ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کی تحریک سینیٹ میں پیش

سینیٹ
Loading...

ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے یا نہیں؟ سینیٹ میں بحث شروع ہوگئی۔

پہلے مرحلے میں چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل سینیٹ میں پیش کیا گیا۔ بل سینیٹر نصیب اللہ بازئی نے پیش کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ بل میں اور میرے ساتھی ایوان میں لائے ہیں، پاکستان میں اداروں، اتھارٹی سربراہ یا دیگر سربراہان کی تنخواہ سات 8 لاکھ روپے ہے لیکن چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ 2 لاکھ سے زیادہ نہیں لہٰذا چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ اور مراعات میں اضافہ کیا جائے۔

عمران خان نے افتخار درانی کو کابینہ سے نکال دیا

ہم مزدور آدمی ہیں، تنخواہ بڑھنے سے خزانے پر بوجھ نہیں پڑتا، بیرسٹر سیف

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حکومتی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) پاکستان کے سینیٹر بیرسٹر سیف اپنی ہی اتحادی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے فیصل جاوید پر برس پڑے۔

بیرسٹر سیف نے کہا کہ ’ہم مزدور آدمی ہیں، ٹی اے ڈی اے بھی نہیں لیتے، تنخواہ بڑھنے سے قومی خزانے پر اتنا بوجھ نہيں پڑتا، جنہوں نے تنخواہ وصول نہيں کرنی وہ نہ کریں بلکہ موجودہ تنخواہ بھی عطیہ کردیں‘۔

فی الحال سب اسی تنخواہ میں گزارا کریں، فیصل جاوید

پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ فی الحال جو تنخواہ مل رہی ہے سب اسی پر گزارا کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معیشت کے ٹھیک ہونے اور عام آدمی کے حالات بدلنے تک یہ معاملہ التوا میں رکھا جائے۔

فیصل جاوید نے کہا کہ ’وزیراعظم نے اپنی تنخواہ میں بھی اضافہ نہيں کیا، وزیراعظم اپنے اخراجات میں ریکارڈ کمی لے کر آئے ہیں، جب تک معیشت ٹھیک نہ ہوجائے ، عام آدمی کے حالات بدل نہيں جاتے ، یہ معاملہ ہولڈ پر رکھیں‘۔

اس وقت مراعات میں اضافہ مناسب نہیں، شیری رحمان

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے بھی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی مخالفت کر دی ہے۔

سینیٹ سے اپنے خطاب میں شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی واضح طور پر اس معاملے مخالفت کرے گی۔

انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں خطے میں سب سے کم ہیں تاہم اس وقت بہت غلط پیغام جائے گا اگر پارلیمنٹ خود کو مراعات دے۔

loading...

صدر مملکت کو 9 لاکھ روپے تنخواہ مل رہی ہے، سینیٹر مشاہد اللہ

ن لیگ کے رہنما مشاہداللہ نے کہا ہے کہ اگر صدر مملکت کو 9 لاکھ روپے تنخواہ دے رہے ہیں تو گروپ ون اور ٹو کے ملازمین کو اس کا 10 فیصد تو دیں۔

سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ جس کا داؤ لگ جائے وہ تنخواہ بڑھالے جس کا داؤ نہ لگے وہ روتا پھرے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تنخواہیں بڑھانے والے امیرلوگ ہی ہوتے ہیں، ملک میں تنخواہیں بڑھانے کے حوالے سے کوئی اصول نہیں بنایا گیا، صدر صاحب کی تنخواہ بڑھ کرتقریباً 9 لاکھ روپے ہوگئی ہے، وزیراعظم صاحب بھی کہتے ہیں ان کا اس تنخواہ میں گزارا نہیں ہوتا،وزیراعظم کا اس تںخواہ میں گزارا نہیں ہوتا توان کی تنخواہ بھی بڑھادیں‘۔

سینیٹرمشاہداللہ نے مزید کہا کہ ’پرائیوٹ سیکٹر کے لوگوں کو ایک سیکنڈ میں نوکریوں سے نکالا جاتا ہے، 80 لاکھ لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، بے روزگاری کی وجہ سے اسٹریٹ کرائمز اور دیگر جرائم میں اضافہ ہوا ہے، لوگوں کے گھر گرائے جارہے ہیں اور ان کو متبادل جگہ نہیں دی جاتی‘۔

17 گریڈ کے افسر کی تنخواہ بھی ہم سے زیادہ ہے، عثمان کاکڑ

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بعض سینیٹرز ارب پتی ہیں وہ تنخواہ کا ایک ڈیڑھ لاکھ بھی نہیں چھوڑ رہے، 17 گریڈ کے افسرکی تنخواہ بھی ہم سے زیادہ ہے‘۔

عثمان کاکڑ نے مزید کہا کہ ’بعض سرکاری عہدیداروں کی تنخواہ لاکھوں روپے ہے، سواتی صاحب ہمت کریں تو پوری پارلیمنٹ کو پال سکتے ہیں، اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہیے، ہم اس بل پر سیاست نہیں کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی سیکریٹریز اور خود مختار اداروں کے سربراہوں کی تنخواہ لاکھوں روپے ہے، ایوان کی اکثریت چاہتی ہے کہ اراکین کی تنخواہیں بڑھیں، وہ دل میں چاہتے ہیں کہ تنخواہ بڑھے لیکن سیاست کرتے ہیں۔

عثمان کاکڑ نے کہا کہ ہم ابھی سترہ گریڈ افسرکی تنخواہ بھی نہیں لے رہے ہیں، اس ایوان کو اتنا بھی نیچا نہیں کرنا چاہیے، میں نے زندگی میں ایک روپے کا کاروبار نہیں کیا ، زندگی بھر سیاست کی، تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہیے، چاہے اسپیکر یا چیئرمین یا ممبران کی ہو۔

ناانصافی تو ہے لیکن حکومت بل کی مخالفت کرے گی، اعظم سواتی

اپنے خطاب میں پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ حقائق کو دیکھا جائے تو نصیب اللہ بازئی جو کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے، محتسب اعلیٰ کی تنخواہ 14 لاکھ اورسیکرٹری کی 3 لاکھ ہے، ریگولیٹری اتھارٹی سربراہان کی تنخواہ سات 8 لاکھ روپے ہے، یہ سارا نظام ناانصافی پر مشتمل ہے، تاہم حکومت بل کی مخالفت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جو ملک کے معاشی حالات ہیں، لوگ مشکل حالات سے گزر رہے ہیں تاہم اس بل پر بحث ہونی چاہیے، کوئی بری بات نہیں، پارلیمان کا ہر ممبر امیر نہیں ہے النتہ بلز کو قومی اسمبلی سے شروع ہونا چاہیے، یہ منی بل ہیں جس کی شروعات قومی اسمبلی سے ہوتی ہے، سینیٹ سے نہیں ہونی چاہیے، اس پر بحث ہونی چاہیے کہ چیئرمین سینیٹ، اسپیکر اور ممبران کی کیا تنخواہ ہے۔

(Visited 50 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں