حاملہ خواتین پلازما عطیہ کیوں نہیں کر سکتیں ….؟

پلازما عطیہ
Loading...

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے علاج کے لیے کرونا وائرس سے صحتیاب ہونے والا ہر مریض پلازما کا عطیہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے چند شرائط ہیں جن میں حاملہ خاتون کا پلازمہ عطیہ نہ کیاجانا شامل ہے۔

بھارتی ای بی ایل ایس کے ڈائریکٹر ایس کے سرین نے انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز کو بتایا ہے کہ وہ خواتین جو ماں بن چکیں یا پھر حاملہ ہیں ان کا پلازمہ کورونا کے مریضوں کو نہیں لگانا چاہیے کیونکہ وہ فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتا ہے۔

عام طور پر خون دیتے وقت اس طرح کی احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن پلازما کے عطیہ کے معاملے میں ایسا کرنے کی خاص وجہ ہے۔دلی کے میکس ہسپتال میں بلڈ بینک کی سربراہ ڈاکٹر سنگیتا پاٹھک نے بتایا کہ حالانکہ پلازما کے لیے بھی جسم سے خون ہی نکالا جاتا ہے لیکن خون دینے اور پلازما دینے میں فرق ہے۔ پلازما تھیراپی کے لیے جب خون لیا جاتا ہے تو اس میں سے پلازما نکال کر خون کو جسم میں واپس ڈال دیا جاتا ہے۔

کورونا سے زیادہ بھوک کا خطرہ، عالمی ادارہ آکسفیوم نے وزیراعظم عمران خان کے مؤقف کو تسلیم کرلیا، بھوک سے متاثرہ ممالک کی فہرست جاری

انھوں نے بتایا کہ ’اس لیے ان دونوں عطیوں کے اصولوں میں فرق ہے۔ حاملہ خواتین کے پلازما سے کووڈ 19 کے مریضوں کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے وہ پلازما نہیں دے سکتیں۔ ان کے پلازما سے مریض کو ٹرانسفیوژن ریلیٹڈ ایکیوٹ لنگ انجری (ٹی آر اے ایل آئی) ہو سکتی ہے۔‘ جو اس کے سانس لینے میں مشکل پیدا کرسکتا ہے۔

loading...

انھوں نے بتایا کہ ’خواتین میں حمل ٹھہر جانے کے بعد مرد کے جسم سے داخل ہونے والے عناصر کے خلاف اینٹی باڈیز بنتی ہیں، کیونکہ جسم اسے بیرونی عنصر مانتا ہے۔ ان اینٹی باڈیز کو ہیومن لیوکوسائٹ اینٹیجن اینٹی باڈی (ایچ ایل اے اینٹی باڈیز) کہا جاتا ہے۔ کسی خاتون کے جسم میں جتنے زیادہ بچے ہوں گے، اس کے جسم میں اتنی زیادہ اینٹی باڈیز ہوں گی۔‘

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 5 لاکھ 40 ہوگئی

اسی طرح جن خواتین کا حمل ضائع ہو جاتا ہے وہ بھی پلازما کا عطیہ نہیں کر سکتی ہیں کیوں کہ ان میں بھی ایچ ایل اے اینٹی باڈیز موجود ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر یہ بھی کہتے ہیں کہ بلند فشارِ خون، ذیابیطس، دل، پھیپھڑوں اور جگر کے امراض میں مبتلا افراد بھی اپنا پلازما نہیں دے سکتے۔

ڈاکٹر سنگیتا پاٹھک نے بتایا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہے تو اس کا جسم مرض سے نمٹنے کے لیے جو حربے اپناتا ہے وہ سبھی پلازما کے اندر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کورونا وائرس سے مقابلے کے دوران جو اینٹی باڈی بنتی ہے وہ پلازما کے اندر ہوتی ہے۔

اگر ہم بیمار شخص کا پلازما لیں گے تو وہ اور زیادہ بیمار ہو سکتا ہے۔ اس سے کووڈ کی اینٹی باڈیز کے ساتھ ساتھ اس کے جسم میں دوسرے امراض کا مقابلہ کرنے کے لیے موجود اینٹی باڈیز بھی نکل جائیں گی۔

(Visited 15 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں