کرونا وائرس دنیا میں کب تک رہے گا… ؟ حیران کن انکشاف سامنے آگیا…!

امریکہ کے ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے حوالے سے انتہائی حیران کن انکشاف کیا ہے

سی ڈی سی ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس کے چار مریضوں میں سے ایک مریض ایسا ہوتا ہے جس میں کرونا وائرس کی کوئی علامات بظاہر نظر نہیں آتی اور وہ شخص اس بات سے بالکل بے خبر ہوتا ہے کہ یہ بھی کرونا وائرس کا شکار ہے.

اسی شخص کی کرونا وائرس میں مبتلا ہونے سے لاعلمی اس وائرس کو دوسرے لوگوں تک پھیلانے کا سب سے بڑا سبب بنتی ہے. ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺭﺍﺑﺮﭦ نے اس بات کی بھی پیشن گوئی کی ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وائرس اس دنیا میں دو سال تک موجود رہے گا.

ڈاکٹر رابرٹ نے مزید انکشافات بھی کیے ان کا کہنا ہے کہ 25 فیصد لوگوں میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتی ہیں.

کرونا وائرس سے اٹلی میں ہی کیوں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں…. ؟

جن لوگوں میں کرونا وائرس کی کوئی بھی علامات ظاہر نہیں ہوتیں یہی لوگ کرونا وائرس کے آگے سے آگے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب ہے.

کیونکہ انہیں خود بھی صبح بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کرونا وائرس کا شکار ہیں اور اسی وجہ سے دوسرے لوگ بھی اس وائرس سے متاثر ہوتے جاتے ہیں.

loading...

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسی لئے ہم لوگوں کو بار بار یہ ہدایت کررہے ہیں کہ بلاضرورت بالکل گھر سے باہر مت نکلیں اور ایک دوسرے سے ملنا جلنا ختم کردیں.

جس شخص نے کرونا وائرس کی کوئی علامت بھی نہیں ہے اس سے بھی چاہئے کہ وہ گھر سے باہر نہ نکلے چاہے وہ کتنا ہی صحت مند کیوں نہ ہو اور ان حالات میں ایک دوسرے سے ملنے سے پرہیز کریں.

ان کا مزید کہنا تھا کہ مختلف ممالک میں کرونا وائرس کی ویکسینیشن کے لیے ٹرائل جاری ہیں. اگر کوئی ملک اس کی ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے تو اس کو مارکیٹ میں آنے تک 12 سے18 مہینے لگ سکتے ہیں.

ویکسینیشن کے آنے سے پہلے اس وائرس سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہی ہے جو اس وائرس کو پھیلنے سے روک سکتی ہے. لہذا دنیا کے تمام ممالک کے لوگ اس معاملے کو سنجیدہ لے اور ہدایات پر عمل کریں .

(Visited 249 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں