روحیں گھروں کو کب اور کیوں واپس آتی ہیں ؟

روحیں

حضرت علی کی محفل میں لوگ اکثر سوالات کیا کرتے تھے جو کہ مختلف موضوعات کے حوالے سے ہوا کرتے تھے کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت علیؓ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے آپؓ کی محفل میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے تھے جن میں حضرت سلیمان فارسیؓ نے حضرت علیؓ سے سوال کیا کہ کیا فوت ہونے کے بعد بھی والدین کی روحیں گھروں کو لوٹتی ہیں تو حضرت علیؓ نے فرمایا اے سلیمانؓ جب والدین فوت ہو جاتے ہیں تو ان کی روحیں اپنے بچوں کے پاس آتی ہیں وہ اپنی اولاد سے فریاد کرتی ہیں اور اپنی اولاد سے سوال کرتی ہیں کہ وہ صدقات اور نیک اعمال کے ذریعے ان پر مہربانی کریں وہ اپنے لیئے دعاوں کا سوال کرتی ہیں تو اس پر حضرت سلیمانؓ نے اعتراض کیا کہ اے علیؓ ماں باپ کی روحیں کیوں لوٹتی ہیں ؟ تو اس پر حضرت علیؓ نے فرمایا جب والدین فوت ہو جاتے ہیں تو ان کا اپنا اعمال نامہ بند ہو جاتا ہے مرنے کے بعد وہ اپنی اولاد اور رشتے داروں کے محتاج ہو جاتے ہیں کہ ان کے نام پر کوئی صدقہ کرے کوئی ان کے لیئے نیک عمل کرے تاکہ ان کے درجات بلند ہو سکیں اور ان کی آزمائش میں کمی ہو سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کی ارواح گھروں میں لوٹتی ہیں اور فریاد کرتی ہیں کہ انہیں بھی دعاوں میں یاد رکھا جائے ۔ ان کے لیئے اعمال کیئے جائیں اور صدقہ دیا جائے پھر سلیمانؓ نے دوبارہ پوچھا یہ روحیں کب کب گھروں کو لوٹتی ہیں تو حضرت علیؓ نے فرمایا یہ روحیں ہفتے میں ایک دن گھروں کو لوٹتی ہیں اور وہ دن جمعرات کا دن ہے یعنی جمعے کی رات کو یہ روحیں اپنے گھروں آتی ہیں ۔ اور چیخ چیخ کر اپنوں کو پکارتی ہیں لیکن جو لوگ زندہ ہیں وہ ان کی آواز نہیں سن سکتے وہ اپنے دنیاوی کاموں میں مگن رہتے ہیں لہذا یہ روحیں مایوس ہو کر واپس لوت جاتی ہیں سوائے ان کے جن کی اولاد نیک وکار ہو اور اپنے والدین کے لیئے اعمال ہدیہ کے اور ان کے لیئے دعا کرے پھر حضرت علیؓ نے فرمایا اے سلیمانؓ یاد رکھنا اپنے مرحومین کے لیئے دعا کرتے رہنا جب کوئی اپنے مرحوم والدین کے لیئے دعا کرتا ہے تو ان کی روحیں اللہ تعالی سے فریاد کرتی ہیں کہ اے اللہ جس طرح ہماری اولاد نے ہمیں یاد رکھا اور ہم پر احسان کیا ہمیں اپنی دعاوں میں یاد رکھا تو ان پر رحم فرما ان کی دنیاوہ پریشانیوں کو ختم کر دے اور ان کے لیئے آسانیاں پیدا کر دے ۔
یہ تھا حضرت علیؓ کا فرمان ۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ روحیں ہر جمعرات کو اپنے گھروں میں آتی ہیں ۔
اس کے علاوہ کچھ اور روایات سے بھی روحوں کا گھروں میں آنا ثابت ہوتا ہے ۔
حضرت سعد بن مسعد سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان فارسی اور عبداللہ بن سلیمان ایک دوسرے سے گلے ملے تو کہا اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کر گئے تو مجھے خبر دینا وہاں کیا پیش آیا پوچھا کیا زندہ مردے سے بھی مل سکتا ہے ؟ فرمایا ہاں مسلمانوں کی روحیں تو جنت میں ہوتی ہیں انہیں اختیار ہوتا ہے کہ جہاں چاہیں جائیں ۔

میرے آقا میرے نبی صلی اللہ علیھ والہ وسلم کو کون ستا رہا ہے؟

اسی طرح حضرت عمر بن امر کا فرمان ہے کہ دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور کافر کی جنت ہے ۔
جب مسلمان مرتا ہے تو اس کی راہ کھول دی جاتی ہے جہاں چاہے جائے ۔ روح وہ امر ربی ہے جس کے حکم کے ماتحت ہمارا وجود شروع ہوتا ہے ۔قرآنی تعلیمات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ روح کا مادہ نور ہے ۔ اور یہ نور توانائی کی ایک قسم ہے جس طرح ملائکہ نور سے پیدا ہوئے اسی طرح سائنسی تحقیق کے مطابق روح انسان کا وہ حصہ ہے جس کا موت بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ روح اللہ کے فیصلے کا نام ہے ۔ اس سے زیادہ جانا نہیں جا سکتا ۔ انسان کے پاس جو کچھ علم ہے وہ بہت کم ہے بلکہ دیا ہی نہیں گیا جب کہ روح کو سمجھنے کے لیئے زیادہ علم چاہیئے جو مخلوق کی شان کے لائق نہیں ماں باپ اپنی اولاد کے لیئے خدا کے فضل و کرم کا ذریعہ ہیں اور خدا کی رضا ان کی رضا میں ہے اس لیئے خدا نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا وہاں والدین کے ساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ۔ اللہ تعالی نے والدین کا بہت بڑا درجہ رکھا ہے ۔ حضرت محمدؐ نے والدین کے حقوق واضح کیئے ہیں یہاں تک بھی آتا ہے کہ والدین کی رضا میں اللہ کی رضا ہے اور والدین کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے ۔
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں حکم دیا ہے کہ
والدین کے سامنے اف تک نا کہو ۔ اللہ تعالی نے والدین کی فرمانبرداری پر اجر رکھا جبکہ نافرمانی پر عذاب . .
والدین میں والدہ کا درجہ اونچا رکھا ۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ۔ اور مرنے کے بعد ہمارا مذہب یہ درس دیتا ہے کہ والدین کے لیئے ایثال ثواب کریں ۔ تاکہ ان کی کمی پیشی کو اللہ تعالی دور فرما دیں ۔ اور ان کو بخش دیں اور ان کے درجات بلند فرما دیں ۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں بھی والدین کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرما دیں اور مرنے کے بعد ان کو ایثال ثواب کرنے کی توفیق بخشیں۔ آمین ثم آمین ۔

(Visited 216 times, 1 visits today)

Comments

comments

اسلام, حضرت علی کی محفل, روح, روحیں,

اپنا تبصرہ بھیجیں