ادب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور معاشرتی احکام

معاشرتی احکام

اللہ تعالی کے آگے نہ بڑھنا

اللہ نے اس دنیا کو بنایا اور اس میں بے شمار مخلوق کو پیدا کیا اور تمام مخلوق صرف اللہ تعالی کی ہی عبادت کرتی ہے اور صرف اسی کے آگے سجدہ کرتی ہے اور اللہ انسان کو جو بھی چاہے حکم دے اور انسان کو چاہے کہ ا سے پورا کرے کیونکہ حکم اس پر لازم ہے اور جیسا اللہ تعالی نے قرآن میں بتایا ہے ہم نے ویسے ہی چلنا چاہیے خود سے کوئی بھی چیز  نہیں کرنی۔

رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نہ بڑھنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے بڑھنے سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے علاوہ کوئی کام کرنا مطلب جس بات کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ہی نہیں دیا وہ کام کرنا آپ صلی اللہ وسلم اور اللہ تعالی کے خلاف جانا ہے جو شخص ایسا کرتا ہے وہ کافر ہے اور کافی ہی ایسا کرتے ہیں بس جو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے   بتایا ہے ہمیں ویسے ہی چلنا چاہیے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔

پرہیزگاری اختیار کرنا

پرہیزگاری کرنا بہت اچھا کام ہے اور اللہ تعالی پرہیزگاری کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے وہ بھی اللہ تعالی کے بہت قریب ہوتا ہے ہم لوگوں کو برے کاموں سے پرہیز کرنا چاہیے غلط چیزوں سے اور غلط لوگوں سے بھی پرہیز کرنا چاہیئے اور اس بری چیز سے پرہیز کرنا چاہیے جو اللہ تعالی کے ہاں
ناپسند کی جاتی ہے اور برائی کو ختم کرنا چاہیے

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا پیروی کرنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زندگی گزارنے کے لئے ہر طریقے کا بتایا ہے اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر چلتے ہیں تو ہم بہترین انسان بن سکتے ہیں اللہ تعالی نے فرمایا کہ جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی گویا اس نے میری اطاعت کی

اہل علم کی قدر کرنا

loading...

اہل علم کی قدر کرنا مطلب جو لوگ دین کی تعلیم سے واقف ہیں جن کے پاس دین کی تعلیم ہے ان کا ادب کرنا چاہیے اور حافظ قرآن کا ادب کرنا چاہیے کیونکہ اس کے دل میں اللہ تعالی کا کلام ہے اور یہ اس انسان کے دل میں ہے جس کے پاس دین کی تعلیم ہے

اعمال کا ضائع ہونا

اعمال کا ضائع ہونے سے مراد ہے کہ ہماری نیکیوں کا ضائع ہونا جب ہم گناہ کرتے ہیں تو ہمارے نیک اعمال سب ضائع ہو جاتے ہیں اور قیامت کے دن جس انسان کی نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہوگا تو وہ جہنم میں جائے گا اس لئے ہمیں گناہ سے پرہیز کرنا چاہئے اور اپنے اعمال کو ضائع ہونے سے بچانا چاہیے

دلوں کا امتحان

دلوں کے امتحان سے مراد ہے کہ ہم اپنے امتحان کو پکارتے ہیں جو لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں اور ہمیں اسلام سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہی ہمارے دل کا امتحان ہوتا ہے

نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کو ہجرے کے باہر سے نہ پکارنا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرے کے باہر سے پکارنا بری بات ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر ہوتے تھے تو صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ انہیں باہر سے آواز دیتے تھے جو کہ ایک غلط بات تھی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی منع نہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرے  کے باہر سے پکارنا غلط بات ہے

(Visited 29 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں