دورۂ انگلینڈ: پاکستان ٹیم کا طویل کیمپ لگانے کی مخالفت

کراچی: دورۂ انگلینڈ کیلیے پاکستان ٹیم کا طویل کیمپ لگانے کی مخالفت ہونے لگی، پلیئرز کا موقف ہے کہ ٹور میں ہی تیاریوں کا کافی وقت مل جائے گا،

ملک میں ایک ماہ تک کیمپ میں رہنے کا مطلب مجموعی طور پر تین مہینوں کیلیے اہل خانہ سے دور رہنا ہوگا، دوسری جانب پی سی بی 10 سے 15 دن کے کیمپ کیلیے مختلف آپشنزپر کام کر رہا ہے، اس میں 10 ،10 کے گروپس کو بلانے یا لاہور اور کراچی میں الگ ٹریننگ کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹیم کو جولائی میں انگلینڈ جانا ہے جہاں اگست میں تین ٹیسٹ اور اتنے ہی ٹی 20 میچز کی سیریز ہوگی، تیاریوں کیلیے پی سی بی لاہور میں بائیو سیکیور ماحول بنانے کیلیے کوشاں ہے، ابتدا میں یہ کہا گیا تھا کہ کھلاڑی جون کے اوائل تک پہنچ کر تیاریوں کا آغاز کر دیں گے،

وقار یونس کا شاہد آفریدی اور گوتم گھمبیر کو مشورہ

پھر ٹیم وہیں سے براہ راست انگلینڈ چلی جائے گی، البتہ اب مختصر کیمپ لگانے کی تجویز سامنے آئی ہے، ذرائع کے مطابق بعض کھلاڑیوں نے ٹیم مینجمنٹ سے کہ اکہ ایک ماہ لاہور اور پھر 2 ماہ انگلینڈ میں گذارنے سے وہ طویل عرصے اپنے اہل خانہ سے دور رہنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

loading...

انگلینڈ پہنچ کر ویسے بھی کئی روز تک تیاریوں کا موقع بھی ملے گا،اگر ملک میں چند روز کا کیمپ لگایا جائے تو مناسب رہے گا، پی سی بی کے ڈائریکٹر میڈیکل اینڈ اسپورٹس سائنسز ڈاکٹر سہیل سلیم، ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ ذاکر خان اور ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر مصباح الحق اس حوالے سے مختلف آپشنز پر کام کر رہے ہیں، 10 سے 15 دن کا کیمپ لگانے کا امکان روشن ہے، اس میں بھی 2 شہروں کا انتخاب ممکن ہوگا، پلیئرز لاہور کے ساتھ کراچی میں پریکٹس کر سکتے ہیں۔

ریجنل اکیڈمی میں رہائش کا انتظام بھی موجود ہے، وہاں ان کیلیے بائیو سیکیور ماحول تشکیل دینا ہوگا، ایک تجویز یہ بھی ہے کہ گروپس کی صورت میں 10،10 کرکٹرز کو لاہور میں ہی کیمپ کیلیے بلایا جائے، اس حوالے سے جلد پیش رفت متوقع ہے، پی سی بی کوانگلینڈ کی جانب سے حتمی شیڈول کا انتظار ہے، مجوزہ طور پر ٹیم 5 جولائی کو روانہ ہو جائے گی جہاں 5 اگست سے پہلا ٹیسٹ شروع ہوگا، البتہ ابھی حتمی وینیوز کا نہیں بتایا گیا، بورڈ ٹریننگ کیمپ کیلیے ایس او پیز بنا رہا ہے، حکومت نے کھیلوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

لہذا پہلے اس سے اجازت لینا ہوگی، نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بائیو سیکیور ماحول بنانا بھی آسان نہیں، کھلاڑیوں کے کھانے اور کمروں کی صفائی کا انتظام کرنے کیلیے بھی اسٹاف کی ضرورت ہو گی،وہ روڈکراس کر کے اکیڈمی سے اسٹیڈیم جائیں گے اس ایریا کو بھی سیکیور بنانا ہوگا

(Visited 14 times, 1 visits today)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں