مجھ سے پہلے سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کرپشن کا گڑھ تھی، زلفی بخاری

زلفی بخاری
Loading...

اسلام آباد:وزیراعظم کے مشیر برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار عباس بخاری (زلفی بخاری) کا کہنا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے لیے وزیراعظم عمران خان نے ان کا باقاعدہ انٹرویو کیا اور وزیر تجارت رزاق داؤد سے بھی ان سے اس موضوع پر سوالات کروائے اور ان دونوں کے مطمئن ہونے کے بعد ہی انہیں یہ قلمدان ملا۔

کلبھوشن یادیو کیلئے قونصلر مقرر کرنے کی درخواست پر آج سماعت ہوگی

بین الاقوامی اردو ویب سائیٹ کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران زلفی بخاری نے کہا کہ مجھے سمندر پار پاکستانی کی وزارت چاہیے تھی۔ میں سمجھتا تھا کہ میں اس میں سب سے زیادہ فٹ ہو سکتا ہوں۔ دو سال کے دوران ہی میں نے اپنا انتخاب درست ثابت کردیا ہے۔ مجھ سے پہلے سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کرپشن کا گڑھ تھی لیکن اب اس کو ایک ناکام ڈویژن سے بدل کر کامیاب اورسرگرم ترین محکمہ بنا دیا گیا ہے۔

مشیر برائے سمندر پار پاکستانی کا کہنا تھا کہ 2 سال میں انہوں نے اپنا انتخاب درست ثابت کردیا ہے اور پانچ سال گزرنے پر ان کے سمندر پار پاکستانیوں کے بارے میں تصور کو مکمل طور پر عملی جامہ پہنا دیا جائے گا۔

زلفی بخاری نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ اپنے آبائی وطن میں ان کی زمینوں پر قبضہ ہے اور قبضوں کے بعد یہ معاملات عدالتوں میں چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے حکومت اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتی اور قبضہ چھڑانے کے لیے متاثرین کی مدد نہیں کر پاتی۔ اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کی زمینوں کے تنازعات حل کرنے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرے گی اور اس سلسلے میں پہلی عدالت جلد اسلام آباد میں کام شروع کر دے گی جس کی کامیابی کے بعد صوبائی سطح پر مزید عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

Loading...

مشیر برائے سمندر پار پاکستانی کا کہنا تھا کہ جعلی اور دھوکے باز ایجنٹ لوگوں کو غلط طریقے سے بیرون ملک بھیج کر نہ صرف ان کو کم تنخواہوں پر کام اور غیرمعیاری رہائش گاہوں میں قیام پر مجبور کرتے ہیں بلکہ ملک کی بدنامی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ان ایجنٹس کی سرکوبی کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں، ہم نے ایسے 406 معاملات کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو بھیجے ہیں جب کہ اب تک 30 پاکستانی ایجنٹوں کے لائسنس کابینہ کے زریعے منسوخ کیے جا چکے ہیں، اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں 18 کمپنیوں کو وہاں کی حکومت کی مدد سے بند کروایا جا چکا ہے۔

ذوالفقار عباس بخاری کا کہنا تھا کہ کورونا بحران کے دوران صرف 55 ہزار کے قریب بیرون ملک پاکستانی بے روزگار ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 50 ہزار کے قریب وہ لوگ واپس آئے ہیں جو چھٹی پر تھے جب کہ ایک لاکھ لوگ ایسے ہیں جو پہلے چھٹی پر تھے اور کورونا کی وجہ سے کام پر واپس نہیں جا سکے۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ چھٹیوں پر آنے والوں اور واپس نہ جا سکنے والوں کی بیرون ملک نوکریاں ختم نہ ہوں۔

مشیر برائے سمندر پار پاکستانی کا کہنا تھا کہ او پی ایف (سمندر پار پاکستانیوں کی فاؤنڈیشن) خسارے کا شکار ادارہ تھا لیکن 8 ماہ کے اندر ہم نے اسے منافع بخش بنادیا ہے ۔ ہم نے او پی ایف سوسائٹی کا گیارہ سالہ پرانا مسئلہ حل کر دیا ہے اور عید کے فوری بعد اس کے فیز 5 میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی زمین ان کے حوالے کر دی جائے گی۔

(Visited 15 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں