مرد اور عورت پر غسل کب واجب ہوتا ہے …!

Loading...

صحابہ کرام کے درمیان ایک مرتبہ غسل جنابت کا مسئلہ زیر بحث آیا ایک گروہ کا کہنا تھا کہ غسل صرف دخول پہ فرض ہو جاتا ہے یعنی انزال شرط نہیں جب کہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ وجوب غسل کے ساتھ انزال بھی شرط ہے ۔

ان دونوں گروہوں میں طویل بحث و مباحثہ ہوا اور پھر فیصلہ کیا گیا کہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے یہ معاملہ دریافت کیا جائے ۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ حضور پاکؐ نے فرمایا ؛ جب مرد عورت کی تمام شاخوں کے درمیان بیٹھ جاتا اور اس کا محلہ ختنہ عورت کے محلہ ختنہ کے ساتھ مسک کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے تو مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ صرف دخول پر ہی مرد اور عورت جنبی ہو جاتے ہیں اور ان پر غسل واجب ہو جاتا ہے انزال شرط نہیں ۔

جنابت کے احکام ؛

وجوب غسل کی حالت کو حالت جنابت کہتے ہیں وجوب غسل یعنی جب غسل واجب ہو جائے ۔ ان چار حالتوں میں مرد و عورت پر غسل واجب ہو فرض ہو جاتا ہے ۔
1 جوش کے ساتھ منی خارج ہونے کے بعد اس میں احتلام بھی شامل ہے ۔
2 صحبت کے بعد
3 حیض کے بعد
4 نفاض کے بعد ( یعنی بچے کی پیدائش کے بعد )

خواتین کے انٹرنل چیک اپ کرانے سے غسل واجب نہیں ہوتا جب تک کہ ان چار حالتوں میں سے کوئی حالت نا ہو ۔
حضور پاکؐ نے فرمایا
” جب تم عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ کر صحبت کرو تو تم پر پاک ہونا واجب ہو گیا ” آپؐ نے انصار کی خواتین کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ انصار کی خواتین کتنی اچھی ہیں جنہیں حیا دین کا علم حاصل کرنے سے نہیں روکتی ۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی تفصیلات آخر کیوں؟ بعض لوگ اس کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہیں ایسا کرنا ناسمجھی کی علامت ہے کیونکہ انسان اگر احکام خدا پر عمل کرتا ہے تو اس میں ہی خیر ہے اور وہ خیر سب کی بھلائی کا سبب بنتی ہے ۔ عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے۔

ام المومنین حضرت سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ حضرت ام سلیم نے حضرت محمدؐ سے کہا اے اللہ کے رسول یقینًا اللہ حق سے نہیں شرماتا۔ کیا عورت پر غسل واجب ہے جب اس پر احتلام ہو ؟ ہاں لیکن جب پانی کا نشان دیکھے ۔ اس پر حضرت ام سلمہ نے شرم سے منہ چھپا لیا پھر عرض کیا اے رسول اللہ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے فرمایا ہاں ہوتا ہے۔

یاد رہے اس میں لیکوءریا شامل نہیں ہے ۔ ان دونوں میں فرق ہے . احتلام سوتے وقت ہوتا ہے سو کر اٹھنے پر انسان اگر اپنے کپڑوں پر پانی کا نشان دیکھے تو غسل کرنا ضروری ہے خواہ اسے خواب یاد ہو یا نا ہو۔ اگر نشان نا دیکھیں تو غسل واجب نہیں ہو گا۔

Loading...

پھر حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا میں اپنے بال مضبوطی سے باندھتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے وقت انہیں کھولوں ؟ فرمایا ان کا کھولنا ضروری نہیں ۔ تیرے لیئے یہی کافی ہے کہ تین چلو پانی اپنے سر پر ڈالے پھر اپنے بدن پر پانی بہائے پس تو پاک ہو جائے گی ۔یعنی بالوں کی جڑیں بھیگنا ضروری ہیں بال کھولنا ضروری نہیں ۔

جنبی کے بالوں کا مسئلہ

حضرت عائشہؓ کو خبر ملی حضرت عبداللہ ابن عامر عورتوں کو غسل جنابت کے لیئے بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں فرمایا ابن عامر پر تعجب ہے انہوں نے عورتوں کو تکلیف میں ڈال دیا وہ انہیں سر منڈوانے کا حکم کیوں نہیں دے دیتے ۔ یہ حضرت عائشہؓ کی ڈانٹ تھی۔

عالم کی فضیلت …..!

پھر فرمایا میں اور رسول اللہؐ ایک ہی برتن میں غسل کرتے اور میں اپنے بال کھولے بغیر سر پر تین چلو سے زیادہ پانی نہیں ڈالتی۔ معلوم ہوا غسل جنابت کے لیئے بال کھولنے کی ضرورت نہیں مگر یہ حکم صرف غسل جنابت کا ہے,

غسل حیض کے لیئے بالوں کو کھولا جائے گا۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضور پاکؐ نے غسل حیض کے لیئے فرمایا ” اپنے بال کھولو اور غسل کرو ” اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوں میں فرق کیوں ؟
حیض ایک نجاست کی کیفیت ہے لیکن غسل جنابت میں نجاست کی وہ کیفیت نہیں ہے۔ حیض کے خون اور منی دونوں کے حکم میں فرق ہے۔

بعض علماء کے نزدیک منی اتنی ناپاک چیز نہیں ہے اگر کسی کپڑوں وغیرہ کو لگ جائے تو خشک ہونے پر اسے کھرچ دیا جائے تو اس سے کپڑے صاف ہو جاتے ہیں لیکن حیض کے خون کے بارے میں حضورؐ نے فرمایا کہ اسے مل مل کر دھوئیں۔

ڈاکٹر فرحت ہاشمی

(Visited 128 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں