2 پروازیں مسافروں کو لے کر پاکستان پہنچ گئیں, کرونا وائرس,

اپنا تبصرہ بھیجیں